مندرجات کا رخ کریں

بہاولنگر واقعہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
تاریخاپریل 2024
میدانتھانہ مدرسہ بہاولنگر
وجہپنجاب پولیس کی جانب سے شہریوں کی غیر قانونی حراست کا الزام
شرکاپنجاب پولیس (پاکستان)، پاکستان آرمی
نتیجہپنجاب پولیس اور پاک فوج کی مشترکہ تحقیقات
زخمیجی ہاں

پاکستان کے شہر بہاول نگر میں پیش آنے والا بہوال نگر کا واقعہ، جہاں پنجاب پولیس اور پاک فوج کے درمیان جھڑپ ہوئی، جسے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر نشر کیا گیا۔ ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ فوج کی وردی میں ملبوس لوگ مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں پر حملہ کر رہے ہیں۔ [1]

واقعہ کی تفصیل

[ترمیم]

یہ واقعہ اس وقت شروع ہوا جب پنجاب پولیس نے مبینہ طور پر تین شہریوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا۔ جواب میں، فوجی اہلکاروں نے انہیں بہوال نگر کے مدرسے پولیس اسٹیشن پر چھاپہ مار کر بچایا، جس کی وجہ سے پولیس اہلکاروں پر حملہ ہوا۔ [2] اس واقعے کی ویڈیوز، جن میں فوج کی وردی میں ملبوس افراد کو مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کی گئیں اور سیاست دانوں اور عوام کی طرف سے بڑے پیمانے پر غم و غصے کو جنم دیا۔ [3]

جواب اور تفتیش

[ترمیم]

واقعے کے جواب میں پنجاب پولیس اور پاک فوج نے مشترکہ تحقیقات کا آغاز کیا۔ پولیس نے ایک بیان جاری کیا جس میں "جھوٹے پروپیگنڈے" کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے اور سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا ہے۔ [4] انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے یہ بھی کہا کہ معاملہ حل ہونے کے باوجود کچھ عناصر نے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا شروع کردیا۔ [5][6]

مشترکہ تفتیشی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل

[ترمیم]

حکومت پنجاب نے واقعے کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی۔ جے آئی ٹی میں خصوصی داخلہ سیکرٹری فضل رحمان بطور کنوینر، بہادر پور کمشنر نادر چٹہ، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ فیصل رضا اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور انٹیلی جنس بیورو(آئی بی) سے ایک ایک رکن شامل ہیں۔ [7][8][9]

رد عمل

[ترمیم]

اس واقعے نے ایک اہم عوامی ردعمل کو جنم دیا، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن نے شفاف اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا اور اصرار کیا کہ رپورٹ کو بغیر کسی تبدیلی کے عام کیا جائے۔ [10] اس واقعے کو پی ٹی آئی کے رہنما حماد اظہر اور دیگر سیاست دانوں نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ [11]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "Punjab police decry 'fake propaganda' after video of cops being assaulted in Bahawalnagar goes viral"۔ 11 April 2024 
  2. "Five-member JIT to probe Bahawalnagar incident" 
  3. "Punjab police decry 'fake propaganda' after video of cops being assaulted in Bahawalnagar goes viral"۔ 11 April 2024 
  4. "Punjab police decry 'fake propaganda' after video of cops being assaulted in Bahawalnagar goes viral"۔ 11 April 2024 
  5. "Bahawalnagar incident: Punjab govt issues JIT notification" 
  6. "Bahawalnagar incident to be 'jointly probed' by army, police: ISPR" 
  7. "Bahawalnagar incident: Punjab govt issues JIT notification" 
  8. "Bahawalnagar incident: Govt issues notification of JIT" 
  9. "Five-member JIT to probe Bahawalnagar incident" 
  10. "'Military-police clash': PTI demands probe into Bahawalnagar incident"۔ 13 April 2024 
  11. "Punjab police decry 'fake propaganda' after video of cops being assaulted in Bahawalnagar goes viral"۔ 11 April 2024