بھیم (یو پی آئی ایپ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بھیم (یو پی آئی ایپ)
Bhim-logo.png
تیار کردہ این پی سی آئی
ابتدائی اشاعت اپریل 14، 2017؛ 2 سال قبل (2017-04-14)
آپریٹنگ سسٹم
پلیٹ فارم
صنف یونیفائڈ پے منٹس انٹرفیس، موبائل ایپ
ویب سائٹ www.bhimupi.org.in

بھیم (انگریزی: BHIM) انگریزی الفاظ بھارت انٹرفیس فار منی کا مخفف ہے۔ یہ ایک موبائل ایپ ہے جسے نیشنل پے منٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) نے تیار کیا ہے۔ یہ یونیفائڈ پے منٹس انٹرفیس (یو پی آئی) پر مبنی ہے۔ اس کا افتتاح ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹالکٹورا اسٹیڈیم، نئی دہلی میں 30 دسمبر، 2016ء کو کیا۔ تسمیہ بھیم راؤ رام جی امبیڈکر کے نام پر کیا گیا اور اس کے بارے میں ارادہ رکھا گیا کہ اس سے ڈیجیٹل ادائیگیاں سیدھے بینکوں کے ذریعے منتقل ہوں گی جیسا کہ 2016ء کے بھارت کے بینک نوٹوں کے اسقاط زر کے مقاصد میں شامل تھا جس میں غیر نقدی معاملتوں پر زور دیا گیا تھا۔[1]

یہ ایپ سبھی بھارتی بینکوں کے لیے کار گر ہے جو یہ پلیٹ فارم استعمال کرتے ہیں، جو فوری ادائیگی کی خدمت کے دھانچے پر قائم کیا گیا اور صارفین کو بر سر موقع دو فریقین کے بیچ بیسوں کے تبادلے میں معاون ہے۔[2] یہ سبھی موبائل آلات پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔[3]

فوائد[ترمیم]

بھیم اپنے صارفین کو پیسوں کی منتقلی کی سہولت فراہم کرتا ہے جو کسی یو پی آئی پتے سے بھیجے جانے ہیں یا وصول کیے جانے ہیں۔ یہ غیر یو پی آئی پر مبنی کھاتوں کے لیے بھی کار گر ہے جس کے لیے کوئی مخصوص کھاتے سے منسلک کیو آر کوڈ اور آئی ایف ایس سی کوڈ کی اسکیننگ یا موبائل نمبر (شناخت کنندہ) کوڈ کی ضرورت ہے۔[4]

دیگر موبائل والیٹوں جیسے کہ پے ٹی ایم، موبی کویک، ایم پیسا، ایئرٹیل منی، وغیرہ) جو پیسوں کو اپنی والیٹ میں الگ سے جمع رکھتے ہیں،[5] بھیم ایپ صرف ایک ذریعہ ہے جس سے پیسوں کو مختلف بینکوں کے بیچ منتقل کیا جا سکتا ہے۔بھیم کی معاملتیں بر سر موقع ہیں اور یہ 24/7 کیے جا سکتے ہیں، جن میں ہفتے کے آخری دو دن اور بینک تعطیلات شامل ہیں۔

بھیم اپنے صارفین کو اپنے بینک کھاتوں کو جانچنے اور یہ طے کرنے کا اختیار دیتا ہے کہ کس کھاتے سے معاملتیں طے کی جائیں، حالاںکہ کسی بھی وقت صرف ایک کھاتہ ہی فعال رہ سکتا ہے۔[6]

ٓصارفین اپنے خود کے کیو آر کوڈ بنا سکتے ہیں جو مقررہ رقم کے لیے ہوتا ہے۔ یہ تاجرین-فروخت کنندگان-خریداران کی معاملتوں میں معاون ہے۔[7][8] صارفین ایک سے زائد ادائیگی کا پتہ بھی رکھ سکتے ہیں۔

اگر 12 عددی آدھار کارڈ کا نمبر ادائیگی کی شناخت کے طور فہرست میں شامل کیا جائے تو بھیم ایپ کوئی بائیومیٹرک تصدیق یا بینک کے ساتھ سابقہ اندراج یا یو پی آئی کے لیے نہیں پوچھے گا۔[9]

ورژن 1.3 صارفین کو اپنے موبائل نمبروں کو رابطے کی کتاب سے استعمال کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے اور یہ ادائیگی کے پتوں کو مستقبل کے استعمال کے لیے محفوظ رکھتا ہے جس کی وجہ سے پتوں کو دوبارہ ٹائپ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ صارفین معاملتوں کی تاریخ جانچ سکتے ہیں، جو صرف بھیم کے ذریعے کیے گئے معاملتوں کو دکھاتا ہے۔[حوالہ درکار]

معاملتوں کی فیس اور حد بندیاں[ترمیم]

دسمبر 2018ء میں، جب یہ مضمون تحریر کیا جا رہا ہے، ₹1 سے ₹1 لاکھ تک کی معاملتوں پر کوئی پیسہ فیس کے طور پر نہیں لگ رہا تھا۔[10][11]

کم از کم معاملت ₹1 سے کم نہیں ہونا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ کسی بھی دن 20 معاملتیں ممکن ہیں۔

کچھ بینک معمولی فیس یو پی آئی یا آئی ایم پی ایس منتقلی کے طور پر وصول کر سکتے ہیں۔

تا دم تحریر مالیہ کی منتقلی کی حد ₹10,000 فی معاملت ہے اور زیادہ سے زیادہ ₹20000 فی 24 گھنٹا ہے۔[12]

بھارتی بینکوں نے یو پی آئی منتقلیوں پر معاملتوں کے اخراجات کی تجویز رکھی ہے،[13] مگر اس کی اطلاع نہیں نہیں ہے کہ بھیم کے ذریعے بھی انجام پانے والی معاملتوں کو بھی ان اخراجات کے دائرے میں لایا جائے گا۔

زبانیں[ترمیم]

بھیم موجودہ طور پر 13 زبانوں (بشمول انگریزی) میں دستیاب ہے، حالانکہ بھارت میں 22 سرکاری زبانیں ہیں (بشمول انگریزی) جو آئین کے 8ویں شیدیول میں شامل ہیں۔ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ بھیم ایپ میں مستقبل میں سبھی 22 بھارت کی سرکاری زبانوں میں دستیاب ہو گا جس علاقائی زبانیں بھی ہوں گی جو شیدول میں شامل زبانوں کے علاوہ بھی کثرت سے بولی جاتی ہیں۔

قبولیت[ترمیم]

مرکزی بجٹ 2017ء کی پیش کش کے دوران مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ بھیم کا 125 لاکھ سے زیادہ شہری استعمال کر رہے ہیں۔[14] ان کا کہنا تھا کہ حکومت دو نئی اسکیموں کو جاری کرے گی جس سے بھیم کے استعمال کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔ ایک افراد کے لیے حوالیہ ادائیگیاں (referral payments) اور دوسرے نقد واپسی (کیش بیک) جو تاجرین کے لیے ہو گی جو بھیم کے ذریعے ادائیگی کا حصول کرتے ہیں۔[15]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "People can now bank with thumb using BHIM app: PM Modi at Digi Dhan Mela"۔ The Indian Express۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 دسمبر 2016۔
  2. "About Bharat Interface for Money"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. "Modi launches app named after Ambedkar, says your thumb will act as your bank | india-news"۔ Hindustan Times۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 دسمبر 2016۔
  4. "BHIM UPI Official website"۔ National Payments Corporation of India (NPCI)۔ 12 جنوری 2017۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 جنوری 2017۔
  5. "How is BHIM app different from mobile wallets- Business News"۔ www.businesstoday.in۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-06-07۔
  6. "BHIM app explained: Here's what this new UPI-based app does"۔ The Indian Express (انگریزی زبان میں)۔ 2017-01-03۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-06-07۔
  7. The Hindu Net Desk۔ "A step-by-step guide on how to use BHIM app"۔ The Hindu (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-06-07۔
  8. "BHIM App QR Code - How To Generate It For Payments"۔ MyBhimApp.in (انگریزی زبان میں)۔ 2017-01-09۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-06-07۔
  9. Integrating BHIM app with Aadhaar
  10. "National Payments Corporation of India"۔ www.npci.org.in۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-05-16۔
  11. "IRCTC to launch new app for faster booking of tickets" (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-06-07۔
  12. Lokesh Pareek۔ "BHIM features"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  13. "Banks to start charging for P2P payments on UPI"۔ Moneycontrol (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-06-08۔
  14. "Budget 2017: Jaitley says BHIM app now has 125 lakh downloads"۔ ہندوستان ٹائمز۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-03۔
  15. "Union Budget 2017: Govt announces two new incentives to promote BHIM app"۔ دی انڈین ایکسپریس۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 فروری 2017۔

بیرونی روابط[ترمیم]