بھانگڑھ قلعہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بھانگڑھ قلعہ
भानगढ दुर्ग
راجستھان، بھارت
BhangarhFort2.jpg
بھانگڑھ قلعہ
بھانگڑھ قلعہ is located in راجستھان
بھانگڑھ قلعہ
بھانگڑھ قلعہ
راجستھان میں بھانگڑھ قلعہ
متناسقات 27°5′45″N 76°17′15″E / 27.09583°N 76.28750°E / 27.09583; 76.28750متناسقات: 27°5′45″N 76°17′15″E / 27.09583°N 76.28750°E / 27.09583; 76.28750
قسم قلعہ اور متروکہ شہر
مقام کی معلومات
مالک لارڈ سیلاس (سابق)
حکومت ہند (موجودہ)
عوام کے
لیے داخلہ
ہاں
حالت ویران، ایک سیاحتی مقام
مقام کی تاریخ
تعمیر 1613ء
تعمیر بدست مدھو سنگھ اول
مواد پتھر اور اینٹیں

بھانگڑھ قلعہ (ہندی/راجستھانی: भानगढ़ दुर्ग، ”بھانگڑھ دُرگ“) سترہویں صدی عیسوی کا ایک قلعہ جو بھارتی ریاست راجستھان میں واقع ہے۔[1] اسے مان سنگھ اول (اکبر کے نورتنوں میں سے ایک) نے اپنے چھوٹے بھائی مدھو سنگھ اول کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ اس قلعہ کا نام مدھو سنگھ اول نے اپنے دادا بھان سنگھ کے نام پر رکھا۔ نیز قلعہ کی فصیل کے باہر 200 گھروں کی 1،306 نفوس کی آبادی پر مشتمل ایک نیا گاؤں بھانگڑھ تعمیر کیا گیا۔ بعد میں یہ گاؤں اجڑ گیا تاہم قلعہ اور اُس کی حدود محفوظ ہیں۔[2][3]

جغرافیہ[ترمیم]

قلعہ بھانگڑھ کا بیرونی نظارہ۔

قلعہ بھانگڑھ راجستھان کے ضلع الور کے پہاڑی سلسلہ اراولی[4] میں سارسکا نیشنل پارک کی حدود میں واقع ہے۔[5] یہاں سے قریب ترین گاؤں ”گولکاباس“ ہے۔[2]تین اطراف سے پہاڑوں اور ایک طرف سے گھنے درختوں کے بیچ ٹوٹے پھوٹے در و دیوار والا یہ کھنڈر خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے[6]

قلعہ دہلی سے 235 کلومیٹر (771,000 فٹ) کے فاصلے پر واقع ہے اور آخری 2 کلو میٹر (1.2 میل) میں قلعہ کے قریب ایک سڑک آتی ہے جو ایک کچی سڑک ہے۔[5] یہ تھانا غازی سے 20 میل (32 کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ہے۔[6]

داستانیں[ترمیم]

بھارت کی راجدھانی دہلی سے تقریباً دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس جگہ کا شمار نہ صرف بھارت بلکہ ایشیا کی پراسرار جگہوں میں ہوتا ہے۔ اس مقام سے کئی عجیب و پراسرار واقعات وابستہ ہیں، جس کی وجہ سے یہ ”بھوت بنگلے“ کے نام سے مشہور ہے۔ بھانگڑھ قلعے میں سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈھلنے کے بعد داخلے پر پابندی عائد ہے۔[7]

قلعہ بھانگڑھ کا چاروں طرف کا مُسلسل نِظارہ۔
  • پہلی روایت مان سنگھ اول اور مدھو سنگھ کے والد راجا بھگونت داس سے منسوب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بھگونت داس نے جب بھانگڑھ بسانے کا فیصلہ کیا تو اس جگہ پر ایک سنیاسی بابا ”بالو ناتھ“ طلبِ نروان کے لیے آباد تھا۔ جب بالو ناتھ کو بھگونت داس کے بسانے والے منصوبے کا علم ہوا تو راجا نے بالو ناتھ سے کئی بار اجازت مانگی اور درخواست کی مگر ہر بار بالو ناتھ نے یہ کہہ کر درخواست رد کردی کہ شہر آباد ہونے سے اُس کی عبادت و ریاضت میں خلل واقع ہوگا۔ بالآخر راجا کے بے پناہ اصرار اور یقین دہانیوں کے بعد بالو ناتھ نے اس شرط پر شہر بسانے اور قلعہ تعمیر کرنے کی اجازت دے دی کہ دیواریں اتنی اونچی نہ ہوں کہ اُس کی کٹیا پر ان کا سایہ پڑے۔ راجا نے اُس کی شرط کو منظور کرکے قلعہ تعمیر کروایا مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ لوگ سنیاسی بالو ناتھ کی ہدایت کو بھول گئے اور جب عجب سنگھ یہاں کا حکمران بنا تو اُس نے قلعے کی دیواریں اونچی کر دیں جس سے بالو ناتھ کی عبادت میں خلل پڑا اور اُس نے بد دعا دی اور پورا شہر تباہ وبرباد ہو گیا۔ روایات کے مطابق بالو ناتھ کی سمادھی بھانگڑھ کے اندر ہی کہیں موجود ہے اور وہ ہر روز سورج ڈھلنے کے بعد نمودار ہوتا ہے۔[8][9]
  • دوسری روایت راجا مدھو سنگھ کی بیوی ”رتنا وتی“ سے منسوب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ خوبصورتی کے ساتھ ساتھ کافی ذہین تھی۔ بھانگڑھ باسی ان کی خوبصورتی سے بے حد متاثر تھے جن میں متاثرین میں سے ایک کا نام ”سنگھیا“ تھا۔ سنگھیا کالے علوم کا ماہر تھا اور رتنا وتی کے عشق میں مبتلا ہو گیا تھا۔ اُس نے ایک دن عطر کی پوتل پر کالا علم کرکے کنیز کے توسط سے رانی تک پہنچائی، مگر رانی نے وہ عطر نہیں سونگھی کیونکہ وہ سنگھیا کے ارادوں سے اچھی طرح واقف تھی۔ رانی نے وہ عطر کی پوری کی پوری پوتل ایک چٹان پر الٹ دی۔ جس کے نتیجے میں وہ چٹان سنگھیا کے عشق میں مبتلا ہوکر سنگھیا کے جانب لڑھکنے لگی، یہ منظر دیکھ کر اُس نے رانی کو بد دعا دی اور چٹان تلے آکر مارا گیا۔ اور اُسی رات پورا کا پورا شہر پراسرار طور پر تباہ ہو گیا۔[10][9]
  • تیسری روایت دوسری واقعے سے ہی ملتی جُلتی ہے مگر اس میں فرق اتنا ہے کہ سنگھیا کی طرح رانی بھی کالے علوم کی ماہر تھی۔ رتنا وتی اور سنگھیا کے مابین اکثر کالے علم کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔ اسی لیے سنگھیا نے جب وہ عطر کی بوتل رانی کو بھیجی تو وہ دیکھتی ہی سمجھ گئی کہ بوتل پر عمل ہے چنانچہ اس نے سپاہی بھیج کر سنگھیا کو گرفتار کروالیا۔ جب سنگھیا کو رانی کے سامنے پیش کیا گیا تو رانی نے وہ بوتل سنگھیا پر اُلٹ دی اور وہ مارا گیا مگر مرنے سے قبل اُس نے بد دعا دی کہ رتنا وتی اور بھانگڑھ باسی بہت جلد اسی طرح مارے جائیں گے۔ اور اگلے برس پڑوسی ریاست نے بھانگڑھ پر حملہ کر دیا اور لڑائی کے دوران رتنا وتی بھانگڑھ کے تمام افراد مارے گئے۔ اس کے متعلق ایک قصہ بھی مشہور ہے کہ رانی کی آتما آج بھی سورج ڈھلنے کے بعد لوگوں کو دکھائی دیتی ہے۔[10]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "بھانگڑھ قلعہ، راجستھان"۔ زی نیوز۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 جولائی 2017ء۔
  2. ^ ا ب سرینا سنگھ 2010، صفحہ۔ 188.
  3. "آبادی دیکھیں"۔ آفس آف دی رجسٹرار جنرل اینڈ سینسز کمشنر، انڈیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 جولائی 2017ء۔
  4. "قلعہ بھانگڑھ بھارت میں سب سے زیادہ خوفناک جگہ کے طور پر جانا جاتا ہے"۔ ہولیڈیفائی (امریکی انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 جولائی 2017ء۔
  5. ^ ا ب "قلعہ بھانگڑھ: بھارت کا سب سے زیادہ پراسرار مقام؟"۔ یاہو نیوز۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جولائی 2013۔
  6. ^ ا ب راجپوتانہ 1880، صفحات۔ 289-90.
  7. دانیہ صدیقی، ماہنامہ اردو ڈائجسٹ، اشاعت پاکستان، مؤرخہ مئی 2016ء، صفحہ 73 تا 74
  8. دانیہ صدیقی، ماہنامہ اردو ڈائجسٹ، اشاعت پاکستان، مؤرخہ مئی 2016ء، صفحہ 75
  9. ^ ا ب اسٹیفن ایل۔ اسٹرن 2011، صفحہ۔ 7.
  10. ^ ا ب دانیہ صدیقی، ماہنامہ اردو ڈائجسٹ، اشاعت پاکستان، مؤرخہ مئی 2016ء، صفحہ 76

کتابیات[ترمیم]