بھگت ترلوچن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بھگت ترلوچن
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1269 (عمر 749–750 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر

بھگت ترلوچن کا جنم 1268ء میں مہاراشٹر کے ضلع شعلہ پور کے بارسی قصبے میں ہوا۔ میکالف کے مطابق آپ کا جنم 1267ء کو گجرات میں ہوا اور وہی مانا جاتا ہے۔ کجھ ذرائع کے مطابق ان کا آبائی گاؤں اتر پردیش میں تھا اور گیان دیوَ کے تعلق میں آنے کے بعد وہ مہاراشٹر چلے گئے۔ آپ بھگت نامدیو کے ہم عصر تھے۔ آپ کا بیاہ اننتا نام کی عورت کے ساتھ مانا جاتا ہے۔ بھگت مالا کی ایک گاتھا کے مطابق ترلوچن کا اکلوتا بیٹا انتقال کر گیا اور بڑھاپے میں کوئی خدمت کرنے والا نہ رہا۔

گرو گرنتھ صاحب میں بھگت ترلوچن کے لکھے چار شبد تیں راگوں میں اس طرح ہیں:-

  1. سری راگُ (شبد -1, پنہ-91)،
  2. گوجری (شبد-2, پنہ-525,526)،
  3. دھناسری (شبد-1 پنہ-694) [1]

بھگت ترلوچن کی انسان دوستی کی سب سے بڑی خاصیت یہی ہے کہ وہ سادھوؤں سے بے حدّ عقیدت رکھتے تھے اور ان کی روٹی پانی کے ساتھ خدمت کرتے تے، مگر خدمت کا کام آپ کی بیوی کو اکیلا نہ سونپا بلکہ آپ نے 'انتریامی' نامی ایک نوکر رکھ لیا۔ اس نوکر نے ترلوچن کے ساتھ یہ شرط رکھی کہ وہ ہر روز گھٹو گھٹّ پانچ یا سات سیر بھوجن کرے گا اور اس کو کرنے میں اس کوئی بھی اس کو نہیں ٹوکیگا نہیں تو وہ نوکری چھوڑ جائے گا۔ اس نوکر نے اپنا کام اتنی اچھی طرح اور پریم کے ساتھ کیا کہ مہمان سادھوؤں کی گنتی ہر روز بڑھتی گئی مزید بھوجن تیار کرنے کا کام بڑھ گیا۔ ایک بار زیادہ کام ہو جانے کی وجہ سے بھگت ترلوچن کی بیوی نے اپنی کسی احباب سے کہہ دیا کہ اس نوکر کے آنے کے ساھ سادھوؤں کی آمد بڑھ گئی ہے اور وہ خود بے حسابہ کھاتا ہے۔ جب اس بات کا پتہ 'انتریامی' کو پتہ لگا تو وہ چپ چاپ نوکری چھوڑ کے چلا گیا۔ بعد میں بھگت ترلوچن کو لگا کہ وہ نوکر سچ مچ ہی 'انتریامی' (پربھو) تھا، جس پر انہیں پچھتاوا ہونے لگا۔ آپ کے متعلق اس سے زیادہ معلومات تاریخ میں اور نہیں ملتی ہیں۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈاکٹر: گیان چند جین، گورو گرنتھ صاحب وچّ بھگت بانی اک سماجی مطالعہ، لوک گیت پرکاشن، 2009
  2. ڈاکٹر۔ مدن گوپال آچاریہ، آدی-گرنتھ وچ سنکلت بھگت-بانی وچ نیتکتا دا سنکلپ، بھاشا وبھاگ پنجاب، 2001