بہرام سقا بردوانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بہرام سقا بردوانی
معلومات شخصیت
مقام پیدائش بردھامن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1562  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بردھامن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت ہندوستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سقا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

بہرام سقا بردوانی (وفات: 1562ء) بنگال کے مشہور صوفیا میں سے ایک ہیں۔بہرام سقا صاحبِ دِل صوفی اور فارسی زبان کے شاعر تھے۔

سوانح[ترمیم]

بہرام سقا کا سلسلۂ نسب بخارا کے چغتائی ترکوں سے ملتا ہے۔ بہرام بردوان میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کا سال پیدائش معلوم نہیں ہو سکا اور نہ ہی کسی تذکرے کی کتاب میں اُن کا سال پیدائش رقم ہے۔بہرام پیشے کے اعتبار سے سقا یا بہشتی کہلاتے تھے۔ اُن کی عادت تھی کہ وہ مسافروں، زائرین اور حجاج کو فی سبیل اللہ پانی پلایا کرتے تھے۔ بہرام نے مجذوبانہ زِندگی بسر کی۔ مشہور ہے کہ جب مغل شہنشاہ نصیرالدین ہمایوں (متوفی1556ء) نے جب 953ھ مطابق 1546ء میں جلال الدین اکبر کی رسم ختنہ پر قندھار میں جشن منعقد کیا تو اُسی زمانے میں بہرام پر مجذوبانہ کیفیت طاری ہوئی۔ نصیرالدین ہمایوں جب ایامِ جلاوطنی گزار کر دوبارہ ہندوستان کا شہنشاہ بن گیا تو یہ اُس زمانے میں ہندوستان آئے۔ غالباً یہ زمانہ فروری 1555ء کے بعد کا ہوگا کیونکہ نصیرالدین ہمایوں نے دوبارہ ہندوستان 1555ء میں تسخیر کر لیا تھا۔ جلال الدین اکبر کے عہدِ حکومت میں بہرام آگرہ میں مقیم تھے۔

’’وہ اپنے چند مریدین اور شاگردوں کے ساتھ اکبرآباد میں مفت پانی پلایا کرتے تھے اور ساتھ ساتھ شعر کہتے جاتے تھے۔اکبر کے ابتدائی عہدِ حکومت میں اُن پر رفض کا اِلزام لگایا گیا، اُنہوں نے اپنے اَشعار میں اِس کی تردید کی۔ تاریخ نگاروں کا بیان ہے کہ وہ اِسی سے بددِل ہوکر اکبرآباد چھوڑ کر چلے گئے۔‘‘[1]

وفات[ترمیم]

970ھ مطابق 1562ء میں بہرام بردوان پہنچے اور وہاں پہنچنے کے تیسرے روز وفات پائی۔ بہرام سقا کا مقبرہ بردوان میں ہے اور اِس مقبرے کے احاطہ میں ملکہ نورجہاں کے پہلے شوہر شیرافگن کی قبر بھی موجود ہے۔ دوسری قبر قطب الدین کی ہے جسے شیرافگن نے قتل کیا تھا۔

شاعری[ترمیم]

ملا عبدالقادر بدایونی (صاحبِ منتخب التواریخ) کا بیان ہے کہ: "بہرام سقا نے اپنی شاعری کے بہت سے دِیوان جمع کیے تھے لیکن جب اُن پر جذب کی کیفیت طاری ہوتی تو وہ اُنہیں دھو دیتے۔‘‘ اِس کے باوجود اُن کی شاعری کا ایک نسخہ ایشیاٹک سوسائٹی، کلکتہ اور خدا بخش اورئینٹل پبلک لائبریری (پٹنہ) میں موجود ہیں۔انسکرپشن آف بنگال میں لکھا ہے کہ مقبرہ بہرام سقا کے متولی کے پاس ایک دِیوان تھا جسے وہ بہرام سقا کا دِیوان بتلاتا تھا۔ اِس دیوان کے ایک خالی ورق پر یہ عبارت رقم تھی: ’’تاریخ وصال حضرت حاجی الحرمین الشریفین بہرام سقا کہ در سنہ نہصد و ھفتاد واصل حق شد، قطعہ از فتحی۔‘‘[2] بہرام سقا کے کلام میں ہمیں اُس دور کے معاشرے کی جھلکیاں بھی نظر آتی ہیں جن سے ہمیں اُن کے زمانے کے حالات کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ وہ اُس زمانے کی خود غرضی اور نخوت کو اپنے تجربے کے آئینے میں عکاسی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:[3]

در مردم ہند طرفہ حالیستکس را بکسے سر سخن نیست
مستغرق حیرت اند یکسرچنداں کہ مجال دم زدن نیست
سر مست زِ بادۂ غرور اندکس را خبرے زِ خویشتن نیست
گفتم کہ سقاوۂ بسازمدرِ شہر کسے ممد من نیست
سقاؔ چہ کند حسن دریں کارایں از فلک است از حسن نیست

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اعجاز الحق قدوسی: تذکرۂ صوفیائے بنگال،  صفحہ 97۔
  2. شمس الدین: انسکرپشن آف بنگال،  صفحہ 257۔
  3. اعجاز الحق قدوسی: تذکرۂ صوفیائے بنگال،  صفحہ 102۔