بہائی دین
بہائی دین انیسویں صدی میں قائم ہوا، جو تمام ادیان کی بنیادی اقدار اور تمام انسانوں کی وحدت کی تعلیم دیتا ہے۔ اس کی بنیاد بہاءاللہ نے رکھی؛ ابتدا میں یہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے بعض حصوں میں فروغ پاتا رہا، جہاں آغاز ہی سے اسے مسلسل جبر و اذیت کا سامنا رہا۔[1] اس کے پیروکار، جنھیں بہائی کہا جاتا ہے، دنیا کے بیشتر ممالک اور خطوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔
بہائی عقائد کے مطابق، دنیا کے تمام ادیان ایک ہی منبع سے آتے ہیں۔ متعدد ہستیوں نے خدا کا پیغام انسانوں تک پہنچانے کے لیے نئے ادیان متعارف کرائے جو اپنے اپنے زمانے اور حالات کے مطابق تھے۔ بہاء اللہ اس دور کے لیے خدا کے مظہرِ ظہور الہی ہیں جو پوری دنیا کو متحد کرنے کے لیے آئے اور جن کا مقصد اور پیغام یہ ہے کہ "زمین محض ایک ملک ہے اور انسان اس کے شہری ہیں"۔ خدا ایک ہے اور وہ وقتاً فوقتاً انسانیت کی تربیت کے لیے اپنے مظاہر کو زمین پر بھیجتا ہے۔
بہائی دین
بہاء اللہ کی تعلیمات، بہائی عقائد کی بنیاد ہیں۔ ان تعلیمات کے مرکز میں تین اصول ہیں: وحدتِ خدا، وحدتِ ادیان اور وحدتِ انسانیت۔ بہائیوں کا ایمان ہے کہ خدا اپنی مشیت کو وقتاً فوقتاً مظاہرِ الٰہی کے ذریعے ظاہر کرتا ہے، جس کا مقصد انسان کے کردار کو بدلنا اور اُن لوگوں کے اندر اخلاقی اور روحانی صفات کو فروغ دینا ہے۔ اس طرح دین کو ہر دور میں ایک منظم، متحد اور ترقی پزیر نظام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔[2]
خدا
بہائی تحریرات کے مطابق، خدا کو ایک واحد، لامحدود، علیمِ کُل، ہر جگہ موجود، لا زوال اور قادرِ مطلق ہستی کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو کائنات کی تمام چیزوں کا خالق ہے۔[3] خدا کے وجود کو ازلی و ابدی سمجھا جاتا ہے، جس کی نہ ابتدا ہے نہ انتہا۔ اگرچہ خدا براہِ راست انسانی ادراک سے ماورا ہے، تاہم وہ اپنی مخلوق سے باخبر ہے اور اُس کی ایک مشیت اور مقصد ہے، جسے وہ انسانوں تک اپنے مظاہرِ الٰہی کے ذریعے ظاہر کرتا ہے۔[4] بہائی تصورِ خدا ایک "ماہیتِ نامعلوم" ہے جو تمام وجود کا منبع ہے اور جس کا عرفان صرف مظہرظہور الہی کے عرفان کے ذریعے ممکن ہے۔
تعلیماتِ بہائی کے مطابق کہا گیا ہے کہ خدا اتنا عظیم ہے کہ انسان اس کا پورا ادراک نہیں کر سکتا اور اسی بنا پر انسان خود خدا کی مکمل اور درست تصویر قائم نہیں کر سکتا۔ لہٰذا خدا کی معرفت صرف اس کے مظاہرظہور الٰہی کے واسطے سے حاصل کی جا سکتی ہے اور اس کے مقصد اور ارادہ کی تفہیم بھی صرف انہی مظاہر کے ذریعے ممکن ہے۔[5] دینِ بہائی میں خدا کو اکثر القابات اور صفات سے پکارا جاتا ہے (مثلاً قادرِ مطلق یا محبوب) اور توحید پر خاص زور دیا جاتا ہے۔بہائی تعلیمات کے مطابق یہ صفات براہِ راست خدا پر لاگو نہیں ہوتیں، بلکہ انھیں خدا کی حقیقت کو انسانی زبان میں بیان کرنے اور لوگوں کو اپنے روحانی سفر میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے خدا کی عبادت میں انہی صفات پر غور کرنے میں مدد دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔[6] تعلیماتِ بہائی کے مطابق، انسانوں کا مقصد یہ ہے کہ وہ دعا، تفکر اور دوسروں کی خدمت جیسے ذرائع سے خدا کو جاننا اور اس سے محبت کرنا سیکھیں۔ [6]
دین
تدریجی وحی کے بہائی تصورات کے نتیجے میں، وہ دنیا کے معروف مذاہب کی صداقت کو تسلیم کرتے ہیں اور اُن کے بانیوں کو مظاہرِ الٰہی سمجھا جاتا ہے۔[7] دینی تاریخ کو ادوار کے سلسلے کے طور پر سمجھا جاتا ہے، جہاں ہر مظہرظہورالٰہی نسبتاً وسیع تر اور زیادہ ترقی یافتہ تعلیمات لے کر آتا ہے، جو کتابی صورت میں محفوظ ہو کر نسل در نسل منتقل ہوتیں ہیں،[8] اور یہ اسی زمانے اور مقام کے لیے موزوں ہوتیں ہیں جہاں وہ نازل ہوئی۔[9]کچھ سماجی دینی احکام (جیسے عبادت کا طریقہ یا خوراک کے اصول) وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتے ہیں، جبکہ بعض بنیادی اصول (جیسے بھائی چارہ اور خیرات) ہمیشہ یکساں رہتے ہیں۔ بہائی دین میں یہ عملِ تدریجی وحی ختم نہیں ہوگا؛ تاہم اسے ایک دوری عمل سمجھا جاتا ہے۔
میثاق

بہائی تعلیمات میں وحدت کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور بہاءُ اللہ نے واضح اصول مقرر کیے تاکہ جماعت متحد رہے اور اختلافات حل کیے جا سکیں۔ اس نظام میں کوئی فرد مقدس تحریروں کی “الہامی” یا “مستند” تشریح پیش نہیں کر سکتا۔ تمام افراد اُس اختیار کی پیروی کرتے ہیں جو بہائی صحائف میں مقرر کیا گیا ہے۔[10] اس طرزِ عمل نے بہائی جماعت کو متحد رکھا ہے اور کسی سنجیدہ تقسیم کو جنم لینے سے روکا ہے۔ بہائیوں کے مابین کسی بھی تنازع کے حل کے لیے بیت العدل اعظم الہی آخری اختیار ہے اور تقسیم کی کوششیں یا تو ناپید ہو چکی ہیں یا نہایت محدود رہی ہیں۔[11] ایسے گروہوں کے پیروکاروں کو ناقضینِ عہد سمجھا جاتا ہے اور ان سے قطعِ تعلق رکھا جاتا ہے۔[12]
سماجی اصول
عبدالبهاء نے 1911۔1912 میں یورپ اور امریکا کے دوروں کے دوران بہائی تعلیمات کے بنیادی اصول واضح کیے۔[13]جن میں مرد و عورت کی برابری، نسلی اتحاد، عالمی امن اور دیگر ترقی پسند تصورات شامل تھے۔ انسانیت کی وحدت کا تصور، جسے بہائی قدیم صداقت سمجھتے ہیں، بہت سے افکار کے لیے نقطۂ آغاز ہے۔ مثال کے طور پر، نسلوں کی برابری اور دولت و غربت کی انتہاؤں کا خاتمہ اسی وحدت کے مضمرات ہیں۔[14] اس تصور کا ایک اور نتیجہ ایک متحدہ عالمی نظام کی ضرورت ہے اور اس کے قیام کو فروغ دینے کے لیے چند عملی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں، جن میں ایک عالمی زبان، معیشت کا معیاری نظام، لازمی تعلیم اور تنازعات کے حل کے لیے ایک بین الاقوامی عدالت کا قیام شامل ہے۔ عالمی امن کی جستجو کے حوالے سے، حضرت بہاء اللہ نے عالمگیر اجتماعی سلامتی کا ایک نظام بیان کیا۔[15]
بہائی دین کے دیگر سماجی اصولوں کا محور روحانی اتحاد ہے۔ دین کو ترقی پزیر سمجھا جاتا ہے، مگر نئی وحی کو پہچاننے کے لیے روایت پرستی ترک کرنا اور حقیقت کی آزادانہ تحقیق ضروری ہے۔ بہائیوں کو سکھایا جاتا ہے کہ دین کو اتحاد کا سرچشمہ اور دینی تعصب کو تباہ کُن سمجھیں۔ سائنس کو بھی حقیقی دین کے ساتھ ہم آہنگ سمجھا جاتا ہے۔[16] اگرچہ بہاء اللہ اور عبد البہاء نے جنگ سے پاک ایک متحد دنیا کی دعوت دی، تاہم انھوں نے یہ بھی امید رکھی کہ طویل مدت میں ایک پائیدار امن (صلحِ اعظم) قائم ہوگا اور "شدید فساد" کی تطہیر ہوگی۔ ضروری ہے کہ دنیا کے لوگ ایک آفاقی دین کے زیرِ سایہ متحد ہوں جو مادی تہذیب کی تکمیل کے لیے روحانی صفات اور اخلاقیات سے مزین ہو۔[15]
تاریخ
بہائی دین اپنی اصل کا سلسلہ باب کے دین اور اس سے پہلے کی شیخی تحریک سے جوڑتا ہے۔باب ایک تاجر تھے جنھوں نے 1844ء میں یہ اعلان کیا کہ وہ خدا کے مظہر ہیں۔ تاہم ایران کے بیشتر اسلامی علما نے انھیں مسترد کر دیا اور انھیں بدعت کے جرم میں شہید کر دیا گیا ۔[17] باب نے تعلیم دی کہ خدا عنقریب ایک نیامظہر بھیجے گا اور بہائی ایمان رکھتے ہیں کہ بہاء اللہ وہی ہستی تھے۔[18] اگرچہ یہ جداگانہ تحریکیں ہیں، لیکن باب, بہائی تاریخ کی تین مرکزی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں (بہاء اللہ اورعبد البہاء کے ساتھ) اور بابی تحریک کے تاریخی بیان (The Dawn-Breakers) کو ان تین کتابوں میں سے ایک سمجھتے ہیں جن پر ہر بہائی کو "عبور" ہونا چاہیے اور انھیں "بار بار" پڑھنا چاہیے۔[19]
1892ء میں، بہاء اللہ کی وفات کے بعد، بہائی جماعت زیادہ تر ایران اور سلطنتِ عثمانیہ تک محدود تھی، اگرچہ اس وقت ایشیا اور افریقہ کے 13 ممالک میں ان کے پیروکار موجود تھے۔[20] ان کے صاحبزادے عبدالبہاء کی قیادت میں، یہ دین یورپ اور امریکا میں پھیلنے لگا اور ایران میں مستحکم ہوا، جہاں اسے اب بھی شدید ظلم و ستم کا سامنا ہے۔[1] 1921ء میں عبدالبہاء کی وفات اس دور کے اختتام کی نشان دہی کرتی ہے جسے بہائی دین کا عصررسولی(Heroic age) کہا جاتا ہے۔[21]
باب

22 مئی 1844ء کی شام، شیراز کے سید علی محمد نے دنیا کے سامنے اپنے آپ کو ظاہر کیا اور "باب" کا لقب اختیار کیا، جس کے معنی "دروازہ" ہیں اور ان کے مطابق یہ شیعہ اسلام میں منتظر مہدی ہونے کا دعویٰ تھا۔[1] لہٰذا ان کے پیروکار بابی کہلائے۔ جب باب کی تعلیمات پھیلیں، جنھیں اسلامی علما بدعت سمجھتے تھے، تو ان کے پیروکار بڑھتے ہوئے ظلم و ستم اور تشدد کا نشانہ بنے۔[9] تنازعات شدت اختیار کر گئے اور متعدد مقامات پر شاہ کی فوج نے محاصرے کیے۔ خود باب کو بھی قید کیا گیا اور بالآخر 1850ء میں شہید کر دیا گیا۔[22]
بہائی باب کو بہائی دین کا پیش رو سمجھتے ہیں، کیونکہ باب کی تحریروں میں “مَن یُظہرہُ اللہ” (جسے خدا ظاہر کرے گا) کے تصور کو پیش کیا گیا، ایک موعود شخصیت جس کی آمد کے بارے میں دنیا کے تمام بڑے ادیان کے مقدس کلام میں پیش گوئی کی گئی تھی۔[9] بہائی دین کے بانی، بہاء اللہ، نے دعویٰ کیا کہ وہ یہی ہستی ہیں۔ حیفا میں واقع باب کا روضہ مبارک بہائیوں کے لیے ایک اہم زیارت گاہ ہے۔ باب کے جسدِ خاکی کو خفیہ طور پر ایران سے سرزمینِ مقدس منتقل کیا گیا اور بالآخر انھیں اس مقام پر سپردخاک کیا گیا جو بہاء اللہ نے خاص طور پر ان کے لیے مقرر کی تھی۔[23] باب کی تحریروں کو بہائیوں کے نزدیک مقدس صحائف سمجھا جاتا ہے،البتہ بہاء اللہ کے قوانین اور تعلیمات نے اب ان کی جگہ لے لی ہے۔[24] باب کی بنیادی تحریروں کے انگریزی تراجم کو تقریباً 135 تصانیف سے منتخب کر کے Selections from the Writings of the Báb (1976) نامی کتاب میں یکجا کیا گیا ہے۔[25]
بہاء اللہ
میرزا حسین علی نوری باب کے ابتدائی پیروکاروں میں سے ایک تھے اور بعد میں انھوں نے بہاء اللہ کا لقب اختیار کیا۔[26] اگست 1852ء میں بعض بابیوں نے شاہ، ناصر الدین شاہ قاجار، کے قتل کی ناکام کوشش کی۔ شاہ نے جواباً سزائے موت کے احکامات دیے اور طہران میں تقریباً 50 بابیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔[27] مزید برآں، خونریزی پورے ملک میں پھیل گئی اور اکتوبر تک اخبارات کی رپورٹوں میں سینکڑوں اور دسمبر کے اختتام تک ہزاروں افراد کا ذکر تھا۔ [28] بہاء اللہ اس قتل کی کوشش میں ملوث نہیں تھے، لیکن انھیں طہران میں قید کر دیا گیا، یہاں تک کہ چار ماہ بعد روسی سفیر کے ذریعے ان کی رہائی کا بندوبست ہوا۔[29]
کچھ ہی عرصے بعد انھیں سلطنتِ عثمانیہ کے شہر بغداد جلاوطن کر دیا گیا۔[30] بغداد میں ان کی قیادت نے ایران میں ستائے گئے باب کے پیروکاروں میں نئی جان ڈال دی، جس کے نتیجے میں ایرانی حکام نے ان کی منتقلی کی درخواست کی اور اسی بنا پر سلطنت عثمانیہ نے انھیں قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) طلب کر لیا۔ 1863ء میں بغداد سے جلاوطنی کے دوران بہاء اللہ نے اپنے اہلِ خانہ اور پیروکاروں کے سامنے پہلی بار یہ اعلان کیا کہ وہ مظہرِ ظہورالٰہی ہیں۔ انھیں برسوں پہلے طہران کے قید خانے میں وحی موصول ہوئی تھی۔ وہ قسطنطنیہ میں چار ماہ سے کم مقیم رہے۔ بہاء اللہ کا ملامت آمیز خط ملنے کے بعد سلطنت عثمانیہ کے حکام ان کے خلاف ہو گئے اور انھیں اڈریانوپل (موجودہ ادرنہ) میں نظر بند کر دیا، جہاں وہ چار برس تک رہے، یہاں تک کہ 1868ء میں ایک شاہی فرمان کے تحت تمام بابیوں کو قبرص یا عکّا جلاوطن کر دیا گیا۔
عکّا، جو اُس وقت سلطنت عثمانیہ کے صوبۂ شام میں واقع تھا، ایک فصیل بند شہر تھا جس کے بری اور بحری دونوں دروازے تھے جن کے ذریعے آنے والے تمام افراد کی جانچ پڑتال ہوتی تھی۔ چنانچہ بہاء اللہ کی زیارت کے لیے سفر کرنے والے ایرانی زائرین کو روکنا بہت آسان تھا، خصوصاً اس لیے کہ شہر میں قید ازلی (میرزا یحییٰ کے پیروکار) بھی دروازوں پر موجود محافظوں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہونے والے کسی بھی بہائی کی فوراً اطلاع کر دیتے تھے۔سلطنت عثمانیہ کی حکومت عکّا کو سیاسی قیدیوں کے لیے قید خانے کے طور پر استعمال کرتی تھی۔ شہر کے حالات اس قدر ناسازگارِ صحت تھے کہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ جو لوگ ان حالات کے عادی نہیں وہ جلد ہی مر جائیں گے۔[31]
عکّا کی تعزیری کالونی کے اندر یا اس کے نزدیک، بہاءاللہ نے اپنی بقیہ زندگی گزاری۔ ابتدا میں انھیں سخت اور کڑی قید میں رکھا گیا، بعد ازاں انھیں 'عکّا' کے قریب ایک گھر میں رہنے کی اجازت مل گئی، اگرچہ وہ باضابطہ طور پر بدستور شہر کے قیدی شمار ہوتے تھے۔[32] وہ 1892ء میں وفات پا گئے۔ بہائی بہجی میں ان کی آخری آرام گاہ کو اپنا قبلہ سمجھتے ہیں، یعنی وہ سمت جس کی طرف وہ روزانہ دعا کرتے وقت رُخ کرتے ہیں۔[33]
انھوں نے اپنی زندگی کے دوران عربی اور فارسی دونوں میں 18000 سے زائد تصانیف تحریر کیں، جن میں سے صرف 8 فیصد کا انگریزی میں ترجمہ ہوا ہے۔[34] ادرنہ (اڈریانوپل) کے دور میں، انھوں نے دنیا کے دینی اور دنیاوی حکمرانوں کو لکھے گئے خطوط میں اپنے آپ کو خدا کے مظہر ظہور الٰہی کی حیثیت سے پیش کیا، جن میں پوپ پائیس نہم، نپولین سوم اور ملکہ وکٹوریہ شامل تھے۔[35]
عبد البہاء

عباس افندی، بہاء اللہ کے سب سے بڑے بیٹے تھے، جو لقب "عبد البہاء" (خادمِ بہاء) سے معروف تھے۔ ان کے والد کے وصیت نامے کے مطابق عبد البہاء کو بہائی جماعت کے لیے مرکزِ میثاق مقرر کیا۔[36] عبد البہاء اپنے والد کے ساتھ طویل جلاوطنی اور قید میں رہے، جو 1908ءمیں ینگ ترک انقلاب کے نتیجے میں ان کی رہائی تک جاری رہی۔ رہائی کے بعد انھوں نے اپنی زندگی سفر، خطابات، تدریس، دین بہائی کے اصولوں کی توضیح اور بہائیوں کے ساتھ خط کتابت میں بسر کی۔[30]
ابتدائے حیات ہی سے عبدالبہاء ایران میں بابیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے باعث اپنے والد کے مصائب میں شریک رہے اور بعد ازاں طہران سے بغداد، استنبول، اڈریانوپل اور عکّا تک ان کی جلاوطنی کے دوران بھی۔ وہ بہاء اللہ کے قریبی رفیق،اہم منتظم اور سلطنتِ عثمانیہ میں خارجہ امور کے لیے معتمد نمائندہ تھے۔ بہائیوں کے نزدیک، عبدالبہاء اپنے والد کے بیان کے مطابق 'آقا' ہیں اور تعلیمات بہائی کے نمونۂ کامل ہیں۔[37]
2020 تک،حضرت عبدالبہاء کے کلام پر مشتمل 38000 سے زائد موجود دستاویزات ہیں۔[38] ان دستاویزات میں سے صرف ایک قلیل حصہ انگریزی میں ترجمہ ہوا ہے۔ معروف تحریروں میں The Secret of Divine Civilization, Some Answered Questions, Tablet to Auguste-Henri Forel, Tablets of the Divine Plan اور Tablets to The Hague شامل ہیں۔[38] مزید یہ کہ مغرب کے سفر کے دوران ان کی متعدد تقاریر کے نوٹس مختلف ایڈیشنوں میں شائع ہوئے، مثلاً "خطبات پیریس" ۔
شوقی افندی
بہاء اللہ کی کتاب اقدس اور عبدالبہاء کی وصیت نامہ بہائی انتظامی نظم کی بنیادی دستاویزات ہیں۔ بہاء اللہ نے منتخب بیت العدل اعظم کے قیام کا حکم دیا اور عبدالبہاء نے موروثی مقررہ ولایتِ امر کا ادارہ قائم کیا اور دونوں اداروں کے مابین تعلقات کو واضح کیا۔[39] اپنی وصیت میں عبدالبہاء نے اپنے سب سے بڑے نواسے، شوقی افندی، کو ولیِ امر اللہ مقرر کیا۔ شوقی افندی نے اپنی وفات تک، یعنی 36 برس تک دین کے سربراہ کے طور پر خدمت انجام دی۔[40]

زندگی بھر، شوقی افندی نے بہائی تحریرات کا ترجمہ کیا؛ بہائی جماعت کی توسیع کے لیے عالمی منصوبے تیار کیے؛ بہائی عالمی مرکز کو ترقی دی؛ دنیا بھر کی جماعت اور افراد کے ساتھ وسیع خط کتابت کی؛ اور دین کے انتظامی ڈھانچے کی تعمیر کی، تاکہ جماعت کو بیت العدل عدل اعظم کے انتخاب کے لیے تیار کیا جا سکے۔[30] 4 نومبر 1957 کو وہ لندن، انگلستان میں ایک مختصر علالت کے بعد غیر متوقع طور پر وفات پا گئے، ایسے حالات میں کہ جانشین کی تقرری ممکن نہ ہو سکی۔[41]
1937 میں، شوقی افندی نے شمالی امریکا کے بہائیوں کے لیے سات سالہ منصوبے کا آغاز کیا، جس کے بعد 1946 میں ایک دوسرا منصوبہ شروع کیا گیا۔ 1953 میں انھوں نے پہلا بین الاقوامی منصوبہ، یعنی دس سالہ عالمی مہم، شروع کیا۔ اس منصوبے میں انتہائی بلند اہداف شامل تھے، مثلاً بہائی جماعت اور اداروں کی توسیع، آثار مقدسہ کا کئی نئی زبانوں میں ترجمہ اور اُن ممالک میں بہائی مہاجرین کو بھیجنا جہاں پہلے کوئی بہائی موجودگی نہیں تھی۔[42] دس سالہ مہم کے دوران انھوں نے اپنے خطوط میں اعلان کیا کہ مزید منصوبے بیت العدل اعظم کی رہنمائی میں آئیں گے، جس کا انتخاب 1963 میں اس مہم کے اختتام پر ہوا۔
شوقی افندی نے بہائی جماعت پر گہرا اثر چھوڑا، جس کا اثر آج بھی نمایاں ہے۔ بہائی تحریرات کی ان کی تشریحات کو مستند سمجھا جاتا ہے، اس لیے وہ بہائی الہیات اور فقہ کی تفہیم کے ساتھ ساتھ بہائی سماجی تعلیمات کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ بہائی انتظامی نظام کے بارے میں ان کی تحریریں اس امر میں رہنمائی کا ایک اہم ماخذ بنی ہوئی ہیں کہ بہائی اداروں کو کس طرح کام کرنا چاہیے۔[31]
بیت العدل اعظم
1963 سے، بیت العدل اعظم بہائی دین کا اعلیٰ ترین منتخب ادارہ ہے۔ اس ادارے کے عمومی فرائض بہاء اللہ کے آثار میں متعین کیے گئے ہیں اور عبد البہاء اور شوقی افندی کی تحریرات میں ان کی توضیح کی گئی ہے۔ ان فرائض میں تعلیم و تربیت، قوانینِ بہائی کے نفاذ، سماجی مسائل کا حل اور کمزور و نادار افراد کی خبرگیری شامل ہے۔[43]

1964 میں شروع کیے گئے نو سالہ منصوبے سے آغاز کرتے ہوئے، بیت العدل اعظم نے بہائی جماعت کے کام کی رہنمائی کئی سالہ بین الاقوامی منصوبوں کے سلسلے کے ذریعے کی ہے۔[44] 1964 کے نو سالہ منصوبے سے شروع کرتے ہوئے، بہائی قیادت نے دین کی توسیع جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ نئے افراد کو مستحکم کرنے کی بھی کوشش کی، یعنی بہائی تعلیمات کے بارے میں ان کے علم میں اضافہ کرنا۔[45] اسی سلسلے میں، 1970 کی دہائی کے دوران، کولمبیا کے بہائیوں نے روحی ادارہ قائم کیا تاکہ بہائی عقائد پر مختصر کورسز پیش کیے جائیں، جن کی مدت ایک دو دن سے لے کر نو دن تک تھی۔[45]روحی فاؤنڈیشن، جس کا مقصد نئے بہائیوں کو منظم انداز سے مستحکم کرنا تھا، 1992 میں رجسٹر ہوئی اور 1990 کی دہائی کے اواخر سے روحی ادارے کے کورسز دنیا بھر میں بہائی تعلیمات کی تفہیم بڑھانے کا بنیادی طریقہ رہے ہیں۔[45] 2013 تک، دنیا بھر میں 300 سے زائد بہائی تربیتی ادارے موجود تھے اور ایک لاکھ لوگ ان کورسز میں شریک تھے۔ روحی ادارے کے کورسز، دیگر سرگرمیوں کے علاوہ بچوں اور نوجوانوں کی روحانی تعلیم کے لیے کلاسیں خود مختارانہ طور پر منظم کرنے کی تربیت دیتے ہیں ۔ مزید بہائی کمیونٹی کے کام کے لیے جن میدانوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، ان میں سماجی اقدامات میں شرکت اور رائج سماجی مکالموں میں شمولیت بھی شامل ہیں۔[46]
ہر سال اپریل کے مہینے میں، بیت العدل اعظم دنیا بھر کی بہائی جماعت کو ایک ’پیغامِ رضوان‘ بھیجتا ہے، جس میں بہائیوں کو موجودہ پیش رفت سے آگاہ کیا جاتا ہے اور آنے والے سال کے لیے مزید رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔[ا]
محلی، علاقائی اور ملّی سطحوں پر بہائی نو افراد پر مشتمل محافلِ روحانی کے اراکین کا انتخاب کرتے ہیں، جو دین کے امور کا انتظام سنبھالتی ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی سمیت مختلف سطحوں پر افراد بھی تعلیمات کے فروغ اور جماعت کے تحفظ کے لیے نامزد کیے جاتے ہیں۔ ان افراد کا کردار دینی پیشوائیت جیسا نہیں ہوتا کیونکہ بہائی دین میں روحانی پیشواؤں کا کوئی طبقہ موجود نہیں۔[9][47] بیت العدلِ اعظم بہائی دین کا اعلیٰ ترین انتظامی ادارہ ہے اور اس کے 9 اراکین کا انتخاب ہر پانچ سال بعد تمام محافلِ روحانی ملّی کے اراکین کرتے ہیں۔[48] ہر مرد بہائی، جس کی عمر 21 سال یا اس سے زیادہ ہو، بیت العدلِ اعظم کے لیے منتخب ہونے کا اہل ہے؛ دیگر تمام مناصب مرد و زن دونوں بہائیوں کے لیے کھلے ہیں۔[49]
اپنی ایک تحریر میں بہاء اللہ فرماتے ہیں کہ "امرِ خدا اور اس کے دین کو متحرک کرنے والا بنیادی مقصد یہ ہے کہ نوعِ انسانی کے مفادات کی حفاظت کی جائے، اس کی وحدت کو فروغ دیا جائے اور انسانوں کے درمیان محبت اور اخوت کی روح کو پروان چڑھایا جائے۔" اپنے میثاق کے ذریعے بہاء اللہ نے اس بات کی توثیق کی کہ بہائی جماعت کے پاس ہمیشہ ایک معصوم از خطا مرکز رہے گا، جو جماعت کی دائمی اور ارتقائی وحدت کی ضمانت ہوگا۔اب بیت العدل اعظم اعلیٰ ترین مرکز ہے اور اسے بہاء اللہ کے پیش کردہ نظمِ جہانی کے قیام سے متعلق امور کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ لہٰذا، اپنے بہت سے دیگر اختیارات اور فرائض کے علاوہ، یہ اُن مسائل کو حل کرتا ہے جن کی وضاحت درکار ہو یا جو اختلاف کا باعث بن سکتے ہوں، سرگرمیوں کی پیش رفت اور نظم و نسق کی نگرانی کرتا ہے، ایسے قوانین اور ضوابط وضع کرتا ہے جو جماعت کی مسلسل ترقی کے لیے ضروری ہوں اور ہدایت کا مسلسل سلسلہ فراہم کرتا ہے جو بہائیوں اور ان کے معاونین کی کاوشوں کو انسانیت کی وحدت کو آگے بڑھانے کے لیے مہمیز اور آمادہ کرتا ہے۔[31]
پاکستان میں امرِ بہائی کی تاریخ
پاکستان میں امرِ بہائی کی تاریخ کا آغاز انیسویں صدی میں ہوا، جب بہاءاللہ کی تعلیمات برصغیر تک پہنچیں۔ ملکوتی تمدن کے قیام کی دعوت کے تناظر میں اس نئے دینی پیغام نے خطۂ پنجاب اور سندھ کے مختلف شہروں میں اپنے اولین پیروکار حاصل کیے۔ روایات کے مطابق ملتان کے سعید ہندی کو ان ابتدائی افراد میں شمار کیا جاتا ہے جنھوں نے اس پیغام کو قبول کیا۔[50]
انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر کے دیگر حصوں کی طرح موجودہ پاکستان کے علاقوں میں بھی بہائی جماعت کی تشکیل کا عمل جاری رہا۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہ جماعت ایک منظم دینی اقلیت کے طور پر سامنے آئی، جس نے مقامی اور قومی سطح پر اپنی سرگرمیوں کو وسعت دی۔[50]
پاکستان کے بہائی افراد اور ادارے امن، ہم آہنگی اور سماجی ترقی کے فروغ کے لیے مختلف سطحوں پر سرگرم رہے ہیں۔ ان کی کوششوں کا محور مقامی سماج کی فلاح و بہبود، تعلیم کے فروغ اور افراد کی خود انحصاری کو تقویت دینا رہا ہے۔[50]
1980ء کی دہائی کے اواخر میں بہائی جماعت نے تعلیم کے میدان میں ایک نمایاں اقدام کے طور پر کراچی میں ایک مانٹیسوری اسکول قائم کیا، جو بعد ازاں ثانوی سطح تک توسیع پا کر "نیو ڈے اسکول" کے نام سے معروف ہوا۔[50]
گذشتہ برسوں کے دوران پاکستان کے بہائی افراد نے سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ دیہی اور شہری علاقوں میں تعلیم و تدریس کے پروگراموں، مفت طبی کیمپوں، شجرکاری مہمات اور فکری نشستوں میں شرکت کو ان کی سماجی سرگرمیوں کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔[50]
بہائی جماعت بین المذاہب ہم آہنگی اور بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مکالموں میں بھی شریک رہی ہے۔ مختلف مذاہب اور جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ اشتراکِ عمل کو سماجی ہم آہنگی کے قیام کی کوششوں کا جزو سمجھا جاتا ہے۔[50]
بہائی تعلیمات میں اجتماعی دعا اور روحانی اجتماعات کو اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان میں بہائی افراد دعائیہ اجتماعات اور بچوں و نوجوانوں کے لیے اخلاقی و روحانی تربیتی کلاسوں کا انعقاد کرتے رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد نوجوانوں کی کردار سازی اور سماجی خدمت کے جذبے کو فروغ دیناہے۔[50]
تعلیمات اور اصول
بہائی دین کے اہم اصول یہ ہیں -
- اللہ واحد اور لاشریک ہے
- تمام مذاہب کا منبع ایک ہے[31]
- عالمی امن اور عالمی اتحاد
- سب کے لیے انصاف
- مساواتِ مرد و زن
- سب کے لیے لازمی تعلیم[31]
- سائنس اور دین کی ہم آہنگی
- غربت اور دولت کی انتہاؤں کا خاتمہ
- مادی مسائل کا روحانی حل[31]
بہاء اللہ کی تعلیمات میں ذاتی طرزِ عمل سے متعلق بعض قوانین، جو اُن کے پیروکاروں کے لیے لازمی ہیں یا جن کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، درج ذیل ہیں:
- پندرہ سال سے زیادہ عمر کے بہائیوں پر لازم ہے کہ وہ ہر روز مخصوص الفاظ اور طریقوں کے ساتھ ایک فرض نمازخود پڑھیں۔[51]
- روزانہ کی فرض نماز کے علاوہ، بہائیوں کو روزانہ دعا اور مقدس صحیفوں کے مطالعے میں مشغول رہنا چاہیے۔[52]
- بالغ بہائیوں پر، بعض استثناؤں کے ساتھ، ہر سال مارچ میں انیس روزے رکھنا لازم ہے۔[53]
- بہائی تدفین کے لیے مخصوص تقاضے ہیں، جن میں جنازے کے وقت پڑھی جانے والی ایک مقررہ دعا بھی شامل ہے۔ مومیائی کرنا اور مردہ جسم کو جلانا ناپسندیدہ ہیں۔[54]
ممانعت
ذیل میں ذاتی طرزِ عمل کے بعض افعال درج ہیں جو تعلیماتِ بہاء اللہ کے مطابق ممنوع یا ناپسندیدہ ہیں:
- غیبت اور بدگوئی ممنوع اور مذموم ہیں۔[55]
- شراب نوشی اور شراب کی فروخت ممنوع ہیں۔[56]
- ملاپ (جنسی تعلق) صرف میاں اور بیوی کے درمیان ہی جائز ہے، لہٰذا شادی سے پہلے اور غیر ازدواجی جنسی تعلقات ممنوع ہیں۔[57]
- جماعتی سیاست میں حصہ لینا ممنوع ہے۔[58]
- گداگری ممنوع ہے۔[59]
نماز یا روزے جیسے ذاتی قوانین کی پابندی صرف فرد کی ذمہ داری ہے۔[60] البتہ بعض مواقع پر قوانین کوا علانیہ نظر انداز کرنے یا سنگین بے راہ روی کے سبب ایک بہائی کو انتظامی طور پر جماعت سے خارج کیا جا سکتا ہے۔ ایسے انتظامی اخراج محفل روحانی ملی کے ذریعے عمل میں لائے جاتے ہیں اور ان میں تکفیر شامل نہیں ہوتی۔[61]
شادی
بہائی دین میں شادی کا بنیادی مقصد مرد اور عورت کے درمیان روحانی ہم آہنگی، رفاقت اور اتحاد کو فروغ دینا ہے اور بچوں کی پرورش کے لیے ایک پُرسکون اور محبت بھرا ماحول فراہم کرنا ہے۔[62] شادی کے بارے میں بہائی تعلیمات اسے خیر و فلاح کا قلعہ قرار دیتی ہیں اور شادی اور خاندان کو انسانی معاشرے کی ساخت کی بنیاد سمجھتی ہیں۔[63] بہاء اللہ نے شادی کی بھرپور تحسین کی، طلاق کو ناپسندیدہ قرار دیا اور نکاح سے باہر پاکیزگی کی تاکید کی؛ بہاء اللہ نے سکھایا کہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کی روحانی زندگی سنوارنے کی کوشش کریں۔[64] بین النسلی اور بین الثقافتی شادیوں کوبھی بہائی تحریروں میں نہایت سراہا جاتا ہے۔[63]

جو بہائی شادی کا ارادہ رکھتے ہیں، اُن سے کہا جاتا ہے کہ شادی کا فیصلہ کرنے سے پہلے ایک دوسرے کے مزاج و کردار کو گہرائی سے سمجھیں۔[63] جب دو افراد شادی کا فیصلہ کر لیں تو انھیں دونوں جانب کے والدین کی رضامندی حاصل کرنا لازم ہے، خواہ وہ بہائی ہوں یا نہ ہوں۔ بہائی شادی کی رسم سادہ ہے؛ شادی کی واحد لازمی شرط وہ عہد کے الفاظ کی قرات ہے جو بہاء اللہ نے مقرر کیے ہیں، جنھیں دلہن اور دلہا دونوں دو گواہوں کی موجودگی میں پڑھتے ہیں۔[63] یہ عہد کے الفاظ ہیں: "ہم سب یقیناً خدا کی مرضی کے پابند رہیں گے"۔[63]
عبادت گاہیں
زیادہ تر علاقوں میں، بہائی دعائیہ اجتماعات فی الحال لوگوں کے گھروں یا بہائی مراکز میں منعقد ہوتے ہیں، لیکن کچھ علاقوں میں بہائی عبادت گاہیں (جنھیں بہائی معبد بھی کہا جاتا ہے) تعمیر کی گئی ہیں۔[65] بہائی عبادت گاہیں ایسی جگہیں ہیں جہاں بہائی اور غیر بہائی دونوں خدا کے حضور اپنی عقیدت کا اظہار کر سکتے ہیں۔[66] انھیں مشرق الاذکار کے نام سے بھی جانا جاتا ہے
مشرق الاذکار، جس کا عربی میں مطلب "خدا کے ذکر کے ابھرنے کی جگہ" ہے۔[67] اندر بہائی دین اور دیگر ادیان کی مقدس تحریرات پڑھی یا ترنم کے ساتھ تلاوت کی جا سکتی ہیں اور موسیقی کے لیے مقررہ نصوص اور دعائیں اجتماعی طور پر گائی جا سکتی ہیں، لیکن اندر موسیقی کے آلات بجانا جائز نہیں۔[68] مزید یہ کہ نہ تو وعظ و خطبے دیے جا سکتے ہیں اور نہ کوئی رسوماتی تقاریب ادا کی جا سکتی ہیں۔[68] تمام بہائی عبادت گاہیں نو پہلو والی شکل رکھتی ہیں، ان سے باہر کی طرف جانے والے نو راستے ہوتے ہیں اور ان کے گرد نو باغات واقع ہوتے ہیں۔[69] فی الحال آٹھ براعظمی بہائی عبادت گاہیں اور کچھ مقامی بہائی عبادت گاہیں مکمل ہو چکی ہیں یا زیرِ تعمیر ہیں۔ بہائی تحریرات میں یہ تصور بھی پیش کیا گیا ہے کہ بہائی عبادت گاہوں کے گرد انسانی فلاح، سائنسی اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے ادارے قائم ہوں گے،[67] اگرچہ ابھی تک اس پیمانے پر کوئی تعمیر نہیں ہوئی۔
سماجی و اقتصادی ترقی
اپنے آغاز سے ہی، بہائی دین سماجی و اقتصادی ترقی میں شامل رہا ہے، جس کی ابتدا خواتین کی مساوات پر بڑھتے ہوئے مباحث سے ہوئی۔[70] خواتین کی تعلیم کی ترجیح کو فروغ دیا گیا ہے۔[71] اس کا عملی اظہار اسکولوں، زرعی تعاونی اداروں اور کلینکوں کے قیام کے ذریعے ہوا ہے۔[70]
بہائی دین نے سرگرمی کے ایک نئے مرحلے میں قدم رکھا جب 20 اکتوبر 1983 کو بیت العدل اعظم کی جانب سے ایک پیغام جاری کیا گیا۔ بہائیوں کو ترغیب دی گئی کہ وہ بہائی تعلیمات کے مطابق ایسے طریقے تلاش کریں جن کے ذریعے وہ جن علاقوں میں رہتے تھے اُن کی سماجی و اقتصادی ترقی میں حصہ لے سکیں۔ 1979 میں دنیا بھر میں بہائی سماجی و اقتصادی ترقی کے 129 منصوبے سرکاری طور پر تسلیم شدہ تھے۔ 1987 تک سرکاری طور پر تسلیم شدہ ترقیاتی منصوبوں کی تعداد بڑھ کر 1482 ہو گئی تھی۔[44]
موجودہ سماجی اقدامات کے پہلومیں صحت، صفائی ستھرائی، تعلیم، صنفی مساوات، فنون و ذرائع ابلاغ، زراعت اور ماحولیات جیسے شعبوں میں سرگرمیاں شامل ہیں۔[72] ان منصوبوں میں اسکول بھی شامل ہیں، جو دیہی تدریسی اسکولوں سے لے کر بڑے ثانوی اسکولوں اور بعض جامعات تک محیط ہیں۔[73] 2017 تک، بہائی دفتر برائے سماجی و اقتصادی ترقی کے اندازے کے مطابق 40000 چھوٹے پیمانے کے منصوبے، 1400 جاری منصوبے اور 135 بہائی متاثر تنظیمیں موجود تھیں۔[72]
مزید برآں، دنیا بھر کے بہائی درج ذیل کاوشوں کے ذریعے اس نئے عالمی نظام میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ یہ عالمی پروگرام انسان اور معاشرے کے ایسے تصور پر مرکوز ہے جو اپنی نوعیت میں روحانی ہے اور افراد کو روحانی و مادی ترقی کے عمل میں نمایاں کارکردگی دکھانے کی صلاحیت دیتا ہے۔
بہائی پیروکار مندرجہ ذیل سرگرمیوں کے ذریعے فلاح و بہبودِ انسانیت کے لیے سرگرم ہیں:
- دعائیہ اجتماعات
- بچوں کی اخلاقی تربیت کی کلاسیں
- نوجوانوں کی روحانی بااختیاری کے پروگرام
- سٹڈی سرکل کی کلاسیں
اقوام متحدہ
بہاء اللہ نے انسانیت کی اجتماعی زندگی کے اس دور میں ایک عالمی حکومت کی ضرورت کے بارے میں لکھا۔ اسی تاکید کے پیش نظر، بین الاقوامی بہائی جماعت نے اقوام متحدہ کے موجودہ ڈھانچے اور دستور پر بعض تحفظات کے باوجود، جمعیت اقوام(League of Nations) اور اقوام متحدہ جیسی تنظیموں کے ذریعے بین الاقوامی تعلقات میں بہتری کی کوششوں کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔[73] بہائی بین الاقوامی کمیونٹی حیفا میں بیت العدل اعظم کی ہدایت کے تحت کام کرنے والا ایک ادارہ ہے اور درج ذیل تنظیموں کے ساتھ اسے مشاورتی حیثیت حاصل ہے:[74]
- اقوام متحدہ کا فنڈ برائے اطفال (UNICEF)
- اقوام متحدہ ترقیاتی فنڈ برائے خواتین (UNIFEM)
- اقوام متحدہ اقتصادی و سماجی کونسل (ECOSOC)
- اقوام متحدہ ماحولیاتی پروگرام (UNEP)
- عالمی ادارۂ صحت (WHO)
بہائی بین الاقوامی کمیونٹی کے اقوام متحدہ کے نیویارک اور جنیوا میں دفاتر ہیں اور اس کی نمائندگی اقوام متحدہ کے علاقائی کمیشنوں اور ادیس ابابا، بینکاک، نائیروبی، روم، سانتیاگو اور ویانا کے دیگر دفاتر میں بھی ہے۔[75] حالیہ برسوں میں، اس کے اقوام متحدہ کے دفتر کے حصے کے طور پر ماحولیات کا دفتر اور خواتین کی ترقی کے لیے دفتر قائم کیے گئے ہیں۔ بہائی دین نے اقوام متحدہ کی مختلف دیگر ایجنسیوں کے ساتھ مشترکہ ترقیاتی پروگرام بھی چلائے ہیں۔ اقوام متحدہ کے 2000ء ملینیم فورم میں، اجلاس کے دوران چند غیر سرکاری مقررین میں سے ایک بہائی کو مدعو کیا گیا تھا[76]۔
ایذا رسانی اور جبر
کچھ اکثریتی مسلم ممالک میں بہائیوں کی ایذا رسانی جاری ہے، جہاں کے رہنما بہائی دین کو ایک مستقل دین تسلیم نہیں کرتے بلکہ اسے اسلام سے ارتداد سمجھتے ہیں۔ سب سے شدید جبر ایران میں ہوا، جہاں 1978 اور 1998 کے درمیان دو سو سے زائد بہائیوں کو قتل کیا گیا۔[77] بہائیوں کے حقوق پر مختلف درجوں میں پابندیاں متعدد دیگر ممالک میں بھی عائد کی گئی ہیں، جن میں مصر، افغانستان، عراق[78], مراکش[79], یمن اور ذیلی صحارا افریقہ کے کئی ممالک شامل ہیں۔[44]
بہائیوں پر سب سے دیرپا جبر و ستم اسی دین کی جائے پیدائش، ایران میں پیش آیا ہے۔[80] یہ کہہ کر تحریک کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی گئی کہ اس کے پیروکار خدا کے دشمن ہیں۔ ان دینی فتووں کے نتیجے میں ہجوم نے بابیوں پر حملے کیے اور بعض کو سرِعام سزائے موت دی گئی۔[1] بیسویں صدی کے اوائل میں، انفرادی بہائیوں کے خلاف کارروائیوں کے علاوہ، پورے بہائی جماعت اور اس کے اداروں کونشانہ بنانے کے لیے منظم اور مرکزی سطح پر مہمات شروع کی گئیں۔[81] 1903 میں یزد میں ایک واقعے میں، 100 سے زیادہ بہائیوں کو قتل کیا گیا۔[82] بہائی اسکول، جیسے طہران میں لڑکوں اور لڑکیوں کے اسکول، 1930 کی دہائی اور 1940 کی دہائی میں بند کر دیے گئے، بہائی شادیوں کو تسلیم نہیں کیا گیا اور بہائی ادب پر سنسرشپ عائد کی گئی۔[81]
محمد رضا پہلوی کے دورِ حکومت میں، ایران میں معاشی مشکلات اور بڑھتی ہوئی قوم پرستانہ تحریک سے توجہ ہٹانے کے لیے بہائیوں کے خلاف ایک منظم مہم شروع کی گئی۔[ب] 1955 میں ایک منظور شدہ اور مربوط ضدِ بہائی مہم (جس کا مقصد بہائیوں کے خلاف عوامی جذبات کو بھڑکانا تھا) شروع کی گئی، جس میں قومی ریڈیو اسٹیشنوں اور سرکاری اخبارات میں مخالفِ بہائی پروپیگنڈے کی تشہیر شامل تھی۔[81] ملا محمد تقی فلسفی کی شروع کردہ اس مہم کے دوران طہران کے فوجی گورنر، جنرل تیمور بختیار کے حکم پر طہران کا بہائی مرکز منہدم کر دیا گیا۔[84] 1970 کی دہائی کے اواخر میں، شاہ کی حکومت اپنی اس شبیہ کے باعث کمزور ہونے لگی کہ وہ مغرب نواز ہے۔ جب شاہ مخالف تحریک کو تقویت اور حمایت ملتی گئی تو انقلابی پروپیگنڈااس الزام کے ساتھ پھیلایا گیا کہ شاہ کے بعض مشیر بہائی ہیں۔[85] بہائیوں کو اقتصادی خطرہ اور اسرائیل و مغرب کے حامی کے طور پر پیش کیا گیا اور بہائیوں کے خلاف سماجی دشمنی میں اضافہ ہوا۔[81]
1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد، ایرانی بہائیوں کے گھروں کو مسلسل تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا ہے یا انھیں یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے اور سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے سے روکا گیا ہے اور ان کے دینی عقائد کی بنا پر اور حال ہی میں سٹڈی سرکل کی کلاسوں میں شرکت کرنے پر، سینکڑوں افراد کو قید کیا گیا ہے۔[77] بہائی قبرستانوں کی بے حرمتی کی گئی ہے اور جائیدادیں ضبط کر لی گئی ہیں اور بعض اوقات منہدم بھی کر دی گئی ہیں، جن میں حضرت بہاء اللہ کے والد، مرزا بزرگ، کا گھر بھی شامل ہے۔[1] شیراز میں حضرت باب کا گھر—تین مقامات میں سے ایک جہاں بہائی زیارت کرتے ہیں—دو مرتبہ تباہ کیا جا چکا ہے۔[1][86] مئی 2018 میں، ایرانی حکام نے اصفہان یونیورسٹی سے ایک نوجوان طالبہ کو صرف بہائی ہونے کی وجہ سے خارج کر دیا۔[87] مارچ 2018 میں، دین کی بنا پر زنجان اور گیلان کی یونیورسٹیوں سے دو مزید بہائی طلبہ کو بھی نکال دیا گیا۔
14 مئی 2008 کو ایران میں بہائی جماعت کی ضروریات کی نگرانی کے ذمہ دار "یاران" نامی ایک غیر رسمی ادارے کے ارکان کو گرفتار کر کے ایوین جیل منتقل کر دیا گیا۔[88][89] یاران کے خلاف مقدمہ متعدد بار مؤخر کیا گیا، مگر بالآخر 12 جنوری 2010 کو کارروائی شروع ہوئی۔[90] عدالت میں دیگر مبصرین کو آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ حتیٰ کہ صفائی کے وکیلوں کو بھی، جنھیں دو برس تک ملزمان تک نہایت محدود رسائی حاصل تھی، کمرۂ عدالت میں داخل ہونے میں دشواری پیش آئی۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی دینی آزادی کے چیئرمین نے بیان دیا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے مقدمے کے نتیجے کا پہلے ہی فیصلہ کر لیا ہے اور وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔[90] مزید نشستیں 7 فروری 2010، 12 اپریل 2010 اور 12 جون 2010 کو منعقد ہوئیں۔ 11 اگست 2010 کو معلوم ہوا کہ عدالت نے ساتوں قیدیوں میں سے ہر ایک کو 20 سال قید کی سزا سنائی ہے، جسے بعد ازاں کم کر کے 10 سال کر دیا گیا۔[91] سزا سنائے جانے کے بعد انھیں گوہردشت جیل منتقل کر دیا گیا۔[92] مارچ 2011 میں سزاؤں کو دوبارہ اصل 20 سال پر بحال کر دیا گیا۔[93] 3 جنوری 2010 کو ایرانی حکام نے بہائی اقلیت کے مزید دس ارکان کو حراست میں لے لیا، اطلاعات کے مطابق ان میں لیوا خنجانی بھی شامل تھیں جو جمال الدین خنجانی کی نواسی ہیں—وہ سات بہائی رہنماؤں میں سے ایک ہیں جو 2008 سے قید ہیں—اور فروری میں انھوں نے اس کے بیٹے نیکی خنجانی کو بھی گرفتار کر لیا۔[94]
حکومتِ ایران کا دعویٰ ہے کہ بہائی دین کوئی دین نہیں بلکہ ایک سیاسی تنظیم ہے اور اسی بنا پر وہ اسے اقلیتی دین کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے۔[95] تاہم، حکومت نے بہائی جماعت کے بارے میں اپنے اس دعوے کے حق میں کبھی کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔[96] حکومتِ ایران بہائی دین پر صہیونیت سے روابط رکھنے کا الزام بھی عائد کرتی ہے۔ بہائیوں کے خلاف یہ الزامات تاریخی حقائق میں کسی بنیاد کے حامل نظر نہیں آتے[97][98] اور بعض کے نزدیک یہ حکومتِ ایران کی اختراع ہیں تاکہ بہائیوں کو "قربانی کے بکرے" کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔[99] 2019 میں، حکومتِ ایران نے بہائیوں کے لیے ریاست کے ساتھ قانونی طور پر رجسٹر ہونا ناممکن بنا دیا۔ ایران میں قومی شناختی کارڈ کے لیے درخواستوں میں اب "دیگر مذاہب" کا اختیار شامل نہیں رہا، جس کے نتیجے میں عملاً یہ یقینی بنا دیا گیا کہ بہائی دین کو ریاست کی جانب سے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔[100]
حوالہ جات
- ^ ا ب پ ت ٹ ث Affolter 2005
- ↑ Smith 2008, p. 108–109
- ↑ Smith 2008, p. 106
- ↑ Smith 2008, p. 106–107, 111–112
- ↑ Cole 1982
- ^ ا ب Hatcher 2005
- ↑ Hartz 2009, p. 14
- ↑ Stockman 2013, p. 40–42
- ^ ا ب پ ت Daume & Watson 1992
- ↑ Hartz 2009, p. 20
- ↑ Stockman 2020, p. 36–37
- ↑ Smith 2008, p. 173
- ↑ Smith 2008, p. 52–53
- ↑ Stockman 2013, p. 9
- ^ ا ب Smith 2000, p. 266–267
- ↑ Iranica-The Faith 1988
- ↑ Hartz 2009, p. 11
- ↑ A.V. 2017
- ↑ From a letter written on behalf of Shoghi Effendi to an individual believer dated 9 June 1932
- ↑ Taherzadeh 1987, p. 125
- ↑ Smith 2008, p. 56
- ↑ MacEoin 2009, p. 414
- ↑ Hartz 2009, p. 75–76
- ↑ Smith 2008, p. 101
- ↑ Smith 2008, p. 102
- ↑ Warburg 2006, p. 145
- ↑ Warburg 2006, p. 146
- ↑ • "Persia – The Journal de Constantinople"۔ The Guardian۔ London, UK۔ 3 نومبر 1852۔ ص 2۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-09-06 – بذریعہ Newspapers.com • "Persia"۔ The Sun۔ Baltimore, MD۔ 17 نومبر 1852۔ ص 1۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-09-06 – بذریعہ Newspapers.com • "Turkey"۔ London Standard۔ London, UK۔ 20 دسمبر 1852۔ ص 3۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-09-06 – بذریعہ BritishNewspaperArchive.co.uk(رکنیت درکار)
- ↑ Warburg 2006, p. 146–147
- ^ ا ب پ Hutter 2005, p. 737–740
- ^ ا ب پ ت ٹ ث Robert Stockman (2022)۔ Robert H. Stockman (مدیر)۔ The world of the Bahá'í Faith۔ Abingdon, Oxon ; New York: Routledge۔ ص 325۔ ISBN:978-1-138-36772-2
- ↑ Iranica-Baha'-Allah 1988
- ↑ Smith 2008, p. 20–21, 28
- ↑ Stockman 2013, p. 2
- ↑ Berry 2004
- ↑ Hartz 2009, p. 73–76
- ↑ Robert Stockman (2022)۔ Robert H. Stockman (مدیر)۔ The world of the Bahá'í Faith۔ Abingdon, Oxon ; New York: Routledge۔ ص 71۔ ISBN:978-1-138-36772-2
- ^ ا ب Yazdani 2022
- ↑ Smith 2008, p. 55–57
- ↑ Smith 2008, p. 55
- ↑ Smith 2008, p. 58–69
- ↑ Smith 2008, p. 64
- ↑ Iranica-Bayt-al-'adl 1989
- ^ ا ب پ Smith & Momen 1989
- ^ ا ب پ Fozdar 2015
- ↑ Stockman 2013, p. 203
- ↑ Smith 2008, p. 160
- ↑ Warburg 2001, p. 20
- ↑ Smith 2008, p. 205
- ^ ا ب پ ت ٹ ث ج پاکستان میں بہائی مذہب کی تاریخ
- ↑ Schaefer 2002, p. 334
- ↑ Smith 2008, p. 161–162
- ↑ Schaefer 2002, p. 339–340
- ↑ Iranica-Burial 2020
- ↑ Schaefer 2002, p. 330–332
- ↑ Schaefer 2002, p. 323
- ↑ Schaefer 2002, p. 326
- ↑ McMullen 2015, p. 69, 136, 149, 253–254, 269
- ↑ Smith 2008, p. 154–155
- ↑ Schaefer 2002, p. 339
- ↑ Schaefer 2002, p. 348–349
- ↑ Smith 2008, p. 164–165
- ^ ا ب پ ت ٹ Smith 2008, p. 164
- ↑ Momen 2022
- ↑ Afnan 2022
- ↑ Warburg 2006, p. 492
- ^ ا ب Hassall 2012
- ^ ا ب Iranica-Bahai-temples 1988
- ↑ Iranica-Mašreq al-Aḏkār 2010
- ^ ا ب Momen 1994b: Section 9: Social and economic development
- ↑ Kingdon 1997
- ^ ا ب Baháʼí Office of Social and Economic Development 2018
- ^ ا ب Momen 2007
- ↑ McMullen 2000, p. 39
- ↑ Baháʼí International Community 2000
- ↑ Baháʼí World News Service 2000
- ^ ا ب International Federation of Human Rights 2003
- ↑ International Religious Freedom Report 2013، Iraq
- ↑ International Religious Freedom Report 2013، Morocco
- ↑ Hartz 2009, p. 125–127
- ^ ا ب پ ت Iran Human Rights Documentation Center 2006
- ↑ Nash 1982
- ↑ Akhavi 1980, p. 76–78
- ↑ The New York Times 1955
- ↑ Abrahamian 1982, p. 432
- ↑ Netherlands Institute of Human Rights 2006
- ↑ Center for Human Rights in Iran 2018
- ↑ CNN 2008
- ↑ Iran Human Rights Documentation Center 2008b
- ^ ا ب CNN 2010a
- ↑ CNN 2010b
- ↑ AFP 2011a
- ↑ AFP 2011b
- ↑ The Jerusalem Post 2010
- ↑ Kravetz 1982, p. 237
- ↑ Iran Human Rights Documentation Center 2008, p. 5
- ↑ Simpson & Shubart 1995, p. 223
- ↑ Tavakoli-Targhi 2008, p. 200
- ↑ Freedman 2009
- ↑ "ID card law in Iran highlights plight of Baha'i – DW – 01/25/2020"۔ dw.com
کتابیات
- Ervand Abrahamian (1982)۔ Iran Between Two Revolutions۔ Princeton Book Company Publishers۔ ISBN:0-691-10134-5
- Hugh C. Adamson (2009)۔ The A to Z of the Baháʼí Faith۔ The A to Z Guide Series, No. 70۔ Plymouth, UK: Scarecrow Press۔ ISBN:978-0-8108-6853-3
- Elham Afnan (2022)۔ "Ch. 39: Devotional Life"۔ در Robert H. Stockman (مدیر)۔ The World of the Bahá'í Faith۔ Oxfordshire, UK: روٹلیج۔ ص 479–487۔ DOI:10.4324/9780429027772-45۔ ISBN:978-1-138-36772-2۔ S2CID:244700641
- Shahrough Akhavi (1980)۔ Religion and Politics in Contemporary Iran: Clergy-State Relations in the Pahlavi Period۔ Albany, NY: State University of New York Press۔ ص 76–78۔ ISBN:0-87395-408-4
- Baháʼí International Community (2005)۔ "History of Baháʼí Educational Efforts in Iran"۔ Closed Doors: Iran's Campaign to Deny Higher Education to Baháʼís۔ 2009-12-05 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-10
- David V. Barrett (2001)۔ The New Believers: a survey of sects, cults, and alternative religions۔ London: Cassell & Co۔ ISBN:1-84403-040-7۔ OL:3999281M
- Daphne Daume؛ Louise Watson، مدیران (1988)۔ "Religion (&) Bahá'í Faith"۔ 1988 Britannica Book of the Year۔ Chicago: Encyclopædia Britannica۔ ISBN:0-85229-486-7
- Daphne Daume؛ Louise Watson، مدیران (1992)۔ "The Baháʼí Faith"۔ Britannica Book of the Year۔ Chicago: Encyclopædia Britannica
- Shoghi Effendi (2006)۔ "The Baháʼís of the United States"۔ در Eugene V. Gallagher؛ W. Michael Ashcraft (مدیران)۔ Asian Traditions۔ Introduction to New and Alternative Religions in America۔ Westport, Connecticut • London: Greenwood Press (1979 ایڈیشن)۔ ج 4۔ ISBN:978-0-275-98712-1
- William Garlington (2008)۔ The Baha'i Faith in America (Paperback ایڈیشن)۔ Lanham, Maryland: Rowman & Littlefield۔ ISBN:978-0-7425-6234-9
- Graham Hassall (2012)۔ "The Bahá'í House of Worship: Localisation and Universal Form"۔ در Carol Cusack؛ Alex Norman (مدیران)۔ Handbook of New Religions and Cultural Production۔ Brill Handbooks on Contemporary Religion۔ لائیڈن: Brill Publishers۔ ج 4۔ ص 599–632۔ DOI:10.1163/9789004226487_025۔ ISBN:978-90-04-22187-1۔ ISSN:1874-6691
- Graham Hassal (2022)۔ "Ch. 47: North East Asia"۔ در Robert H. Stockman (مدیر)۔ The World of the Bahá'í Faith۔ Oxfordshire, UK: روٹلیج۔ ص 581–590۔ ISBN:978-1-138-36772-2
- Graham Hassall (2022)۔ "Ch. 48: Oceania"۔ در Robert H. Stockman (مدیر)۔ The World of the Bahá'í Faith۔ Oxfordshire, UK: روٹلیج۔ ص 591–602۔ DOI:10.4324/9780429027772-55۔ ISBN:978-1-138-36772-2۔ S2CID:244697166
- W.S. Hatcher؛ J.D. Martin (1998)۔ The Baháʼí Faith: The Emerging Global Religion۔ New York: Harper & Row۔ ISBN:0-06-065441-4
- Paula Hartz (2009)۔ World Religions: Baha'i Faith (3rd ایڈیشن)۔ New York, NY: Chelsea House Publishers۔ ISBN:978-1-60413-104-8
- Todd M. Johnson؛ Brian J. Grim (26 مارچ 2013)۔ "Global Religious Populations, 1910–2010"۔ The World's Religions in Figures: An Introduction to International Religious Demography۔ John Wiley & Sons۔ ص 59–62۔ DOI:10.1002/9781118555767.ch1۔ ISBN:978-1-118-55576-7
- Marc Kravetz (1982). Irano nox (بزبان فرانسیسی). Paris: Grasset. p. 237. ISBN:2-246-24851-5.
- Michael D. McMullen (2009)۔ The Baha'i: The Religious Construction of a Global Identity۔ Atlanta, GA: Rutgers University Press۔ DOI:10.1163/ej.9789004170353.i-740۔ ISBN:0-8135-2836-4
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|سال=|تاریخ=سے مطابقت نہیں رکھتی (معاونت) - Mike McMullen (2015)۔ The Baháʼís of America: The Growth of a Religious Movement۔ NYU Press۔ ISBN:978-1-4798-5152-2
- Moojan Momen (2007)۔ "The Baháʼí Faith"۔ در Christopher H. Partridge (مدیر)۔ New Lion Handbook: The World's Religions (3rd ایڈیشن)۔ Oxford, UK: Lion Hudson Plc۔ ISBN:978-0-7459-5266-6
- Wendi Momen (2022)۔ "Ch. 31: Marriage and family life"۔ در Robert H. Stockman (مدیر)۔ The World of the Bahá'í Faith۔ Oxfordshire, UK: روٹلیج۔ ص 371–383۔ DOI:10.4324/9780429027772-36۔ ISBN:978-1-138-36772-2۔ S2CID:244697438
- Geoffrey Nash (1982)۔ Iran's secret pogrom: The conspiracy to wipe out the Bahaʼis۔ Sudbury, Suffolk: Neville Spearman Limited۔ ISBN:0-85435-005-5
- Eliz Sanasarian (2000)۔ Religious Minorities in Iran۔ Cambridge, UK: Cambridge University Press۔ ص 52–53۔ ISBN:0-521-77073-4
- Ken Park، مدیر (2004)۔ World Almanac and Book of Facts۔ New York: World Almanac Books۔ ISBN:0-88687-910-8
- John Simpson؛ Tira Shubart (1995)۔ Lifting the Veil۔ London: Hodder & Stoughton General Division۔ ص 223۔ ISBN:0-340-62814-6
- Peter Smith (2008)۔ An Introduction to the Baha'i Faith۔ Cambridge: Cambridge University Press۔ ISBN:978-0-521-86251-6
- Peter Smith (2022a)۔ "Ch. 41: The History of the Bábí and Bahá'í Faiths"۔ در Robert H. Stockman (مدیر)۔ The World of the Bahá'í Faith۔ Oxfordshire, UK: روٹلیج۔ ص 501–512۔ DOI:10.4324/9780429027772-48۔ ISBN:978-1-138-36772-2۔ S2CID:244705793
- Robert H. Stockman (جولائی 2020)۔ "Ch. 50: Southeast Asia"۔ در Robert H. Stockman؛ Margo Kitts (مدیران)۔ The Bahá'í Faith, Violence, and Non-Violence۔ Cambridge Elements; Religion and Violence۔ Cambridge, UK: Cambridge University Press۔ ص 614–621۔ DOI:10.1017/9781108613446۔ ISBN:978-1-108-61344-6۔ OCLC:1173507653۔ S2CID:225389995
- Mohamad Tavakoli-Targhi (2022)۔ "Anti-Baha'ism and Islamism in Iran"۔ در Robert H. Stockman؛ Seena B. Fazel (مدیران)۔ The Baha'is of Iran: Socio-historical studies۔ New York: Routledge۔ ص 125۔ ISBN:978-0-203-00280-3
- J.D. Van der Vyer (1996)۔ Religious human rights in global perspective: religious perspectives۔ Martinus Nijhoff Publishers۔ ص 449۔ ISBN:90-411-0176-4
- Mina Yazdani (2022)۔ "Ch. 7: The Writings and Utterances of ʻAbdu'l-Bahá"۔ در Robert H. Stockman (مدیر)۔ The World of the Bahá'í Faith۔ Studies in Contemporary Religions۔ Oxfordshire, UK: روٹلیج۔ ص 88–104۔ DOI:10.4324/9780429027772-9۔ ISBN:978-1-138-36772-2۔ OCLC:234309958۔ S2CID:244689327
- Multiple Authors (15 دسمبر 1988)۔ "Bahaism"۔ Encyclopædia Iranica۔ ج III۔ ص 438–475۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-01-11
- Juan Cole (15 دسمبر 1988)۔ "BAHAISM i. The Faith"۔ Encyclopædia Iranica (23 اگست 2011 ایڈیشن)۔ ج III۔ ص 438–446۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-12-30
- Juan Cole (15 دسمبر 1988)۔ "BAHĀʾ-ALLĀH"۔ Encyclopædia Iranica (23 اگست 2011 ایڈیشن)۔ ج III۔ ص 422–429۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-12-30
- Denis MacEoin (15 دسمبر 1988)۔ "BAHAISM iii. Bahai and Babi Schisms"۔ Encyclopædia Iranica (23 اگست 2011 ایڈیشن)۔ ج III۔ ص 447–449۔ ISSN:2330-4804
- Moojan Momen (1989)۔ "BAYT-AL-ʿADL (House of Justice)"۔ Encyclopædia Iranica۔ ج IV۔ ص 12–14۔ ISSN:2330-4804
- Moojan Momen (2010)۔ "Mašreq al-Aḏkār"۔ Encyclopædia Iranica
- Ezzatollah Negahban (2020)۔ "BURIAL i. Pre-Historic Burial Sites"۔ Encyclopaedia Iranica۔ ج IV۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-08-24</ref>
- V. Rafati؛ F. Sahba (1988)۔ "BAHAISM ix. Bahai temples"۔ Encyclopaedia Iranica۔ ج III۔ ص 465–467
- David B. Barrett، مدیر (1982)۔ "Global Adherents of all religions"۔ World Christian Encyclopedia: A comparative survey of churches and religions in the modern world (1st ایڈیشن)۔ Nairobi: Oxford University Press
- David B. Barrett؛ George T. Kurian؛ Todd M. Johnson (2001)۔ "World Summary"۔ World Christian Encyclopedia: A comparative survey of churches and religions in the modern world (2nd ایڈیشن)۔ New York: Oxford University Press
- Peter B. Clarke، مدیر (2006)۔ "Baha'i"۔ Encyclopedia of New Religious Movements۔ London and New York: Routledge۔ ص 56۔ ISBN:978-0-415-26707-6
- Manfred Hutter (2005)۔ "Bahā'īs"۔ در Lindsay Jones (مدیر)۔ Encyclopedia of Religion (2nd ایڈیشن)۔ Detroit, MI: Macmillan Reference US۔ ج 2۔ ص 737–740۔ ISBN:0-02-865733-0
- Moojan Momen (1994a)۔ "Turkmenistan"۔ draft "A Short Encyclopedia of the Baha'i Faith"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-07-28
- Moojan Momen (1994b)۔ "Iran: History of the Baháʼí Faith"۔ draft "A Short Encyclopedia of the Baha'i Faith"۔ Baháʼí Library Online۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-10-16
- Moojan Momen (2011)۔ "Bahaʼi"۔ در Juergensmeyer؛ Roof (مدیران)۔ Baha'i۔ Encyclopedia of Global Religion۔ Sage Publications۔ DOI:10.4135/9781412997898.n61۔ ISBN:978-0-7619-2729-7
- Peter Smith (2000)۔ A Concise Encyclopedia of the Baháʼí Faith۔ Oxford, UK: Oneworld Publications۔ ISBN:1-85168-184-1
- Friedrich W. Affolter (جنوری 2005)۔ "The Specter of Ideological Genocide: The Baháʼís of Iran" (PDF)۔ War Crimes, Genocide, & Crimes Against Humanity۔ ج 1 شمارہ 1: 75–114۔ 2012-07-22 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2006-05-31
- Adam Berry (2004)۔ "THE BAHÁ'Í FAITH AND ITS RELATIONSHIP TO ISLAM, CHRISTIANITY, AND JUDAISM: A BRIEF HISTORY"۔ International Social Science Review۔ ج 79 شمارہ 3/4: 137–151۔ ISSN:0278-2308۔ JSTOR:41887188
- Juan Cole (1982)۔ "The Concept of Manifestation in the Baháʼí Writings"۔ Journal of Bahá'í Studies۔ ج 9: 1–38
- Farida Fozdar (2015)۔ "The Baha'i Faith: A Case Study in Globalization, Mobility and the Routinization of Charisma"۔ Journal for the Academic Study of Religion۔ ج 28 شمارہ 3: 274–292۔ DOI:10.1558/jasr.v28i3.28431۔ ISSN:2047-704X
- John S. Hatcher (2005)۔ "Unveiling the Hurí of Love"۔ Journal of Bahá'í Studies۔ ج 15 شمارہ 1: 1–38۔ DOI:10.31581/jbs-15.1-4.1(2005)
- Geeta Gandhi Kingdon (1997)۔ "Education of women and socio-economic development"۔ Baháʼí Studies Review۔ ج 7 شمارہ 1
- Udo Schaefer (2002)۔ "An Introduction to Bahā'ī Law: Doctrinal Foundations, Principles and Structures"۔ Journal of Law and Religion۔ ج 18 شمارہ 2: 307–72۔ DOI:10.2307/1602268۔ JSTOR:1602268۔ S2CID:154511808
- Peter Smith (2016)۔ "Babi–Baha'i Expansion and "Geo-Cultural Breakthroughs""۔ Journal of Religious History۔ ج 40 شمارہ 2: 225–236۔ DOI:10.1111/1467-9809.12280
- Universal House of Justice (ستمبر 2002)۔ "Numbers and Classifications of Sacred Writings & Texts"۔ Lights of Irfan۔ Wilmette, IL: Irfan Colloquia۔ ج 10 شمارہ 1: 349–350۔ DOI:10.1016/0048-721X(89)90077-8۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-03-20
- A.V. (20 اپریل 2017)۔ "The Economist explains: The Bahai faith"۔ دی اکنامسٹ۔ 2017-05-01 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-04-23
- "Families fear for Bahais jailed in Iran"۔ AFP۔ 16 فروری 2011
- "US 'troubled' by Bahai reports from Iran"۔ AFP۔ 31 مارچ 2011
- Baháʼí World News Service (1992)۔ "How many Baháʼís are there?"۔ The Baháʼís۔ Baháʼí International Community۔ ص 14۔ 2015-07-17 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- Baháʼí World News Service (8 ستمبر 2000)۔ "Baha'i United Nations Representative addresses world leaders at Millennium Summit"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-10-21
- Baháʼí World News Service (17 اپریل 2009)۔ "Egypt officially changes rules for ID cards"۔ Baháʼí International Community۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-06-16
- Baháʼí World News Service (14 اگست 2009)۔ "First identification cards issued to Egyptian Baháʼís using a "dash" instead of religion"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-08-16
- Baháʼí World News Service (21 اپریل 2017)۔ "Ominous wave of Yemen arrests raises alarm"
- "Iran's arrest of Baha'is condemned"۔ CNN۔ 16 مئی 2008۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-02-04
- "Trial underway for Baha'i leaders in Iran"۔ CNN۔ 12 جنوری 2010a۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-02-04
- "Sentences for Iran's Baha'i leaders reportedly reduced"۔ CNN۔ 16 ستمبر 2010b۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-09-25
- Abbas Djavadi (8 اپریل 2010)۔ "A Trial in Tehran: Their Only 'Crime' – Their Faith"۔ Radio Free Europe/Radio Liberty
- Samuel G. Freedman (24 مئی 1955)۔ "Iran Razing Dome of Bahai Temple"۔ The New York Times
- Daniel Siegal (11 اگست 2010)۔ "Court sentences leaders of Bahai faith to 20 years in prison"۔ Los Angeles Times
- "Iran detains 5 more Baha'i"۔ The Jerusalem Post۔ 14 فروری 2010۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-09-25
- "Iran Baha'i Leaders Scheduled in Court on Election Anniversary"۔ Radio Free Europe/Radio Liberty۔ 3 جون 2010
- Amy Sullivan (8 دسمبر 2009)۔ "Banning the Baha'i"۔ Time۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-02-23
- Washington TV (20 جنوری 2010)۔ "Date set for second court session for seven Baha'is in Iran"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-01-21
بیرونی روابط
- بہائی دین کی عالمی ویب گاہ
- بہائی دین پاکستان کی ویب گاہ