بہاء الدین عاملی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بہا الدین عاملی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
بہاء الدین عاملی
معلومات شخصیت
پیدائش 18 فروری 1547  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بعلبک،عثمانی شام،سلطنت عثمانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1622 (74–75 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
اصفہان[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Ottoman flag.svg سلطنت عثمانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ ریاضی دان،سائنس دان،ماہر فلکیات،مصنف،معمار،منجم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان فارسی،عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل ریاضی،ماہر فلکیات،فلسفہ،ادب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

بہا الدین عاملی جن کا نام محمد بن عزّ الدین حسین تخلص بہائی معروف بہ شیخ بہائی، فقیہ، محدّث، حکیم، دسویں اور گیارہویں صدی ہجری کے ریاضیدان اور ذوالفنون عالم و سائنس دان ہیں۔ شیخ بہائی کی علمی اور ادبی کاوشوں کی تعداد 123 تک پہنچتی ہے اور جامع عباسی، کشکول، موش و گربہ، نان و پنیر اور اربعین وغیرہ ان کی کاوشوں میں شامل ہیں۔

شیخ بہائی نے فن تعمیر کے حوالے سے بھی متعدد آثار چھوڑے ہیں۔ اصفہان کا "مینار جنبان" (متحرک منارہ)، زایندہ رود نامی دریا کے پانی کی تقسیم کے لیے انجام یافتہ تعمیراتی منصوبہ، مسجد امام اصفہان کے گنبد کے نقشے کی تیاری اور شہر نجف اشرف کی بیرونی باڑ کے نقشے کی تیاری، ان ہی کے آثار میں سے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے مختلف نقاط کا سفر کیا اور شاہ عباس صفوی کے ساتھ اصفہان سے مشہد مقدس کے مشہور تاریخی سفر میں ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے یہ سفر پیدل طے کیا تھا۔ نیز بہا الدین عاملی صفوی حکومت میں اعلٰی ترین دینی منصب "شیخ الاسلامی" پر فائز رہے۔

ولادت اور نسب[ترمیم]

بہا الدین العاملی سترہ یا ستائیس ذوالحجہ سنہ 953 ھ کو (موجودہ لبنان کے شہر) بعلبک میں پیدا ہوئے۔ آبائی گاؤں جبل عامل کا جَبَع یا جَباع،[2] نامی گاؤں تھا۔[3]

ان کے والد کا نام عزّالدین حسین بن عبدالصمد الحارثی (وفات 984ھ)، شہید ثانی (وفات 966ھ) کے دوستوں اور شاگردوں میں سے تھے۔

ان کا سلسلۂ نسبامام علی (ع) کے صحابی حارث ہَمْدانی (وفات 65 ہجری) تک پہنچنتا ہے اسی بنا پر وہ حارثی ہَمْدانی کے عنوان سے مشہور تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. [جبل عامل ar:تصنيف:قرى جبل عامل۔
  3. مجلسـی، محمدباقر، ج104، ص1، 14، 20، 24، 27، 34، 47، 208، 211؛ مہاجر، ص145؛ مدنی، الحدائق، ص3؛ بحرانی، ص16؛ ب رہان آزاد، ص143 ـ 144