بہاؤ (ناول)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بہاؤ (ناول)
 
بہاؤ1.jpg
مصنف مستنصر حسین تارڑ
ملک Flag of پاکستانپاکستان
زبان اردو
صنف ناول
ناشر سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور
تاریخ اشاعت 1992ء
ذرائع ابلاغ مطبوعہ (مجلد)
صفحات 229

بہاؤ ، پاکستان سے شائع ہونے والا اردو ناول ہے جسے اردو کے مشہور و معروف مصنف مستنصر حسین تارڑ تحریر کیا ہے۔

مواد و موضوع[ترمیم]

"بہاؤ " میں اُن کا فن اپنے اوج پر نظر آتا ہے، پڑھنے والوں نے خود کو حیرت کے دریا میں بہتا محسوس کیا۔اس ناول کا مضوع وادئ سندھ کی تہذیب کی تہذیب ہے۔ اِس ناول میں تارڑ نے تخیل کے زور پر ایک قدیم تہذیب میں نئی روح پھونک دی۔ "بہاﺅ" میں ایک قدیم دریا سرسوتی کے معدوم اور خشک ہوجانے کا بیان ہے، جس سے پوری تہذیب فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے[1]۔

طرز نگارش و زبان[ترمیم]

ناول کی زبان انتہائی منفرد ہے اس میں سندھی، سنسکرت، براہوی اور سرائیکی زبان کے الفاظ جا بجا ملتے ہیں جس سے ناول کا طرزِ تحریر اور اسلوب منفرد ہو جاتا ہے۔ “بہاؤ” کی طرزِ تحریرو زبان کی مثال ملنا مشکل ہے ، یہ ایک انوکھی تخلیق ہے بقول مصنف یہ ایک(Myth ) متھ ہے۔ “بہاؤ” میں مستنصر حسین تارڑ ماہر بشریات(Anthropoligist) نظر آتے ہیں۔

ناول کی تخلیق و مرکزی خیال[ترمیم]

"بہاؤ" کی بُنت کے حوالے سے مستنصر حسین تارڑ کہتے ہیں،

دراصل مجھے رات میں اٹھ کر پانی پینے کی عادت ہے۔ میں سائیڈ ٹیبل پر پانی سے بھرا گلاس رکھ لیتا ہوں۔ اور میں شیشے کا گلاس نہیں رکھتا۔ مجھے پکے گلاس میں پانی پینے کی عادت ہے۔ تو وہ بہت گرم رات تھی۔ جب نیم غنودگی میں اٹھ کر میں نے پانی پیا، تو احساس ہوا کہ گلاس میں، میرے اندازے کے مطابق، جہاں تک پانی ہونا چاہیے، وہ اُس سے تھوڑا کم ہے۔ بیرونی حصے میں پانی کی ٹھنڈ یا نمی وہاں محسوس نہیں ہوئی، جہاں پہلے ہوا کرتی تھی۔ وہ پہلا موقع تھا، جب ”بہاؤ“ کا ابتدائی خیال کہ پانی خشک ہورہا ہے، میرے ذہن میں آیا۔ پھر میں نے ایک آرکیالوجسٹ، رفیق مغل کی تحریر پڑھی، جو چولستان کے بارے میں تھی۔ اس میں ایک لائن تھی، جو مجھے اب تک یاد ہے: اساطیری دریا سرسوتی ان دنوں چولستان میں بہا کرتا تھا۔ پھر کسی نامعلوم سبب وہ خشک ہو گیا! یہ سطر میرے ذہن میں بیٹھ گئی۔ میں چولستان گیا۔ وہاں مجھے وہ ٹھیکریاں سی ملیں، جنھیں میں نے بعد میں ناول میں استعمال کیا۔ پھر مزید تحقیق کی، ناول کی شکل سامنے آئی۔ تو جیسا میں نے کہا، میں اپنے کام پر بہت محنت کرتا ہوں۔ شاید اسی وجہ سے ”بہاﺅ“ کو پسند کیا گیا، اور اس نے اپنی جگہ بنا لی۔[1]

مستنصر حسین تارڑ بہاؤ (ناول) کی تخلیق و تحقیق کے تجربے کو یوں بیان کرتے ہیں،

اُسے لکھنے میں وقت نہیں لگا۔ اصل وقت تحقیق میں لگا۔ زبان کا کیا رنگ ڈھنگ ہونا چاہیے؟ یہ اہم سوال تھا۔ جب میں نے اُسے لکھنا شروع کیا، تو پچاس ساٹھ صفحات لکھ کر اُسے پڑھا۔ اندازہ ہوا کہ جو زبان میں نے لکھی ہے، وہ آج کی زبان ہے۔ مثلاً لڑکا لڑکی سے کہتا ہے "مجھے تم سے محبت ہے!" اب پانچ ہزار سال پہلے تو یہ بات اِس طرح نہیں کہی جاتی ہوگی۔ منشی پریم چند کے زمانے میں بھی محبت کا اظہار اِس طرح نہیں کیا جاتا تھا۔ اِس کے بجائے کہا جاتا تھا: "تم نے مجھے موہ لیا ہے"۔ اگر ساٹھ ستر سال میں Expression اتنا تبدیل ہو گیا، تو پانچ ہزار سال پہلے کا Expression کیا ہوگا۔ پھر چند ماہر لسانیات، مثلاً علی عباس جلال پوری اور فرید کوٹی سے مشورے کیے کہ اُس زمانے میں کون کون سی زبانیں تھیں۔ اتفاق سے اُن ہی دنوں مجھے The ancient Tamil poetry کے موضوع پر برکلے یونیورسٹی کا ایک تھیسس ملا۔ یہ بڑا دل چسپ امر ہے کہ تامل اور براہوی، دو زبانیں ایسی ہیں، جنہوں نے دراوڑی زبان سے سب سے زیادہ الفاظ لیے۔ میں نے سوچا کہ قدیم تامل شاعری کا Expression ضرور اُس زمانے میں رائج دراوڑی بولی کے قریب تر ہوگا۔ تو اس تھیسس کا پورا مطالعہ کیا۔ ردھم اور اس زمانے کے استعاروں کو سمجھا۔ "بہاؤ" میں آپ کو کوئی جدید استعارہ نہیں ملے گا۔ جب کردار کی چال کا تذکرہ آتا ہے، تو یہ کہا جاتا ہے؛ اُس کی چال اتنی خوب صورت تھی کہ شہد کی مکھیاں اُس کے پیچھے پیچھے چلی جاتیں۔ یا پھر؛ اس کے Hip (سرین) کوبرا کے پھن کی طرح تھے، جن میں زہر بھرا تھا، جن سے وہ مجھے ڈس سکتی تھی۔ یعنی میں نے قدیم تامل شاعری پڑھی، اور اس میں اختراع کی۔ اگر مجھے پیٹرن مل جائے، تو میں اختراع کر لیتا ہوں[1]۔

ناول کا مرکزی کردار[ترمیم]

ناول کا سب سے مضبوط کریکٹر پاروشنی کا ہے جس کے بارے میں کہتے ہیں،

پاروشنی ایک ایسی لڑکی تھی، جو بہت خوب صورت تھی۔ میرے اور اُس کے درمیان ایک رشتہ تھا۔ Understanding کا رشتہ، یا اور محبت کا رشتہ کہہ لیں۔ پاروشنی اسی کا سراپا ہے۔ چال ڈھال، جسمانی خطوط میں نے وہاں سے لیے، مگر میں اسے پانچ ہزار سال پیچھے لے گیا۔[1]

مجموعی جائزہ[ترمیم]

مستنصر حسین تارڑ کے ناول "بہاؤ" کو بجا طور پر اردو کا ایک بڑا ناول کہا جا سکتا ہے۔ یہ ناول ایک ایسا شاہکار ہے جو اپنے اندر صدیوں پرانے جہانِ رنگ و بو کو سُموئے ہوئے ہے۔ اس ناول میں انسان اور زندگی لازم و ملزوم ہیں۔ انسان کی موجودگی سے زندگی کے تارو پود کو دوام حاصل ہے۔ انسان کی تہذیب، انسان کی کہانی ہے۔ اس تہذیب کا ارتقاء آدمی کے دم قدم سے ہے۔ آدم کی پہلی تہذیب زرعی تہذیب تھی اور انسان کا اوّل شاہکار مٹی سے ظروف سازی تھی۔ زمانے میں نشیب و فراز آتے ہیں۔ پرانی تہذیب کی جگہ نئی تہذیب لے لیتی ہے۔ کھنڈروں کی جگہ نئی بستیاں آباد ہو جاتی ہیں۔ پرانی چیزیں فنا اور نئی چیزوں میں بقاء پیدا ہو جاتی ہے مگر انسان ہر حال میں باقی رہتا ہے۔ ہر طرح کے حالات و حادثات کے باوجود انسان بچ نکلتا ہے۔ پرانی تہذیب کی جگہ نئی تہذیب ، کھنڈر کی جگہ عمارت اور پرانی کی جگہ نئی چیز، ان سب کی تخلیقیت آدمی کے ہونے سے وابستہ ہے۔ اور یہی سب مستنصر حسین تارڑ کے ناول کا مرکزی تھیم ہے[2]۔

اس ناول میں حیران کن چیز، مستنصرحسین تارڑ کا مضبوط تخیل ہے جو پانچ ہزار سال پہلے کی تہذیب ہماری آنکھوں کے سامنے لاکھڑی کرتا ہے۔ ناول قاری کو اُس تہذیب کا حصہ بنا دیتا ہے ۔ انسان اپنے آپ کو اسی ماحول کا باسی سمجھنے لگتا ہے۔ وہ اُن کرداروں کا ساتھی بن جاتاہے۔ اُن کے دُکھ سُکھ کا سانجھی اور خوشی و شادمانی کا شراکتی ہوتا ہے۔ ناول کے کردار جاندار اور جیتے جاگتے محسوس ہوتے ہیں۔ اس ناول میں جو تخلیقی دریافت ہے وہ تباہی (Disaster) ہے۔ جو بالکل منفرد قسم کی ہے۔ ایک فطری تباہی (Natural Disaster) ہوتی ہے، جیسے آندھیاں آتی ہیں، طوفان آتے ہیں، سمندر میں سونامی پیدا ہوتا ہے وغیرہ۔ دوسرا تباہی کا وہ پہلو ہے جس میں انسان خود ملوث ہے۔ جو انسان خود اپنے ہاتھوں سے لاتا ہے۔ جیسے ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں ایٹم بم گرایا۔ جیسے عراق اور افغانستان میں فاسفورس اور ڈیزی بم پھینکے لیکن جو تباہی (Disaster) مستنصر حسین تارڑ نے اپنے ناول "بہاؤ" میں دکھائی وہ اُن دونوں اقسام کی تباہی سے ہٹ کر ہے۔ وہ نہ فطرت لاتی ہے نہ انسان خود لاتا ہے بلکہ غیر محسوس انداز میں آتی ہے۔ یہ تباہی کا ایک الگ سا انداز ہے جو تخلیقی فن پارے "بہاؤ" میں ملتا ہے کہ سرسوتی اور گنگا دریا میں پانی کم ہونے لگتا ہے ۔ دریا آہستہ آہستہ اتنا خشک ہو جاتا ہے کہ زندگی تعطل کا شکار ہو جاتی ہے اور پانی (دریا سے وابستہ) جو زندگی کا اہم عنصر ہے مفقود ہو جاتا ہے۔ اس تباہی سے بہت سے حیوانات مر جاتے ہیں۔ کچھ دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتے ہیں۔ ڈائنو سار جیسے بڑے جانور ختم ہو جاتے ہیں مگر انسان واحد حیوان ہے جو محفوظ رہتا ہے۔ اس ناول کا دل چسپ عنصر بھی یہ ہے کہ انسان، ایک ایسی عجیب وغریب چیز ہے جو ان تمام حادثات و واقعات اور تباہی (Disaster) کے بعد بھی بچ نکلنے میں کامیاب رہتی ہے[2]۔

اس ناول میں کرداروں کے نام اور اُن کے کارمنصب کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ پاروشنی (ایک دانش ور خاتون)، پکلی (مٹی کے ظروف بنانے والی)، ورچن (ایک سیاح)، سمرو (کسان)، مامن ماسا (درویش) گاگری اور چیوہ (میاں، بیوی کی علامت)۔ ان کرداروں کے ذریعے اس قدیم عہد کی معاشرت اور سائیکی کو سمجھا جا سکتا ہے۔ پھر اس ناول میں جو اہم ترین بات ہے کہ انسان اپنی تہذیب و ثقافت کو بھی مصنوعات کے ذریعے آنے والے لوگوں کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔ "بہاؤ" میں مستنصر حسین تارڑ نے بھی اس واقعہ کو اپنے ناول میں کسی فلم کی طرح فلمایا ہے۔ جیسے برتنوں پر اس وقت کا فن کار (پکلی) پُھول اور بیل بُوٹے بناتا ہے تو اس کا مقصد اپنے فن اور تہذیب کو آنے والے لوگوں کے لیے محفوظ کرنا ہوتا ہے۔ پھر آنے والی نسل(صدیوں بعد) اُن کو اپنے آباء کی یادگار سمجھ کر میوزیم میں سجا دیتی ہیں۔

تنقیدی آراء[ترمیم]

محمد ساجد بہاؤ کے بارے میں کہتے ہیں:

'بہاؤ' انسانی زندگی کا ترجمان ناول ہے جو اردو ادب میں ہمیشہ زندہ جاوید رہے گا[2]۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]