بھوٹان میں کورونا وائرس کی وبا، 2020ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بھوٹان میں کورونا وائرس کی وبا، 2020ء (انگریزی: COVID-19 pandemic in Bhutan) کا خطرہ اور معاملات اس وقت آشکارا ہوئے جب کوویت سے بھوٹان آئی ایک خاتون کے ذریعے کی گئی مسافرت سے کورونا وائرس انفیکشن پھیلنے کا اندازا لگایا گیا۔ سرکار نے ملک کی لگ بھگ 750,000 کی آبادی کے لیے گھر پر رہنے کا حکم جاری کیا۔ ملک میں سبھی اسکول، دفاتر اور عوامی مقامات بند کر دیے گئے۔ سرکاری بیان کے مطانق یہ لاکڈاؤن پانچ سے 21 دنوں کے لیے متاثرہ مریضوں کی پہچان کرکے انہیں علاج فراہم کرنے کے لیے لاگو کیا گیا ہے۔ لاکڈاؤن کا مقصد انفیکشن کے فروغ کے خدشے کو فوری طور پر دور کرنا تھا۔ ۔ کوویت سے لوٹی 27 سالہ بھوٹانی خاتون اگست 2020ء میں مسافرین کے لیے قرنطینہ کی میعاد کے بعد کی گئی جانچ میں انفیکشن یاب پائی گئی۔ سیاحتی مرکز کے لیے مشہور اس ملک کو اس کے بعد باہری دنیا کے لیے بند کر دیا گیا۔ بھوٹان میں ایک مریض کے علاوہ کووڈ 19 سے متاثرہ بعد میں پائے جانے والے سبھی 113 مریض قرنطینہ میں رکھے گئے مسافرین تھے۔[1]

ملک کے قوانین میں تبدیلی[ترمیم]

اس چھوٹے سے ملک نے تمباکو پر پابندی کو پلٹتے ہوئے اسے بیچنے کا کا اچانک اس وبا کی وجہ سے فیصلہ لے لیا ہے۔ بھوٹان کے ذریعے لیا گیا یہ فیصلہ چونکانے والا ہے ک‍یونکہ یہ بدھ متی ملک دھوئیں بازی (Smoking) کو گناہ مانتا ہے۔ یہاں مانا جاتا ہے کہ تمباکو کا پودھا ایک دانو (شیطان) کے خون سے وجود پزیر ہوا تھا۔

اس ملک نے 1729ء میں پہلی بار ایک تمباکو نگراں قانون صادر کیا تھا۔ اس کے بعد 2010ء میں تمباکو کی بکری، بنانے اور تقسیم پر پابندی لگا دی گئی تھی، لیکن دھوئیں بازی کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور محصولوں کی ادائیگی کرنے کے بعد تمباکو مصنوعات (Tobacco Products) کو مقررہ مقدار میں ملک میں لانے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے بعد بھارت کی سرحد سے غیر قانونی آمد کی گئی سگریٹوں کے لیے یہ ایک کالا بازار بن گیا۔

2020ء کی شروعات میں بھوٹان نے کورونا وائرس عالمی وبا کی وجہ سے بھارت کے ساتھ اپنی سرحدوں کو بند کر دیا تھا۔ اس کے بعد جہاں بہت ہی کم وقت یعنی ستمبر 2020ء تک بھارت میں 30 لاکھ سے زائد کووڈ 19 معاملے آئے تھے، وہیں بھوٹان میں 200 معاملے سے بھی کم دیکھے گئے۔ لیکن اس دوران بھوٹان میں تمباکو کی قیمتوں میں ضرور چار گنا اضافہ ہو گیا تھا کیونکہ سرحدیں بند ہونے سے اس کی غیر قانونی منتقلی مشکل ہو گئی ، اور حکومت نے قوانین بدل دیے۔[2]


مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]