بہاولپور میں مسیحیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بہاولپور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوب میں واقع گیارہواں بڑا شہر ہے۔ 1748ء میں نواب محمد بہاول خان عباسی نے قائم کیا[1]۔ پنجاب کا سب سے بڑا صحرا چولستان اسی خطے میں واقع ہے۔ بہاولپور کی کل آبادی تقریباً 798,509 ہے[2] جس میں مسیحیوں کی کل تعداد تقریباً 14,385 ہے[3]۔ 28 اکتوبر2001ء میں اسی شہر کے ایک گرجاگھر سینٹ ڈومینک کاتھولک چرچ پر دہشت گردوں کے حملے کے باعث 16 لوگ شہید ہوئے۔ پاکستان میں کسی بھی گرجاگھر پر دہشت گردوں کا یہ پہلا حملہ تھا[4]۔

ریاست بہاولپور کا قیام[ترمیم]

برطانوی دورِحکومت کی ریاستوں میں سے ایک بڑی ریاست کا درجہ رکھنے والی بہاولپور ریاست کو 1748ء میں نواب محمدبہاول خان عباسی نے قائم کیا۔ 1947ء میں پاکستان کا حصہ بن گئی۔ اس ریاست کے قدیم اداروں میں بہاول وکٹوریہ اسپتال، صادق ایجرٹن کالج، صادق ڈین ہائی اسکول، سنٹرل لائبریری، اسلامیہ یونیورسٹی اور دیگر شامل ہیں۔

انگریز مشنری[ترمیم]

بہاولپور میں انگریز مشنریوں کی آمد کا سلسلہ تقریباً 1875ء سے کچھ پہلے ہوا۔ مئی 1875ء میں شاہی بازار بہاولپور میں ایک مشن اسکول کھولا گیا جس کی تفصیل چرچ مشنری انٹیلی جنسر اینڈ ریکارڈ میں موجود ہے[5]۔ مسیحی منادی وتبلیغ کا مزید کام 1940ء کی دہائی میں شروع کیا گیا۔ بہاولپور، بہاول نگر، چشتیاں، حاصل پور، ہارون آباد اور فورٹ عباس میں غریب عوام کے درمیان کام کا آغاز کیا گیا۔ چولستان میں کام کرنے کا سہرا میتھوڈسٹ چرچ (موجودہ چرچ آف پاکستان ملتان ڈایوسیس) کے پادری متھیاس، ایم اے کیذلر اور پادری خوب داس کے سر ہے۔[6] 1966ء میں پادری فرینک پریسلی نے پادری سلیم اختر (ایسوسی ایٹ ریفارمڈ پریسبیٹرین چرچ) کو لیاقت پور اور فیروزہ میں مسیحی بشارتی خدمت کے لیے دعوت دی۔ ہر دو ماہ میں ایک مرتبہ قبائل کے درمیان خدمت کے لیے مختلف کلیسیائی افراد ماسٹر لعزرس خوشی مسیح، ماسٹر ایلڈر یونس کلاریہ، ایلڈر بخشش نکا اور ایلڈر ہدایت تانی کو ان علاقوں میں بھیجا جاتا رہا[7]۔ مزیدبرآں بہاولپور میں انگریز مشنری فادر جِم نٹال (رومنکاتھولک ملتان ڈایوسیس) اور پادری راجر پامرائے (پاکستان کرسچن فیلوشپ) چولستانی ہندوؤں میں مسیحی منادی وتبلیغ کا کام کر چکے ہیں۔

بہاولپور میں مسیحی کلیسیائیں[ترمیم]

بہاولپور میں میتھوڈسٹ کلیسیاء (موجودہ چرچ آف پاکستان ملتان ڈایوسیس) 1940ء ، رومن کاتھولک کلیسیاء بعد از 1960ء ، کلوری بیپٹسٹ چرچ بعد از 1970، یونائٹیڈ پینتی کاسٹل چرچ بعداز1972ء ، نیواپاسٹالک چرچ بعد از 1990ء، سالویشن آرمی چرچ 1992ء فل گاسپل اسملبیز آف پاکستان بعد از 1995ء، ستلج ریفارمڈ چرچ آف پاکستان 2011ء ، فیتھ کاوننٹ بائبل چرچ 2011ء اور یونیورسل گاسپل اسمبلیز آف پاکستان بعد از 2013ء، گاسپل آف سالویشن چرچ بعد از 2015ء قائم ہیں۔ جبکہ دوسری چھوٹیکلیسیا ئیں بھی موجود ہیں۔ سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ چرچ نے بھی یہاں مختصراً بعد از 2014ء کام کیا ہے تاہم اب کام بند کر دیا گیا۔

طبی و تعلیمی ادارے[ترمیم]

  • سینٹ ڈومینک کانونٹ اسکول
  • سینٹ پیٹرز اسکول
  • دِی پروٹسٹنٹ بائبلیکل انسٹی ٹیوٹ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Dar, Shujaat Zamir (2007). Sights in the Sands of Cholistan: Bahawalpur's History and Architecture. Oxford University Press.
  2. Bahawalpur: Area & Population Archived 9 November 2010 at the Wayback Machine. Official Bahawalpur Government Website, Retrieved 2009-09-17
  3. Christian Population in Pakistan’s four Provinces, Page 1-2
  4. BBC News | SOUTH ASIA | Christians massacred in Pakistan
  5. THE CHURCH MISSIONARY INTELLIGENCER AND RECORD, By the Rev. G. Yeatcs, Page 281
  6. پاکستان میں پروٹسٹنٹ مسیحیت کی تاریخ، صفحہ 67
  7. تاریخِ کلیسیاء حصہ اول ازپادری سلیم اختر، ناشر:دی ایسوسی ایٹ ریفارمڈ پریسبیٹرین چرچ پاکستان، صفحہ 118 تا 119