بہا فرید زوزانی نیشاپوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بہا فرید زوزانی نیشاپوری ، زوزان کا رہنے والا ایک مجوسی کذاب تھا جس نے دعوی نبوت کیا تھا۔ ابومسلم خراسانی جو خلافت آل عباس کا بانی تھا کے دور حکومت میں ضلع نیشا پور کے قریب سیرواند نام کے ایک قصبہ میں ظاہر ہوااور دعوی نبوت و حامل وحی ہونے کا کر دیا۔

باریک قمیض سے اعجاز نمائی کا کام[ترمیم]

بہا فرید اوائل عمر میں زوزان سے چین کی طرف گیا تھا اور وہاں سات سال تک قیام کیا۔مراجعت کے وقت دوسرے چینی تحائف کے علاوہ سبز رنگ کی ایک نهایت با یک قمیض بھی ساتھ لایا۔بہا فرید نے اس قمیض سے معجزہ کا کام لینا چاہا۔ چین سے واپس آکر رات کے وقت وطن پہنچا کسی سے ملاقات کیے بغیر رات کی تاریکی میں سیدهابت خانہ کا رخ کیا اور مندر پر چڑھ کر بیٹھا رہا۔ جب صبح کے وقت پجاریوں کی آمدورفت شروع ہوئی تو آہستہ آہستہ لوگوں کے سامنے نیچے اترنا شروع کیا۔ لوگ یہ دیکھ کر حیرت زدہ ہوئے کہ سات سال تک غائب رہنے کے بعد اب یہ بلندی کی طرف سے کس طرح آرہا ہے ؟ لوگوں کو متعجب دیکھ کر کہنے لگا حیرت کی کوئی بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خداوند عالم نے مجھے آسمان پر بلایا تھا میں سات سال تک آسمانوں کی سیروسیاحت میں مصروف رہا وہاں مجھے جنت اور دوزخ کی سیر کروائی گئی۔ آخر رب کردگار نے مجھے شرف نبوت سے سرفراز فرما اور یہ قمیض پہنا کر زمین پر اترنے کا علم دیا چنانچہ میں ابھی ابھی آسمان سے نازل ہو رہا ہوں۔ اس وقت مندر کے پاس ہی ایک کسان ہل چلا رہا تھا اس نے کہا کہ میں نے خود اسے آسمان سے نازل ہوتے دیکھا ہے۔ پجاریوں نے بھی اس کے اترنے کی شہادت دی۔ بہافرید کہنے لگا کہ خلعت جو مجھے ان سے عنایت ہوا زیب تن ہے۔ غور سے دیکھو کہ کہیں دنیا میں بھی ایسا باریک اور نفیس کپڑاتیار ہو سکتا ہے ؟ لوگ اس قمیض کو دیکھ دیکھ کر محو حیرت تھے غرض آسمانی نزول اور عالم بالا کے معجزہ خلعت پر یقین کر کے ہزار ہا مجوس اس کے پیروکار ہو گئے۔

بہا فرید کا انجام[ترمیم]

جب ابو مسلم خراسانی نیشا پور کیا تو مسلمانوں اور مجوسیوں کا ایک وفد اس کے پاس پہنچا اور شکایت کی بہا فرید نے دین اسلام اور کیشن مجوس میں فساد در خنہ اندازیاں کر رکھی ہیں۔ ابو مسلم نے عبد اللہ بن شعبہ کو اس کے حاضر کرنے کا حکم دیا جب بہا فرید کو معلوم ہو گیا کہ اس کی گرفتاری کا حکم ہوا ہے۔ فورا نیشا پور ے بھاگ نکلا۔ عبد اللہ بن شعبہ نے تعاقب کر کے جبل بادغیس کے مقام پر اسے جالیا اور گرفتار کر کے ابو مسلم کے سامنے لا حاضر کیا۔ ابو مسلم نے دیکھتے ہی خنجر خاراشگاف کاوار کیا اور ملعون کا سرقلم کر کے اس کی نبوت کا خاتمہ کر دیا۔

ماخذ[ترمیم]

جھوٹے نبی، ص 150-151، مکتبہ سراجیہ، گلبرگ، لاہور