بہار دانش
بہارِ دانش کا مخطوط | |
| مصنف | عنایت اللہ کمبوہ دہلوی |
|---|---|
| اصل عنوان | بهار دانش |
| مترجم | سید حیدر بخش حیدری |
| ملک | مغلیہ سلطنت |
| زبان | فارسی |
| موضوع | ہندوستانی رومانی حکایات |
| صنف | رومانی |
تاریخ اشاعت | 1651ء |
| طرز طباعت | مخطوطہ |
| ریختہ ای بکس | گلزار دانش |
بہار دانش فارسی میں رومانی کہانیوں کا مجموعہ ہے جسے عنایت اللہ کمبوہ نے دہلی میں 1651ء میں ابتدائی ہندوستانی مآخذ سے ترتیب دیا تھا۔[1] اس کا اردو ترجمہ ”گلشن دانش“ اور ”گلزار دانش“ کے نام سے ہو چکا ہے۔
تفصیل
[ترمیم]کتابِ ہٰذا میں جہاندار شاہ اور بہرہ ور بانو کی محبت اور جہاندار شاہ کی مہموں کا حال تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ کتاب کی ضخامت کئی سو صفحہ ہے اور یہ 1061ھ (مطابق 1651ء) کی تالیف ہے۔ مولف نے کتاب کے دیباچے میں لکھا ہے کہ حسن و عشق کی یہ کہانی اُس نے کسی ترجمان برہمن کی زبانی سنی اور اسے تالیف کر دیا۔
اس کتاب کے متعلق ڈاکٹر گیان چند جین نے لکھا ہے کہ ”فارسی بہار دانش شیخ عنایت اللہ کمبوہ دہلوی نے 1651ء میں تصنیف کی۔ اس نے بعض حصوں میں ہندو قصوں سے مدد لی مثلاً چار عورتوں کی فحش کہانیاں۔ بہار دانش سے اُردو کے بہت سے قصوں میں مدد لی گئی ہے۔“[2]
ولیم ہنٹر کی فرمائش پر 1218ھ (1804ء) میں سید حیدر بخش حیدری نے اسے اردو قالب میں ”گلزار دانش“ کے عنوان سے ڈھالا تھا۔ ایک زمانے تک یہ اردو نسخہ گوشۂ گمنامی میں رہا اور بالآخر 1973ء میں عبادت بریلوی اس اردو ترجمہ کو منظر عام پر دوبارہ لائے۔[3]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Ali Asghar Seyed-Gohrab (2011). Metaphor and Imagery in Persian Poetry (بزبان انگریزی). BRILL. p. 155. ISBN:978-90-04-21125-4.
- ↑ سید وقار عظیم (1986)۔ فورٹ ولیم کالج تحریک اور تاریخ (پہلا ایڈیشن)۔ لاہور: یونیورسل بُکس۔ ص 60–61
- ↑ عبادت بریلوی (1973)۔ "پیش لفظ"۔ گلزار دانش۔ لاہور: یونیورسٹی اورینٹل کالج۔ ص 11–12