بہاء الدین عاملی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

بہاء الدین عاملی جن کا نام محمد بن عزّ الدین حسین تخلص بہائی معروف بہ شیخ بہائی، فقیہ، محدّث، حکیم، دسویں اور گیارہویں صدی ہجری کے ریاضیدان اور ذوالفنون عالم و سائنسدان ہیں۔ شیخ بہائی کی علمی اور ادبی کاوشوں کی تعداد 123 تک پہنچتی ہے اور جامع عباسی، کشکول، موش و گربہ، نان و پنیر اور اربعین وغیرہ ان کی کاوشوں میں شامل ہیں۔

شیخ بہائی نے فن تعمیر کے حوالے سے بھی متعدد آثار چھوڑے ہیں۔ اصفہان کا "مینار جنبان" (متحرک منارہ)، زایندہ رود نامی دریا کے پانی کی تقسیم کے لئے انجام یافتہ تعمیراتی منصوبہ، مسجد امام اصفہان کے گنبد کے نقشے کی تیاری اور شہر نجف اشرف کی بیرونی باڑ کے نقشے کی تیاری، ان ہی کے آثار میں سے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے مختلف نقاط کا سفر کیا اور شاہ عباس صفوی کے ساتھ اصفہان سے مشہد مقدس کے مشہور تاریخی سفر میں ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے یہ سفر پیدل طے کیا تھا۔ نیز بہاء الدین عاملی صفوی حکومت میں اعلی ترین دینی منصب "شیخ الاسلامی" پر فائز رہے۔

ولادت اور نسب[ترمیم]

بہاء الدین العاملی سترہ یا ستائیس ذوالحجہ سنہ 953 ھ کو (موجودہ لبنان کے شہر) بعلبک میں پیدا ہوئے۔ آبائی گاؤں جبل عامل کا جَبَع یا جَباع[1]، نامی گاؤں تھا۔[2]

ان کے والد کا نام عزّالدین حسین بن عبدالصمد الحارثی (وفات 984ھ)، شہید ثانی (وفات 966ھ) کے دوستوں اور شاگردوں میں سے تھے۔

ان کا سلسلۂ نسبامام علی (ع) کے صحابی حارث ہَمْدانی (وفات 65 ہجری) تک پہنچنتا ہے اسی بنا پر وہ حارثی ہَمْدانی کے عنوان سے مشہور تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. [جبل عامل [1]۔
  2. مجلسـی، محمدباقر، ج104، ص1، 14، 20، 24، 27، 34، 47، 208، 211؛ مہاجر، ص145؛ مدنی، الحدائق، ص3؛ بحرانی، ص16؛ برہان آزاد، ص143 ـ 144
Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔