بھٹی (ذات)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

بھٹی راجپوتوں کی سب سے بڑی شاخ اورقدیم قبیلہ ہے۔
یدوونشی (Yaduvanshi) یعنی کرشن کی اولاد سمجھے جاتے ہیں۔ یہ افغانستان سے دلی جانے والی شاہ راہ پر واقع جیسلمیر کے مقام پر گزرنے والے کارروانوں سے ’’ٹیکس‘‘ وصول کیا کرتے تھے، جیسل میر سے پنجاب، سندھ، افغانستان اور اس سے آگے تک پھیلے۔ افغانستان میں غزنی، اسی قبیلے کے ایک سردار کے نام پر ہے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ لوگ پوٹھوہار میں کب وارد ہوئے۔ ان کے چھوٹے گروہوں میں مہرے، کنجال، جانگلے(جنگلے)، بدھوٹر اور شیخ وغیرہ ہیں۔[1]

مختلف نام

ان کے نام پر مختلف علاقہ جات مثلاً "بھٹیانہ"، "بھٹیورہ" اور مختلف مقامات جیسا کہ"بھٹینڈہ"، "بھٹنیر" اور "پنڈی بھٹیاں" موسوم ہیں۔ بھٹی روایات کے مطابق وہ "شری کرشن جی مہاراج" کی اولاد میں سے ہیں اور اسی واسطہ سے راجپوتوں کی "چندر ونشی" شاخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ روایات کے مطابق ازمنہ قدیم میں انہیں سندھ سے پار دھکیل دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اپنا علاقہ واپس لے کر جوئیہ،لنگاہ اور دوسرے قبا ئل کو ستلج کے پار دھکیل دیا جیسلمیر اور بھٹیانہ رياستون کی بنیاد رکھی۔ راجپوت جاٹ اور گجر قبائل کی اکثر شاخیں مثلا وٹو، نارو، نون، کھچی، سدھو، باجوہ، باجو، گھمن اپنا نسب بھٹی راجپوتوںسے جوڑتی ہیں۔ایک وقت میں بھٹی راجپوتوں کی سلطنت میں تمام سرسہ ضلع اور ضلع حصار کے ملحقہ علاقہ جات شامل تھے جو آج بھی بھٹیانہ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ جنرل کننگہم کے مطابق ابتدائی ایام میں بھٹی راجپوتوں کی سلطنت سالٹ رینج اور کشمیر پرمشتمل تھی اور ان کا دارالحکومت گجنی پور موجودہ راولپنڈی تھا۔غالباً دوسری صدی قبل مسیح میں ہندوساسانی قبائل نے انہیں جہلم کے پار دھکیل دیا اور ان کے راجہ رسالو، بھٹی راجپوت نے سیالکوٹ کاشہرآباد کیا تاہم قابض قبائل نے انھیں مزید پرے دھکیل دیا، البتہ کشمیر میں ان کا اقتدار 1339ء تک قائم رہا۔ اگرہم بھٹی قبیلہ سے نکلنے والی ذیلی شاخوں کو بھی بھٹی شمار کریں تو پنجاب کا کوئی ایسا علاقہ ایسانہیں ہو گا جس میں بھٹی غالب اکثریت میں نہ ہوں۔تاہم تقریباً بھٹی روایات اپنا تعلق بھٹنیر کے قدیم شہر اور بھٹیانہ کے علاقہ سے جوڑتے جوکہ عرصہ دراز سے خشک ہوئے دریائے گھاگرا کے کنارے پرآباد ہیں اور ان دونوں علاقوں کا بھٹی قوم سے کوئی ناتانہ ہونا ناممکن ہے۔یہ ممکن ہے کہ یا تو دریائے گھاگھرا کے خشک ہونے سے یا پھر راٹھوروں سے شکست کھانے کے بعد بھٹی قبائل پنجاب میں آ کر آباد ہوئے۔جہاں سے ہندوساسانی قبائل نے انہیں پھر واپس بھٹیانہ کے علاقوں میں دھکیل دیا۔ بھٹی قبیلہ راجپوتوں کی چندرا ونشی شاخ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بھٹیوں کی 40 سے زائد ذیلی شاخیں ہیں۔ جن میں سےدرج ذیل خطہ پوٹھوہار میں زیادہ مشہور ہیں:

حوالہ جات