بہاماس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
  
بہاماس
(انگریزی میں: Commonwealth of the Bahamas خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ نام (P1448) ویکی ڈیٹا پر
بہاماس
پرچم
بہاماس
نشان

Bahamas in its region.svg 

شعار
(انگریزی میں: Forward, Upward, Onward, Together خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعار کا متن (P1451) ویکی ڈیٹا پر
ترانہ:
زمین و آبادی
متناسقات 23°42′N 76°24′W / 23.7°N 76.4°W / 23.7; -76.4  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر[1]
پست مقام بحر اوقیانوس (0 میٹر)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پست ترین مقام (P1589) ویکی ڈیٹا پر
رقبہ 13878.0 مربع کلومیٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رقبہ (P2046) ویکی ڈیٹا پر
دارالحکومت نساؤ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں دارالحکومت (P36) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری زبان انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سرکاری زبان (P37) ویکی ڈیٹا پر
آبادی 377374 (2013)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبادی (P1082) ویکی ڈیٹا پر
اوسط عمر
72.093 سال (1999)[3]
72.37 سال (2000)[3]
72.668 سال (2001)[3]
72.971 سال (2002)[3]
73.264 سال (2003)[3]
73.538 سال (2004)[3]
73.787 سال (2005)[3]
74.012 سال (2006)[3]
74.218 سال (2007)[3]
74.41 سال (2008)[3]
74.591 سال (2009)[3]
74.761 سال (2010)[3]
74.923 سال (2011)[3]
75.079 سال (2012)[3]
75.23 سال (2013)[3]
75.379 سال (2014)[3]
75.527 سال (2015)[3]
75.675 سال (2016)[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اوسط عمر (P2250) ویکی ڈیٹا پر
حکمران
اعلی ترین منصب ایلزبتھ دوم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سربراہ ریاست (P35) ویکی ڈیٹا پر
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 1973  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاسیس (P571) ویکی ڈیٹا پر
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر 18 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شادی کی کم از کم عمر (P3000) ویکی ڈیٹا پر
الحاق اور رکنیت
Flag of the United Nations.svg اقوام متحدہ (18 ستمبر 1973–)
دولت مشترکہ ممالک
Flag of CARICOM.svg کیربین کمیونٹی (4 جولا‎ئی 1983–)
بین الاقوامی بنک برائے تعمیر و ترقی (21 اگست 1973–)
بین الاقوامی انجمن برائے ترقی (23 جون 2008–)
بین الاقوامی مالیاتی شرکت (8 دسمبر 1986–)
کثیرالفریق گماشتگی برائے ضمانت سرمایہ کاری (4 اکتوبر 1994–)
بین الاقوامی مرکز برائےتصفیہ تنازعات سرمایہ کاری (18 نومبر 1995–)
انٹرپول[4]
تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار[5]
Flag of UNESCO.svg یونیسکو (23 اپریل 1981–)[6]
Flag of UPU.svg عالمی ڈاک اتحاد[7]
عالمی ٹیلی مواصلاتی اتحاد (19 اگست 1974–)[8]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
مشترکہ سرحدیں
ریاستہائے متحدہ امریکا (Bahamas–United States border)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مشترکہ سرحدیں (P47) ویکی ڈیٹا پر
خام ملکی پیداوار
 ← کل
12162100000 امریکی ڈالر (2017)[9]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں فی کس جی ڈی پی (P2131) ویکی ڈیٹا پر
 ← فی کس 20026.368 بین الاقوامی ڈالر (1990)[10]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں PPP GDP per capita (P2299) ویکی ڈیٹا پر
جی ڈی پی تخمینہ
 ← فی کس 1550 امریکی ڈالر (1960)[11]
1651 امریکی ڈالر (1961)[11]
1752 امریکی ڈالر (1962)[11]
1867 امریکی ڈالر (1963)[11]
1994 امریکی ڈالر (1964)[11]
2144 امریکی ڈالر (1965)[11]
2322 امریکی ڈالر (1966)[11]
2556 امریکی ڈالر (1967)[11]
2804 امریکی ڈالر (1968)[11]
3215 امریکی ڈالر (1969)[11]
3179 امریکی ڈالر (1970)[11]
3297 امریکی ڈالر (1971)[11]
3322 امریکی ڈالر (1972)[11]
3696 امریکی ڈالر (1973)[11]
3416 امریکی ڈالر (1974)[11]
3156 امریکی ڈالر (1975)[11]
3328 امریکی ڈالر (1976)[11]
3617 امریکی ڈالر (1977)[11]
4130 امریکی ڈالر (1978)[11]
5532 امریکی ڈالر (1979)[11]
6338 امریکی ڈالر (1980)[11]
6622 امریکی ڈالر (1981)[11]
7165 امریکی ڈالر (1982)[11]
7694 امریکی ڈالر (1983)[11]
8873 امریکی ڈالر (1984)[11]
9888 امریکی ڈالر (1985)[11]
10339 امریکی ڈالر (1986)[11]
11150 امریکی ڈالر (1987)[11]
11381 امریکی ڈالر (1988)[11]
12158 امریکی ڈالر (1989)[11]
12350 امریکی ڈالر (1990)[11]
11914 امریکی ڈالر (1991)[11]
11682 امریکی ڈالر (1992)[11]
11402 امریکی ڈالر (1993)[11]
11812 امریکی ڈالر (1994)[11]
12239 امریکی ڈالر (1995)[11]
12717 امریکی ڈالر (1996)[11]
22066 امریکی ڈالر (1997)[11]
23557 امریکی ڈالر (1998)[11]
26173 امریکی ڈالر (1999)[11]
27112 امریکی ڈالر (2000)[11]
27439 امریکی ڈالر (2001)[11]
28727 امریکی ڈالر (2002)[11]
28092 امریکی ڈالر (2003)[11]
28076 امریکی ڈالر (2004)[11]
29874 امریکی ڈالر (2005)[11]
30274 امریکی ڈالر (2006)[11]
31018 امریکی ڈالر (2007)[11]
30188 امریکی ڈالر (2008)[11]
28129 امریکی ڈالر (2009)[11]
27979 امریکی ڈالر (2010)[11]
27472 امریکی ڈالر (2011)[11]
28815 امریکی ڈالر (2012)[11]
28171 امریکی ڈالر (2013)[11]
28671 امریکی ڈالر (2014)[11]
30483 امریکی ڈالر (2015)[11]
30260 امریکی ڈالر (2016)[11]
30762 امریکی ڈالر (2017)[11]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں nominal GDP per capita (P2132) ویکی ڈیٹا پر
کل ذخائر 44400000 امریکی ڈالر (1968)[12]
26070000 امریکی ڈالر (1969)[12]
21680000 امریکی ڈالر (1970)[12]
29500000 امریکی ڈالر (1971)[12]
37060000 امریکی ڈالر (1972)[12]
43150000 امریکی ڈالر (1973)[12]
49791749 امریکی ڈالر (1974)[12]
53283293 امریکی ڈالر (1975)[12]
47419157 امریکی ڈالر (1976)[12]
68502133 امریکی ڈالر (1977)[12]
61011359 امریکی ڈالر (1978)[12]
86298283 امریکی ڈالر (1979)[12]
92269277 امریکی ڈالر (1980)[12]
100205503 امریکی ڈالر (1981)[12]
113488532 امریکی ڈالر (1982)[12]
121973941 امریکی ڈالر (1983)[12]
161141024 امریکی ڈالر (1984)[12]
182475237 امریکی ڈالر (1985)[12]
231498467 امریکی ڈالر (1986)[12]
170115271 امریکی ڈالر (1987)[12]
172036083 امریکی ڈالر (1988)[12]
146838360 امریکی ڈالر (1989)[12]
158165375 امریکی ڈالر (1990)[12]
181313537 امریکی ڈالر (1991)[12]
155332535 امریکی ڈالر (1992)[12]
172283366 امریکی ڈالر (1993)[12]
176619982 امریکی ڈالر (1994)[12]
179199375 امریکی ڈالر (1995)[12]
171391392 امریکی ڈالر (1996)[12]
227046333 امریکی ڈالر (1997)[12]
346518165 امریکی ڈالر (1998)[12]
410499723 امریکی ڈالر (1999)[12]
349644626 امریکی ڈالر (2000)[12]
319252803 امریکی ڈالر (2001)[12]
380645852 امریکی ڈالر (2002)[12]
491108571 امریکی ڈالر (2003)[12]
674401973 امریکی ڈالر (2004)[12]
586297936 امریکی ڈالر (2005)[12]
461331270 امریکی ڈالر (2006)[12]
464482926 امریکی ڈالر (2007)[12]
567909042 امریکی ڈالر (2008)[12]
1009823756 امریکی ڈالر (2009)[12]
1044153229 امریکی ڈالر (2010)[12]
1070217927 امریکی ڈالر (2011)[12]
846941350 امریکی ڈالر (2012)[12]
807408441 امریکی ڈالر (2013)[12]
874337365 امریکی ڈالر (2014)[12]
895475101 امریکی ڈالر (2015)[12]
1001933816 امریکی ڈالر (2016)[12]
1413972940 امریکی ڈالر (2017)[12]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کل ذخائر (P2134) ویکی ڈیٹا پر
اشاریہ انسانی ترقی
اشاریے
0.807 (2017)[13]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انسانی ترقیاتی اشاریہ (P1081) ویکی ڈیٹا پر
دیگر اعداد و شمار
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت−05:00  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منطقہ وقت (P421) ویکی ڈیٹا پر
ٹریفک سمت بائیں[14]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈرائیونگ سمت (P1622) ویکی ڈیٹا پر
ڈومین نیم bs.  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ٹی ایل ڈی (P78) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
آیزو 3166-1 الفا-2 BS  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ISO 3166-1 alpha-2 code (P297) ویکی ڈیٹا پر
بین الاقوامی فون کوڈ +1242  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملکی ڈائیلنگ کوڈ (P474) ویکی ڈیٹا پر

بہاماس (Bahamas) جسے سرکاری طور پر کامن ویلتھ آف دی بہاماس بھی کہا جاتا ہے، 27 بڑے جزائر، 661 چھوٹے جزائر اور 2,387 سمندری چٹانوں پر مشتمل ہے۔ یہ ملک کیوبا کے شمال میں بحر الکاہل کے کنارے واقع ہے۔ اس کے شمال مغرب میں امریکا واقع ہے۔ کل زمینی رقبہ 13,939 مربع کلومیٹر ہے اور کل آبادی کا تخمینہ 3,30,000 ہے۔ دار الحکومت نساؤ ہے۔

بہاماس 1492ء میں کولمبس کی پہلی منزل تھی۔ 1513ء سے 1648ء تک غیر آباد رہا اور اس کے بعد برمودا میں موجود برطانویوں نے یہاں آباد ہونا شروع کر دیا۔

1718ء میں اسے برطانوی کالونی کا درجہ دے دیا گیا۔ امریکا کی جنگِ آزادی کے بعد ہزاروں کی تعداد میں تاجِ برطانیہ کے وفاداروں اور سیاہ فام غلاموں نے بہاماس کا رخ کیا اور آباد ہونے لگے۔ برطانوی سلطنت میں 1807ء میں غلاموں کی تجارت کو ختم کر دیا گیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی غلاموں سے بھرے برطانوی شاہی بحریہ کے جہازوں سے غلاموں کو آزاد کر دیا گیا۔ ان میں سے کچھ بہاماس میں بس گئے۔ 1834ء میں غلامی کو یکسر ختم کر دیا گیا اور انہی آزاد کردہ غلاموں کی اگلی نسلیں بہاماس میں آباد ہیں۔

فی کس آمدنی کے اعتبار سے شمالی امریکا میں بہاماس تیسرے نمبر پر امریکا اور کینیڈا کے بعد آتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا اور میکسیکو کی سرحد کے جنوب میں واقع امیر ترین ملک ہے۔ اس کے علاوہ سیاہ فام آبادی کی بھاری اکثریت والے ممالک میں سب سے زیادہ امیر ملک بہاماس ہی ہے۔

تاریخ[ترمیم]

ٹینو نسل کے افراد ہسپانولیا اور کیوبا سے بہاماس کے غیر آباد جزیرے پر 11 ویں صدی عیسوی میں آئے۔ یہ لوگ لوکین کہلاتے تھے۔ انداز ہے کہ کرسٹوفر کولمبس کی 1492ء میں یہاں آمد کے وقت لوکین لوگوں کی تعداد 30,000 سے زیادہ تھی۔ کرسٹوفر کولمبس کے قدم جہاں پہلی بار پڑے، وہ جزیرہ سان سلواڈور کے نام سے مشہور ہے۔

تاہم لوکین افراد یورپی اقوام کی لائی ہوئی بیماریوں سے اپنا بچاؤ نہ کر سکے اور ساری قوم ہی معدوم ہو گئی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ 17ویں صدی سے قبل یورپی یہاں آباد ہونے سے کتراتے رہے تھے۔

1670ء میں بادشاہ چارلس دوم نے ان جزائر کو اپنی ملکیت میں لے لیا جس کے بعد سے یہاں تجارت، ٹیکس اور گورنر کے تعین وغیرہ جیسے اختیارات بادشاہ نے کرائے پر دینے شروع کر دیے۔

18ویں صدی[ترمیم]

اس ملکیتی دور میں بہاماس بحری قذاقوں کی جنت بن گیا۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے 1718ء میں برطانوی حکومت نے مسلح دستے بھیجے جنہوں نے کافی کوشش کے بعد ان قذاقوں کو ختم کر دیا۔

امریکا کی جنگِ آزادی کے دوران یہ جزائر امریکی بحری فوج کا نشانہ تھے۔

1782ء میں یارک ٹاؤن میں برطانویوں کی شکست کے بعد ہسپانوی بیڑا ساحل پر پہنچا اور شہر پر بغیر کسی لڑائی کے قابض ہو گیا۔

امریکا کی آزادی کے بعد 7,300 برطانوی وفادار اپنے غلاموں کے ہمراہ نیو یارک، فلوریڈا اور دی کیرولینا سے فرار ہو کر بہاماس پہنچے۔ انہی افراد نے کئی جزیروں پر کاشتکاری شروع کر دی اور جلد ہی سیاسی قوت بن کر ابھرے۔ اس وقت یہاں کی زیادہ تر آبادی سیاہ فام افریقیوں پر مشتمل تھی۔

برطانویوں نے 1807ء میں غلاموں کی تجارت کو ختم کر دیا جس کی وجہ سے ان جزائر پر ہزاروں کی تعداد میں آزاد غلاموں نے رہائش اختیار کر لی۔ برطانوی سلطنت سے آخر کار یکم اگست 1834ء کو غلامی بالکل ختم کر دی گئی۔

20ویں صدی[ترمیم]

دوسری جنگِ عظیم کے بعد جدید سیاسی ترقی ہونا شروع ہوئی۔ 1950ء کی دہائی میں اولین سیاسی جماعتیں بننا شروع ہوئیں اور 1964ء میں برطانیہ نے بہاماس کو اندرونی خود مختاری دے دی۔

1967ء میں سر لنڈن پیڈلنگ یہاں کے پہلے پریمئر بنے۔ 1968ء میں ان کا عہدہ وزیر اعظم کا بن گیا۔ 1973ء میں بہاماس مکمل طور پر آزاد ہو گیا تاہم دولتِ مشترکہ کی رکنیت کو برقرار رکھا۔

بہاماس کی معیشت کے دو اہم ستون ہیں جو سیاحت اور سمندر پار معاشی سہولیات ہیں۔ تاہم تعلیم، صحتِ عامہ، ہاؤسنگ، بین الاقوامی پیمانے پر منشیات کی منتقلی اور ہیٹی سے غیر قانونی طور پر آنے والے تارکین وطن جیسے اہم مسائل ہیں۔

جغرافیہ اور موسم[ترمیم]

بہاماس خطوط ارض بلد 20 اور 28 شمالاً جبکہ طول بلد 72 اور 80 غرباً کے درمیان واقع ہے۔

ریاست ہائے متحدہ کے نزدیک ترین جزیرے کا نام بمینی ہے جسے بہاماس کا گیٹ وے بھی کہاتا جاتا ہے۔ جنوب مشرقی جزیرہ اناگوا کہلاتا ہے۔ سب سے بڑا جزیرہ انڈروس ہے۔ دار الحکومت نساؤ نیو پرووائیڈنس نامی جزیرے پر آباد ہے۔

تمام جزیرے مسطح اور نیچے ہیں اور زیادہ تر 15 سے 20 میٹر تک سطح سمندر سے بلند ہیں۔ ملک میں بلند ترین مقام کومو نامی پہاڑی ہے جو سطح سمندر سے 63 میٹر بلند ہے۔

موسم[ترمیم]

بہاماس کا موسم نیم استوائی سے استوائی نوعیت کا ہے اور خلیجی بحری رو کی وجہ سے معتدل رہتا ہے۔ تاہم گرمیوں اور خزاں میں یہاں سے ہری کین یعنی سمندری طوفان گذرتے ہیں۔

بہاماس میں درجہ حرارت کبھی بھی صفر درجے تک نہیں پہنچا لیکن دو سے تین ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت چلا جاتا ہے۔ فری پورٹ کے مقام پر جنوری 1977ء میں بارش کے دوران معمولی مقدار میں برف بھی گرتی دیکھی گئی تھی۔ اس وقت میامی کے علاقے میں عام برفباری ہو رہی تھی۔ اس وقت یہاں کا درجہ حرارت 4.5 ڈگری تھا۔

حکومت اور سیاست[ترمیم]

بہاماس خود مختار اور آزاد ملک ہے۔ تاہم سیاسی اور قانونی نظام زیادہ تر برطانوی نظام سے نکلا ہے۔ بہاماس میں پارلیمانی جمہوریت ہے جہاں دو اہم سیاسی جماعتیں ہیں۔ ان کے نام فری نیشنل موومنٹ اور پروگریسو لبرل پارٹی ہیں۔

کل ملازمتوں کا نصف حصہ سیاحت کی صنعت سے وابستہ ہے تاہم حالیہ معاشی بحران کی وجہ سے سیاحوں کی تعداد کافی کم ہو گئی ہے۔ اسی تناسب سے بینکاری اور بین الاقوامی معاشی سرگرمیاں بھی کم ہو گئی ہیں۔

بہاماس اقوامِ دولتِ مشترکہ اور دولتِ مشترکہ کا رکن ہے۔ ملکہ الزبتھ دوم کو ریاستی سربراہ کا درجہ ملا ہوا ہے جن کی نمائندگی گورنر جنرل کرتا ہے۔

قانون سازی کا اختیاری دو ایوانوں والی پارلیمان کے پاس ہے۔ اس میں 41 اراکین پر مشتمل ہاؤس آف اسمبلی یعنی ایوانِ زیریں اور 16 رکنی سینیٹ یعنی ایوانِ بالا شامل ہیں۔ ایوانِ زیریں کے اراکین بذریعہ انتخاب چنے جاتے ہیں جبکہ ایوانِ بالا کے اراکین کو گورنر جنرل مقرر کرتا ہے۔ تاہم ان 16 اراکین میں سے 9 کا تقرر گورنر جنرل وزیرِ اعظم کے مشورے، 4 کا انتخاب حزبِِ اختلاف کے سربراہ کے مشورے سے جبکہ بقیہ تین اراکین کو گورنر جنرل وزیرِ اعظم اور حزبِ اختلاف کے سربراہ کے مشورے سے کرتا ہے۔ ہاؤس آف اسمبلی تمام تر قانون سازی کرتا ہے۔

وزیر اعظم کو حکومتی سربراہ کا درجہ حاصل ہوتا ہے اور ہاؤس آف اسمبلی میں اکثریتی جماعت کا لیڈر ہوتا ہے۔ زیادہ تر اختیارات کابینہ کو حاصل ہوتے ہیں جسے وزیرِ اعظم اپنی جماعت سے چنتا ہے۔

آئین میں بول چال، پریس، عبادت، نقل و حرکت وغیرہ کی آزادی یقینی بنائی گئی ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے کریبئن کا حصہ نہ ہونے کے باوجود بہاماس کریبئن کمیونٹی کا حصہ ہے۔ یہاں عدلیہ آزاد ہے۔ زیادہ تر قوانین برطانوی قوانین سے اخذ کیے گئے ہیں۔

معیشت[ترمیم]

کریبئن کے امیر ترین ممالک میں سے ایک بہاماس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار سیاحت پر ہے جو کل ملکی معیشت کے 60 فیصد کے برابر ہے۔ نصف سے زیادہ ملازمتیں بھی سیاحت سے وابستہ ہیں۔ سیاحت کے بعد دوسری اہم صنعت معاشی خدمات ہیں جو کل معیشت کے 15 فیصد کے لگ بھگ ہیں۔

ملکی معیشت کا انحصار ٹیکس پر ہے۔ حکومتی آمدنی کا بڑا حصہ درآمدی محصول، لائسنس فیس، جائداد اور سرکاری ٹکٹوں سے حاصل ہوتا ہے۔ تاہم بہاماس میں کسی قسم کا انکم ٹیکس، کارپوریٹ ٹیکس، کیپیٹل گین ٹیکس، ویلیو ایڈڈ ٹیکس یا دولت ٹیکس نہیں۔ کل ملکی آمدنی کا تقریباً 22 فیصد حصہ ٹیکسوں سے آتا ہے۔ افراطِ زر کی شرح محض 3.7 فیصد ہے۔

فی کس آمدنی کے اعتبار سے بہاماس امریکا کے براعظم میں تیسرے نمبر پر ہے۔

نسلی گروہ[ترمیم]

افریقی بہاماس[ترمیم]

افریقی بہاماس سے مراد وہ افراد ہیں جن کے آباؤ اجداد کا تعلق براعظم افریقہ سے تھا۔ بہاماس میں آنے والے اولین افریقی دراصل آزاد کردہ غلام تھے جو نئی زندگی کی تلاش میں بہاماس آن آباد ہوئے۔ اس وقت بہاماس میں افریقی النسل افراد آبادی کے 85 فیصد کے برابر ہیں۔

یورپی[ترمیم]

یورپی بہاماس افراد کی کل تعداد تقریباً 38,000 ہے۔ یہ افراد امریکی اور برطانوی النسل ہیں۔ یہ افراد کل آبادی کا 12 فیصد ہیں۔

آبادی کی خصوصیات[ترمیم]

بہاماس کی کل آبادی 3,54,563 افراد پر مشتمل ہے۔

فہرست متعلقہ مضامین بہاماس[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1.   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں OSM relation ID (P402) ویکی ڈیٹا پر "صفحہ بہاماس في خريطة الشارع المفتوحة"۔ OpenStreetMap۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 اگست 2019۔
  2. ناشر: عالمی بنک
  3. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س http://data.uis.unesco.org/Index.aspx?DataSetCode=DEMO_DS
  4. https://www.interpol.int/Member-countries/World — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: انٹرپول
  5. https://www.opcw.org/about-opcw/member-states/ — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار
  6. http://www.unesco.org/eri/cp/ListeMS_Indicators.asp
  7. http://www.upu.int/en/the-upu/member-countries.html — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  8. https://www.itu.int/online/mm/scripts/gensel8 — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  9. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.MKTP.CD?locations=BS — اخذ شدہ بتاریخ: 21 اکتوبر 2018 — ناشر: عالمی بنک
  10. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.PP.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 11 جون 2019 — ناشر: عالمی بنک
  11. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل​ م​ ن و ہ ھ ی ے اا اب ات اث اج اح اخ اد اذ ار از اس اش اص اض اط اظ اع اغ اف اق https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 27 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  12. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل​ م​ ن و ہ ھ ی ے اا اب ات اث اج اح اخ اد اذ ار از اس اش https://data.worldbank.org/indicator/FI.RES.TOTL.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  13. http://hdr.undp.org/en/data — ناشر: United Nations Development Programme
  14. http://chartsbin.com/view/edr