مندرجات کا رخ کریں

بہری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
بہری
Peregrine falcon
بہری
بقا کی صورت حال
سائنسی درجہ بندی
اقلیم:
جماعت:
فصیلہ:
خاندان:
جنس:
نوع:
F. peregrinus
ذیلی نوع

17–19, see text

Global range of F. peregrinus

     Breeding summer visitor     Breeding resident     Winter visitor     Passage visitor

ہم نام

Falco atriceps Hume
Falco kreyenborgi Kleinschmidt, 1929
Falco pelegrinoides madens Ripley & Watson, 1963
Rhynchodon peregrinus (Tunstall, 1771)
and see text

Falco peregrinus
Falco peregrinus madens

بہری[2] (Peregrine Falcon) ایک قسم کا موسم کے مطابق نقلِ مکانی کرنے والا شاہین ہے۔ بہری دنیا کا سب سے تیز چلنے والا پرندہ ہے، کیونکہ یہ جھپٹتے ہوئے 389 کلومیٹر فی گھنٹہ (242 میل فی گھنٹہ) کی رفتار تک پہنچ سکتا ہے۔

جغرافیائی حدود

[ترمیم]

بہری دنیا کے 222 ممالک میں یا تو رہائش پزیر ہے یا موسمی مہاجر ہے۔ پاکستان میں بہری موسم سرما گزارنے کی خاطر ہجرت کرکے آتا ہے۔ بہری سوائے انٹارکٹیکا کے دیگر تمام براعظموں میں ملتا ہے۔

مسکن

[ترمیم]

بہری کے مسکن میں ساحل سمندر، میدانی علاقے، جنگل، جھاڑ، نیم جنگلی خطے، ریگستانی علاقے اور دیگر بہت سے مقامات شامل ہیں۔

شناخت

[ترمیم]

اس کا حجم۔۔۔58 سم، وزن۔۔۔1.5 کلو تک۔ جبکہ ونگ اسپین۔۔۔120 سم تک ہوتی ہے۔

عمر

[ترمیم]

اس پرندے کی عمر آزادی میں 15 سال جبکہ چڑیا گھر میں 25 برس تک ہوتی ہے۔

خوراک

[ترمیم]

بہری ایک گوشت خور شکاری پرندہ ہے۔ اس کی خوراک بنیادی طور پر دیگر پرندوں جیسے آبی پرندے، کبوتر، فاختائیں، تلیر، میگپائی، کوا، چڑیا ودیگر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خرگوش، چوہے، گلہری، چھچھوندر وغیرہ بھی کھایا کرتا ہے۔

رہن سہن و گھونسلا

[ترمیم]

بہری بلند مقامات پر رہنے کا عادی ہے جو 1300 فٹ بلند چٹانوں، پہاڑوں، متروک عمارتوں کی بلندی پر رہتا ہے۔ یہ پرندہ عام طور پر گھونسلا نہیں بنایا کرتا بلکہ مناسب حجم کے پتھروں اور کنکروں کو یکجا کرکے ان کے درمیان بیٹھ جاتا ہے یا پھر دیگر پرندوں کے متروک گھونسلوں میں رہائش اختیار کرتا ہے۔

افزائش نسل

[ترمیم]

بہری کی افزائش کا موسم مارچ تا مئی ہوتا ہے، ایک موسم میں مادہ شہباز 3 سے 4 انڈے دیتی ہے جنجیں 32 دن تک سینے کے بعد اس کے چوزے نکلتے ہیں۔ بہری 3 سال کی عمر میں بالغ ہوجاتا ہے۔

انسان کے ساتھ تعلق

[ترمیم]

بہری 3000 سال سے انسان کا ساتھی ہے، اسے پالا اور سدھایا جا سکتا ہے اور شکار کے علاوہ دفاعی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں اتحادی ممالک کی افواج بہری کو دشمن کے پیغام رساں کبوتروں کو کھوجنے اور مار گرانے کے لیے استعمال کرتی تھیں۔

بہری کو دنیا کے کئی ممالک میں ہوائی اڈوں پر تعینات کیا جاتا ہے، یہ تربیت یافتہ بہری ہوائی اڈوں کے آس پاس پرندوں کو دور بھگانے کا کام کرتے ہیں تاکہ پرندوں کی جہازوں کے ساتھ ٹکرانے کے واقعات کو روکا جاسکے۔

بقا کی صورت حال

[ترمیم]

سنہ 1950ء کی دہائی تک جنگلات کی کٹائی قدرتی مساکن کی تباہی، فضائی و آبی آلودگی اور کیڑے مار اسپرے جیسے زہریلے موادوں کے بڑے پیمانے پر استعمال کی وجہ سے بہری کی آبادی خطرناک حد تک کم ہو گئی تھی اور یہ معدومی کے بہت نزدیک تھا۔ تاہم آنے والے دہائیوں میں بہری کی خاطر کئی ممالک نے خصوصی حفاظتی اقدامات اور اس کی افزائش نسل کے لیے ادارے قائم کیے۔ آج بہری کی آبادی پھر سے بڑھ ہو چکی ہے اور اس کی نسل کو فی الوقت کوئی سنجیدہ خطرات لاحق نہیں۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. بین الاقوامی انجمن برائے پرندہ (2014)۔ "Falco peregrinus"۔ لال فہرست برائے خطرہ زدہ جاندار نسخہ 2014.3۔ بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظ قدرت۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-04-25 {{حوالہ ویب}}: پیرامیٹر |ref=harv درست نہیں (معاونت)
  2. اردو لغت تاریخی اصول پر (پہلا ایڈیشن)۔ کراچی: ترقی اردو بورڈ۔ ج 2۔ 1990۔ ص 1452