بھٹی (ذات)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بھٹی لفظ پنجابی زبان و لہجہ میں ہے اسکا اصل نام راجھستانی (راجپوتانہ) لہجہ و سنسکرت لفظ بھاٹی ہے جو ایک مشہور ہندو راجہ بھاٹی راۓ کے نام سے منسوب ہے ۔ اسی راجہ بھاٹی راۓ کےنام سے بھٹی(بھاٹی)قبیلہ وجود میں آیا۔بھٹی راجپوتوں کی سب سے بڑی شاخ اورقدیم قبیلہ ہے۔بھٹی راجپوت یادوونشی (Yaduvanshi)اور چندرونشی سے مشہورہیں۔بھٹی راجپوت کرشن جی کی اولاد مانے جاتے ہیں۔اس قبیلہ کے مشہور ہندو راجاٶں میں راجہ کرشن جی مہاراج,راجہ باہوبلی , راجہ گج سنگھ,راجہ سالباہن,راجہ بلند,راجہ رسالو,راجہ بھاٹی راۓ, راجہ بھونی سنگھ المعروف بجےراۓ ,راول جیسل سنگھ والئی ریاست جیسلمیر ,رانا کپور سنگھ بانئ ریاست کپورتھلہ مشہور ہیں اور مسلمانوں میں راۓ اچت سنگھ جو کہ بہاٶالدین ذکریا ملتانی کےپڑپوتے کےہاتھ پر مسلمان ہوۓ اور نام راۓ اللہ دتہ خاں بھٹیؒ رکھا گیا,راۓ بھوۓ خاں بھٹی بانئ بھوۓ دی تلونڈی اٹھارہ سو مربع جاگیر موجودہ ننکانہ صاحب وگردونواح , راۓ بلار خاں بھٹی ؒ (بابا گرونانک کو ساڑھے سات سو مربع زمین وقف کی )ننکانہ صاحب , راۓ محبوب خاں بھٹی ؒ المعروف بوبے خاں ننکانوی و کپورتھلوی,راۓ عبدللہ خاں بھٹی المعروف دُلا بھٹی شہیدؒ پنڈی بھٹیاں,مشرقی پنجاب کے عظیم صوفی بزرگ حضرت بابا شاہ کمال الدین خاں ؒ والی ء حمیرا جاگیر کپورتھلہ ,بابا بڈھے خاںؒ بانی بڈھا تھیہہ جاگیر کپورتھلہ قابل ذکرہیں۔راجپوت بھٹیوں کی مشہور ریاست و قلعہ بھٹنیر راجھستان تھا جس کو1398ءمیں امیر تیمور کے حملوں نے مسخ کیا جس سے بھٹی راجپوت بھٹنیر چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں بکھر گۓ۔ایک زمانے میں راجپوت بھٹی ہستناپور سے لے کر کاشغر تک حکمران رہے ہیں جس کو بھٹسر سے یاد کیا جاتا ہے۔ افغانستان میں غزنی، جسکا پرانا نام گجنی تھا اسی قبیلے کے ایک راجہ گج سنگھ کے نام پر ہے۔۔ راجپوت بھٹیوں کی گوتوں میں بارہ پال قابل زکر ہیں جن میں گورپال بھٹی,مین پال بھٹی,لکھن پال بھٹی,سانس پال بھٹی,ہرپال بھٹی وغیرہ مشہورہیں۔[1]

بھٹی علاقے

  • جلال پور بھٹیاں (ضلع حافظ آباد)
  • پنڈی بھٹیاں (حافظ آباد)
  • سالار بھٹیاں (حافظ آباد)
  • اعوان بھٹیاں (ضلع شیخوپورہ)
  • بھٹی کے (وزیر آباد)
  • چاہ پکا بھٹیاں (ننکانہ صاحب)
  • میر پور بھٹیاں (ننکانہ صاحب)
  • خیر پور بھٹیاں (ننکانہ صاحب)

مختلف نام

ان کے نام پر مختلف علاقہ جات مثلاً "بھٹیانہ"، "بھٹیورہ" اور مختلف مقامات جیسا کہ"بھٹینڈہ"، "بھٹنیر" اور "پنڈی بھٹیاں" موسوم ہیں۔ بھٹی روایات کے مطابق وہ "شری کرشن جی مہاراج" کی اولاد میں سے ہیں اور اسی واسطہ سے راجپوتوں کی "چندر ونشی" شاخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ روایات کے مطابق ازمنہ قدیم میں انہیں سندھ سے پار دھکیل دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اپنا علاقہ واپس لے کر جوئیہ،لنگاہ اور دوسرے قبا ئل کو ستلج کے پار دھکیل دیا جیسلمیر اور بھٹیانہ رياستون کی بنیاد رکھی۔ راجپوت جاٹ اور گجر قبائل کی اکثر شاخیں مثلا وٹو، نارو، نون، وگن، سدھو،ڈوگر کچھی باجوہ، باجو، گھمن اپنا نسب بھٹی راجپوتوں سے جوڑتی ہیں۔ ایک وقت میں بھٹی راجپوتوں کی سلطنت میں تمام سرسہ ضلع اور ضلع حصار کے ملحقہ علاقہ جات شامل تھے جو آج بھی بھٹیانہ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ جنرل کننگہم کے مطابق ابتدائی ایام میں بھٹی راجپوتوں کی سلطنت سالٹ رینج اور کشمیر پرمشتمل تھی اور ان کا دار الحکومت گجنی پور موجودہ راولپنڈی تھا۔ غالباً دوسری صدی قبل مسیح میں ہندوساسانی قبائل نے انہیں جہلم کے پار دھکیل دیا اور ان کے راجہ رسالو، بھٹی راجپوت نے سیالکوٹ کاشہرآباد کیا تاہم قابض قبائل نے انھیں مزید پرے دھکیل دیا، البتہ کشمیر میں ان کا اقتدار 1339ء تک قائم رہا۔ اگرہم بھٹی قبیلہ سے نکلنے والی ذیلی شاخوں کو بھی بھٹی شمار کریں تو پنجاب کا کوئی ایسا علاقہ ایسانہیں ہو گا جس میں بھٹی غالب اکثریت میں نہ ہوں۔ تاہم تقریباً بھٹی روایات اپنا تعلق بھٹنیر کے قدیم شہر اور بھٹیانہ کے علاقہ سے جوڑتے جو عرصہ دراز سے خشک ہوئے دریائے گھاگرا کے کنارے پرآباد ہیں اور ان دونوں علاقوں کا بھٹی قوم سے کوئی ناتانہ ہونا ناممکن ہے۔ یہ ممکن ہے کہ یا تو دریائے گھاگھرا کے خشک ہونے سے یا پھر راٹھوروں سے شکست کھانے کے بعد بھٹی قبائل پنجاب میں آ کر آباد ہوئے۔ جہاں سے ہندوساسانی قبائل نے انہیں پھر واپس بھٹیانہ کے علاقوں میں دھکیل دیا۔ بھٹی قبیلہ راجپوتوں کی چندرا ونشی شاخ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بھٹیوں کی 40 سے زائد ذیلی شاخیں ہیں۔

حوالہ جات

1.کتاب ””ناننک سے ننکانہ “ مصنف پروفیسر عبدالکریم تبسم سابق پرنسپل گورنمنٹ گورونانک ڈگری کالج ننکانہ فون نمبر 0562876169

3-تاریخ بھٹی راجپوت مٶلف صاحبزادہ شہزادہ اعجازسمبڑیالوی,ایڈیشن مارچ 2017

Printed by: Nayyar Asad Press,Lahore

ISBN:9789696023722 [2]

  1. پروفیسر عبدالکریم، تبسم. نانک سے ننکانہ. ننکانہ صاحب. ISBN 056-2876169 تأكد من صحة |isbn= القيمة: checksum (معاونت). 
  2. صاحبزادہ شہزادہ، اعجازسمبڑیالوی (مارچ 2017ء). تاریخ بھٹی راجپوت. سرکلرروڈچوک اُردوبازارلاہور: القریش پبلی کیشنز. ISBN 9789696023722.