بہرام شاہ غزنوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بہرام شاہ غزنوی
مناصب
سلطان سلطنت غزنویہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
25 فروری 1117  – 1152 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ارسلان شاہ غزنوی 
خسرو شاہ غزنوی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1084  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
غزنی،  سلطنت غزنویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1152 (67–68 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
غزنی،  سلطنت غزنویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت سلطنت غزنویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
اولاد خسرو شاہ غزنوی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد مسعود ثالث غزنوی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ گوہر خاتون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر

بہرام شاہ غزنوی (پیدائش: 1084ء— وفات: 1157ء) سلطنت غزنویہ کا سولہواں حکمران سلطان تھا جس نے 1117ء سے 1157ء تک حکومت کی۔[1]

سوانح[ترمیم]

بہرام شاہ کی پیدائش 1084ء میں غزنی میں ہوئی۔ بہرام شاہ کے والد سلطان مسعود ثالث غزنوی تھے جبکہ والدہ گوہر خاتون تھیں جو سلجوقی سلطان احمد سنجر (متوفی 8 مئی 1157ء) کی بہن تھیں۔

دور حکومت[ترمیم]

جب بہرام شاہ کا زمانہ آیا تو سلطنت غزنویہ اپنے دورِ زوال سے گزر رہی تھی اور سلطنت غزنویہ سلجوقی سلطنت کی باجگزار تھی۔ بہرام شاہ نے جب 512ھ مطابق 1117ء میں ہندوستان پر حملہ کیا تو اپنا بڑا بیٹا دولت شاہ مرو کے دربارِ سلجوقی میں بھیج دیا تاکہ وہ وہاں سلطنت غزنویہ کی جانب سے محبوس زندگی بسر کرے۔[2][3]

بہرام شاہ کا ہندوستان پر حملہ[ترمیم]

بہرام شاہ نے اپنے عہدِ حکومت میں متعدد بار ہندوستان پر حملہ کیا اور ہر بار ہندوستان کے باغیوں اور سرکشوں کو شکست فاش دے کر اُن کو اُن کے اَعمال کے مطابق سزا دی۔ بہرام شاہ نے پہلی بار 512ھ مطابق 1117ء میں ہندوستان پر لشکرکشی کی اور محمد باہیلم کو 27 رمضان 512ھ مطابق 11 جنوری 1119ء کو حراست میں لے لیا۔ محمد باہیلم سلطان ارسلان شاہ غزنوی کا مقرر کردہ ہندی لشکر کا سپہ سالار تھا اور سلطان ارسلان شاہ غزنوی کے اِنتقال کے بعد سلطنت غزنویہ کی اِطاعت سے منحرف ہوکر مخالفت پر آمادہ ہو گیا تھا۔ چند دِن بعد بہرام شاہ نے محمد باہیلم کا قصور معاف کر دیا اور اُسے دوبارہ ہندی لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا اور خود واپس غزنی چلا آیا۔ باہیلم نے بہرام شاہ کی اِس شفقت و مہربانی کا ذرا بھی خیال نہ کیا اور بہرام شاہ کے غزنی واپس ہوتے ہی ناگور کے مقام پر ایک قلعہ تعمیر کر لیا۔ اِس قلعے میں اپنے بچوں بیویوں کو بحفاظت چھوڑ کر خود عربی، عجمی، افغانی و خلجی سپاہیوں کا ایک زبردست لشکر تیار کرکے ہندوستان کے سرکشوں کو زیر کرنے لگا۔ اِس میں باہیلم کو کامیابی ہوئی۔ اِس کا یہ اَثر ہوا کہ باہیلم کا غرور حد سے بڑھتا چلا گیا اور غرور کے نشے میں اُس نے کھلے بندوں ملک گیری اور مستقل حکمرانی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ بہرام شاہ نے جب اِس کے متعلق سنا تو وہ فوراً غزنی سے ہندوستان کے لیے روانہ ہوا۔ باہیلم نے بھی جنگ کرنے کا اِرادہ کر لیا اور اپنے دس بیٹوں کو جو ملک کے مختلف حصوں کے اَمیر تھے، ساتھ لے کر بہرام شاہ کے مقابلے کے لیے آگے بڑھا۔ ملتان کے قریب دونوں لشکروں کا آمنا سامنا ہوا اور لڑائی شروع ہوئی۔ طرفین میں زبردست معرکہ کارزار گرم ہوا۔ یہ ایسی گھمسان کی جنگ تھی کہ تاریخ میں مثال مشکل ملتی سے ملے گی۔ باہیلم کے لشکری اگرچہ ہمت سے لڑ رہے تھے مگر چونکہ اُن کے سردار پر کفرانِ نعمت کا وبال تھا اور اُسے اُس کے اعمال بد کی سزا ملنی ہی تھی۔ اِسی لیے غزنوی فوج کا پلہ بھاری ہونے لگا اور باہیلم کے لشکری میدانِ جنگ سے راہِ فرار اِختیار کرنے لگے۔ باہیلم نے جب لشکریوں کی یہ حالت دیکھی تو وہ اپنے دو بیٹوں اور چند مصاحبین کے ساتھ میدانِ جنگ سے بھاگ نکلا۔ اِسی فراری کے دوران میں اِتفاقاً ایک گہرے دلدل میں جا گرا اور مع اپنے گھوڑے کے ہلاک ہو گیا اور اُس کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ بہرام شاہ نے باہیلم کی سرکشی سے فراغت پانے کے بعد حسین بن ابراہیم علوی کو لشکر ہند کا سپہ سالار مقرر کیا اور خود واپس غزنی چلا آیا۔[4] یہ واقعہ 1119ء میں پیش آیا۔

وفات[ترمیم]

بہرام شاہ نے چالیس سال حکمرانی کے بعد 547ھ مطابق 1152ء میں غزنی میں وفات پائی۔

شخصیت[ترمیم]

بہرام شاہ بڑے رعب دار اور شان و شوکت والا حکمران تھا۔ علما، فضلاء اور فقیروں کی صحبت میں بیٹھنا پسند کرتا تھا تاکہ اُن سے اچھی عادات سیکھ سکے۔ وہ ہر پڑھے لکھے اور ماہر فن شخص کی قدر کیا کرتا تھا۔ بہرام شاہ کی علم دوستی اور اِنسان شناسی کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اُس کے عہدِ حکومت کے بڑے بڑے مصنفین نے اپنی تصانیف اُسی کے نام پر معنون کی ہیں۔ حضرت شیخ نظامی کی شہرۂ آفاق مثنوی مخزن الاسرار بھی بہرام شاہ کے نام پر معنون کی گئی ہے۔ اِسی عہد کے ایک مشہور شاعر سید حسن غزنوی نے بہرام شاہ کے جلوس کی تہنیت میں ایک قصیدہ لکھا تھا۔[5] 1143ء سے 1146ء کے وسطی زمانہ میں وزیر غزنوی ابوالمعالی نصر اللہ نے کلیلہ و دمنہ کا عربی زبان سے فارسی زبان میں پہلی ترجمہ کیا جو بہرام شاہ کو منسوب کیا گیا۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. The Later Ghaznavids, p. 99
  2. The Later Ghaznavids, p. 97
  3. ^ ا ب The Later Ghaznavids, p. 159
  4. ابوالقاسم فرشتہ: تاریخ فرشتہ، صفحہ 126۔
  5. ابوالقاسم فرشتہ: تاریخ فرشتہ، صفحہ 125۔
بہرام شاہ غزنوی
پیدائش: 1084ء وفات: 1152ء
شاہی القاب
ماقبل 
ارسلان شاہ غزنوی
سلطان سلطنت غزنویہ
25 فروری 1117ء1152ء
مابعد 
خسرو شاہ غزنوی