بھرتری ہری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

بھرتری ہری قدیم ہندوستان کا سنسکرت کا عظیم فلسفی، ماہر لسانیات ،شاعر اور نجومی تھا۔ راج پاٹ چھوڑ کر جوگی بن گیا۔ وہ جدت پسند نظریہ ساز ہونے کے ساتھ ساتھ پانینی کے بعد سنسکرت کا سب سے اہم ماہر لسانیات بھی تھا۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

بھرتری ہری سنسکرت کا ایک عظیم الشان شاعر ہے بھرتری ہری کا زمانہ پہلی صدی عیسوی قبل مسیح کا ہے۔بھرتری ہری کا تعلق شاہی خاندان سے تھا جس کا دارالحکومت اجین تھا ۔۔ راجا بکر ماجیت کا بھائی بیان کیا جاتا ہے۔ ایک تیاگی کی زندگی بتانے سے پہلے کہا جاتا ہے کہ بھرتری ہری نے ایک کامیاب دنیا دار کی زندگی کا تجربہ کیا اور دنیاوی آلائشات میں اس حد تک منہمک ہوا کہ فکری اور تخلیقی زندگی کے بہت سے شعبوں سے اس کی توجہ ہٹی رہی۔ اس کی شادی ایک خوبصورت ملکہ پنگلا سے ہوئی۔ وہ بیوی پر اس حد تک فریفتہ تھا کہ اس کی کچھ دیر کی جدائی بھی گوارا نہیں تھی۔ ہر وقت سایے کی طرح اس کے ساتھ رہتا جس سے ریاستی معاملات میں اس کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ اس کے رویے پر اس کا چھوٹا سوتیلا بھائی وکرما دتیہ معترض تھا کیوں کہ اس کا خیال تھا بھرتری ہری کو راج نیتی میں زیادہ وقت صرف کرنا چاہئے۔اس کے اعتراضات کے نتیجے میں مہارانی پنگلانے اس کے خلاف بھرتری ہری کو بدگمان کرنا شروع کیا اور آخر اسی کے اشارے پر راجہ نے وکرما دتیہ کو شہر سے نکلوادیا۔تاہم زیادہ عرصہ وہ اپنی بیوی کے سحر میں گرفتار نہ رہ سکاکیونکہ اس کی وفادری مشکوک تھی۔

ایک منسوب حکایت[ترمیم]

اس کی بیوی کی بے وفائی سے منسوب حکایت ہےجس کے مطابق بھرتری ہری کو ایک پنڈت نے ایک پھل کا تحفہ دیا جسے کھانے سے زندگی کا دورانیہ بڑھ جاتا تھا۔ اس نے وہ پھل اپنی پتنی مہارانی پنگلا کو دے دیا۔مہارانی نے پھل لے لیا لیکن اس سے کہا کہ وہ اسے نہانے کے بعد ہی کھائے گی۔ یہ سن کر راجہ لوٹ گیا۔ حقیقت یہ تھی کہ مہارانی پنگلا ایک شاہی سائیس کے عشق میں مبتلا تھی۔ اس نے وہ پھل اسی سائیس کو دے دیا۔ وہ سائیس کسی طوائف سے محبت کی پینگیں بڑھائے ہوئے تھا۔ یوں وہ پھل سائیس سے ہوکر طوائف تک پہنچا۔ جب کہ طوائف نے راجہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے یہ تحفہ لاکر بھرتری ہری کو دیا۔ اس پھل کو وہ پہچان گیا اور اس سے بولا کہ وہ پھل اس کے پاس کہاں سے آیا اور یوں اس کے لیے اس بات کا سراغ لگانا زیادہ مشکل ثابت ہوا کہ اس کی بیوی بے وفا تھی۔ راجہ نے وہ پھل اس سے لیا اور فوراً کھالیا۔ مہارانی کی بے وفائی کا بھرتری ہری کی زندگی پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ وہ سبھی دنیادی آلائشات سے کنارہ کش ہوگیا۔ حتی کہ اس نے شاہی زندگی کو بھی تیاگ دیا اور جنگلوں میں رہائش اختیار کرلی۔یہاں اس نے اپنا تمام تر وقت فکری اور تخلیقی سرگرمیوں کے لیے وقف کردیا۔ اس کے خلاق ذہن نے ایسے کمالات دکھائے کہ آج بھی ان کی چکاچوند میں کمی نہیں آئی۔ اسی خلوت کی زندگی میں اس نے تین شٹکاس تخلیق کیے۔

تالیفات[ترمیم]

بھرتری ہری سے دو کتابیں منسوب کی جاتی ہیں: واکیہ پادیہ، جس میں سنسکرت کی صرف و نحو اور لسانی فلسفہ کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ بھرتری ہری کا تعلق شبددویتا مکتب فکر سے جوڑا جاتا ہے جس کا موقف یہ ہے کہ اپنی حتمی سطح پر زبان اور فہم ایسے الہیاتی تصورات کی صورت اختیار کرلیتی ہے جو ایک اعلی ترین ہستی ’یعنی آفرید گار سے منسوب ہیں۔ حقیقی شبدکا تصور بھرتری ہری کے نزدیک بولی اور لکھی جانے والی زبان اور مفہوم سے ماورا ہے۔اس تصور کو شبد تتوا کا عنوان دیا جاتا ہے جس سے مراد شعور کی ہیئت اور ظاہری وجود کی تمام سطحوں سے آگاہی کی وضاحت ہے دوسری کتاب شتکترایہ ہے جس میں بھرتری ہری کی شعری تخلیقات شامل ہیں۔ اس کتاب میں تین شعری مجموعے یکجا کئے گئے ہیں جو سوسو کے قریب بندوں پر مشتمل ہیں۔یہ کتاب تین حصوں میں تقسیم ہے ۔ ہر حصے کی جمالیات میں فرق ہے۔ مجموعی طورپر روایت پسندوں اور جدیدیت پسندوں دونوں حلقوں میں اس کتاب کو یکساں شہرت اور توقیر حاصل ہوئی۔کہا جاتا ہے ہے کہ بہت کم کتابوں نے سنسکرت شاعری اور صرف و نحو کے علم پر اس قدر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں جتنے بھرتری ہری کی تحریروں سے ظاہر ہوئے۔[1]

بھرتری کے شلوک[ترمیم]

بھرتری ہری نے سنکرت زبان میں شلوک لکھا تھا جو حسب ِ ذیل ہیں۔

  • # شرنگار شتک : اس شتک میں سو شلوک ہیں اس میں بھرتری ہری نے عشق و محبت کی باتیں کی ہیں ۔
  • # نیتی شتک: کہا جاتا ہے کہ جب بھرتری ہری اجین کا راج کمار تھا تب اس نے نیتی شتک لکھا تھا جس کا مطلب سیاست ہے ، اس شتک میں اس دور کی سیاست کی عکاسی ہے ۔
  • # ویراگیہ شتک : جب بھرتری ہری نے سنیاس لے لیا اور اپنا راج پاٹ چھوڑ کر فقیری اختیار کیا تو اس نے ویراگیہ شتک لکھا اس کا مطلب ہے معرفتِ الہٰی اور فقیری ۔
  • # واکیہ پدیہ ’’صرف نحو کی ایک کتاب‘‘ شامل ہے۔

علامہ اقبال اور بھرتری[ترمیم]

علامہ اقبال بھرتری ہری کے بہت بڑے مداح ہیں اور ان کی عظمت کا گن گاتے ہیں ۔ اس بات کی شہادت یوں پیش کی جاسکتی ہے کہ اقبال نے سنکر ت کے اور شاعروں کو چھوڑ کر بھرتری ہری کو ایک الگ اہمیت عطا کی ہے اقبال بھرتری ہری کے قول وعمل سے بہت متاثر ہیں اور تمام انسانوں کی فلاح کا راستہ بتاتے ہیں ۔ بھرتری ہری کے اس فکر وعمل سے اقبال نے بہت فائدہ اٹھایا اور ہم دیکھتے ہیں کہ بھرتری ہری کے اس فکر کا اثر اقبال کے کلام میں ہمیں جابجا نظر آتا ہے ۔ اسی لیے علامہ اقبال نے بال ِ جبریل کا آغاز اس شعر سے کیا ہے ۔

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر

مر د ناداں پر کلام ِ نر م و نازک بے اثر

جاوید نامہ علامہ اقبال کا شاہکار مانا جاتا ہے علامہ اقبال نے اس کو ایک شعری ڈرامے کے روپ میں ہمارے سامنے پیش کیاہے جاوید نامہ میں اقبال نے مختلف کرداروں کی زبان سے اپنے فکر و فلسفے کو بیان کیا ہے ۔ اقبال بھرتری ہری کی عظمت کے اس قدر قائل تھے کہ بھرتری ہری کو فلک الافلاک پر جگہ دی ہے جس کو ہم جنت الفردوس کے نام سے جانتے ہیں ، کہا جاتا ہے یہ مقام اقبا ل نے عظیم شاعر مرزا غالب کو بھی نہیں دیا الغرض ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عمل کا نکتہ بھرتری ہری سے حاصل کیا ہے اور جس انسانی عظمت اور خودی کا درس دیا ہے اس میں بھی بھرتری ہری کا عکس نظر آتا ہے اقبال بھرتری ہری کے اندازِ فکر سے اپنے کلام کو مزین کر تے ہیں ۔[2] ’’ٹلہ جوگیاں‘‘ میں بھرتری ہری کی سمادھی موجود ہے۔650ء کے لگ بھگ برصغیر کی دھرتی پر موجود تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://humshehrionline.com/?p=9181#sthash.WQShfTkT.dpuf
  2. http://www.urdulinks.com/urj/?p=544