مندرجات کا رخ کریں

بھجن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

بھجن ہندوستانی اصطلاح ہے جو کسی بھی مذہبی یا روحانی موضوع پر مبنی گانے کے لیے استعمال ہوتی ہے، خاص طور پر دھرمی ادیان میں اور یہ کسی بھی زبان میں ہو سکتا ہے۔[1] سنسکرت میں اسے بھجنم (भजनम्) کہتے ہیں جس کا مطلب ”تعظیم یا احترام“ ہے اور یہ مادہ ”بَھجَ“ (भज्) سے نکلا ہے، جس کے معنی ”تعظیم کرنا“ ہیں جیسا کہ مشہور نغمہ ’بھج گووندم‘ (گووندا کی تعظیم کرو) میں آیا ہے۔ لفظ بھجن کا مطلب ”بانٹنا یا تقیسم کرنا“ بھی ہے۔

بھجن کا لفظ عام طور پر اجتماعی تقریبات کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، جس میں ایک یا زیادہ مرکزی گلوکار ہوتے ہیں اور انھیں موسیقی یا کبھی کبھار رقص کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔[2] عام طور پر بھجن کے ساتھ چھلنی یا ڈھولک جیسے پرکشن آلات اور چھوٹے جھانجھ (کرتال) استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ تال قائم رہے۔

بھجن کہیں بھی گایا جا سکتا ہے، جیسے مندر، گھر، کھلے درخت کے نیچے، دریا کے کنارے یا کسی تاریخی مقام پر۔[3] بھجن گانے والوں کے گروہ کو عام طور پر مَنڈلی کہا جاتا ہے۔[4]

چونکہ بھجن کی کوئی مقررہ ہیئت یا سخت قواعد نہیں ہوتے اس لیے یہ عموماً نغماتی انداز میں اور سُریلے راگوں پر مبنی ہوتے ہیں۔[5] یہ موسیقی اور فنون کی اُس صنف سے تعلق رکھتے ہیں جو بھکتی تحریک کے دوران پروان چڑھی۔[1] یہ روایت ہندومت کے مختلف دھاروں کے ساتھ ساتھ جین مت میں بھی پائی جاتی ہے۔ ہندومت کے اندر بھجن خاص طور پر ویشنومت میں زیادہ رائج ہیں۔[1]

بھجنوں کے عام موضوعات میں مذہبی صحیفوں کے مضامین، رزمیہ داستانیں، سَنتوں کی تعلیمات اور کسی دیوتا سے محبت بھری عقیدت شامل ہوتی ہے۔[5]

بہت سے بھجن گمنام طور پر تخلیق کیے گئے اور موسیقی و فن کی ایک روایت کے طور پر پھیل گئے۔ نِرگُنی، گورکھ ناتھی، ولّبھ پنتھی، اشٹ چھاپ، مَدُھر بھکتی اور جنوبی ہند کی روایتی شکل سمپردیہ بھجن جیسے اصناف میں ہر ایک کا اپنا مخصوص ذخیرہ اور اندازِ گائیکی ہوتا ہے۔[6]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب پ James G. Lochtefeld (2002). The Illustrated Encyclopedia of Hinduism: A-M (بزبان انگریزی). The Rosen Publishing Group. p. 97. ISBN:978-0-8239-3179-8.
  2. Arnold P. Kaminsky; Roger D. Long (2011). India Today: An Encyclopedia of Life in the Republic (بزبان انگریزی). ABC-CLIO. pp. 484–485. ISBN:978-0-313-37463-0.
  3. Anna King, John Brockington, The Intimate Other: Love Divine in Indic Religions, Orient Longman 2005, p 179.
  4. Flueckiger, Joyce Burkhalter. "LITERACY AND THE CHANGING CONCEPT OF TEXT: Women's Ramayana Maṇḍalī in Central India." In Boundaries of the Text: Epic Performances in South and Southeast Asia, edited by Joyce Burkhalter Flueckiger and Laurie J. Sears, 43–60. University of Michigan Press, 1991. http://www.jstor.org/stable/10.3998/mpub.19503.8.
  5. ^ ا ب Denise Cush; Catherine Robinson; Michael York (2012). Encyclopedia of Hinduism (بزبان انگریزی). Routledge. pp. 87–88. ISBN:978-1-135-18979-2.
  6. Amaresh Datta (1987). Encyclopaedia of Indian Literature: A-Devo (بزبان انگریزی). Sahitya Akademi. pp. 430–431. ISBN:978-81-260-1803-1.