بھنگڑا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
لندن میں ایک پنجابی ثقافتی میلہ

بھنگڑا یہ پنجاب کے رقص اور موسیقی کی قسم ہے۔بھنگڑا ناچ ان بھلے دنوں کی یادگار ہے جب فصل پکنے کا قت آتا کسان کو پھولے ہوئے کھیتوں کی آزاد فضا اور گندم کی لہلاتی ہوئی اور پکی ہوئی پیلی ڈالیاں مجبور کرتیں کہ ناچو اور خوب ناچو کہ دھرتی سونا اگل رہی ہے۔ یہ خوشی کے دن ہیں ، جانے کب بیت جائیں کہ ویلا تو ہے ہی "جھٹ دا میلہ"فصل کاٹنے کے موسم میں جب جوانوں میں فصل کاٹنے کا مقابلہ ہوتا ہے تو کامیابی پر خوشی منانے کے لیے یہ ناچ ناچا جاتا ہے۔ چند نوجوان ڈھول بجانے والے کے ارد گرد حلقہ باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک آدمی کوئی سر یا ڈھول گاتا ہے ، سُر ختم ہونے پر آخری لفظ کو لمبا کر کے کُوک لگاتا ہے اور ڈھول کے سامنے ٹانگ اٹھا کر اور دونوں بازو اوپر پھیلا کر ایک ٹانگ پر ناچتا ہے ۔سب مل کر ساتھ ساتھ یہ گیت گاتے ہیں:

توں صدقے کہ میں صدقے
چٹی پگ دے وچ سوہا پھل لٹکے
پنجابی فوک ریمکس

بار بار اسی کو دھراتے جاتے ہیں اور ڈھول کی گت پر دائرے میں تالیاں پیٹ پیٹ کر چکر کاٹتے جاتے ہیں۔ آخر ڈھول کی گت تیز ہو جاتی ہے اور ناچنے والوں کی حرکات و سکنات میں بھی تیزی آ جاتی ہے۔ با لآخر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر نعرہ مار کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یوں بھنگڑا مکمل ہو جاتا ہے۔اگر کسی پہلوان یا مقابل کی تضحیک مطلوب ہو تو پھر منہ میں انگلیاں ڈال کر سیٹیاں بجائی جاتی ہیں اور ان سیٹیوں کی سُر ڈھول کی تال کا عین بین ساتھ دیتی ہے۔اس وقت اسے بھنگڑہ کی بجائے چوہا مارنا کہا جاتا ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]