بہشتی مقبرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بہشتی مقبرہ ایک مخصوص قبرستان ہے جو جماعت احمدیہ میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس قبرستان میں صرف احمدیہ نظام وصیت میں شامل افراد ہی دفن ہو سکتے ہیں۔

اعتقادی بنیاد[ترمیم]

بہشتی مقبرہ کی اعتقادی بنیاد جماعت احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد کی کتاب الوصیت پر ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنا ایک خواب بیان کیا ہے جس میں انہوں نے دیکھا کہ ان اور ان کے مخلص ساتھیوں کی قبریں ایک قطعہ زمین پر اکٹھی ہیں۔ اس خواب کے بعد انہوں نے اپنی جماعت کے مخلص اور متقی لوگوں کے لیے ایک نظام کا آغاز کیا اور اس کے لیے کچھ شرائط عائد کیں۔ چنانچہ صرف وہ احمدی افراد جو اس نظام میں شامل ہوں اور ان شرائط پر پورے اتریں ان کے لیے ایک الگ قبرستان بنایا گیا جو بہشتی مقبرہ کہلاتا ہے۔

نظام وصیت[ترمیم]

نظام وصیت میں شامل ہونے والوں کے لیے مرزا غلام احمد نے چار بنیادی شرائط مقرر کیں۔

  • پہلی شرط یہ ہے کہ موصی قبرستان کے مصارف کے لیے کچھ رقم اپنی حیثیت کے مطابق ادا کرے۔[1]
  • "تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی مدفون ہو گا جو وصیت کرے جو اس کی موت کے بعد دسواں حصہ اس کے تمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کے اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہو گا اور ہر ایک صادق کامل الایمان کو اختیار ہو گا کہ اپنی وصیت میں اس سے بھی زیادہ لکھ دے لیکن اس سے کم نہیں ہو گا"۔[2]
  • "تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں داخل ہونے والا متقی ہو اور محرمات سے پرہیز کرتا اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو۔ سچا اور صاف مسلمان ہو"۔[3]
  • "ہر ایک صالح جو اُس کی کوئی جائداد بھی نہیں اور کوئی مالی خدمت نہیں کر سکتا اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دین کے لیے اپنی زندگی وقف رکھتا تھا اور صالح تھا تو وہ اس قبرستان میں دفن ہو سکتا ہے"۔[3]

قادیان بہشتی مقبرہ[ترمیم]

اس نظام کے تحت مرزا غلام احمد نے قادیان میں، جو جماعت احمدیہ کا مرکز اور مرزا غلام احمد کا آبائی گاؤں تھا، میں اپنی آراضی پر اس بہشتی مقبرہ کا آغاز کیا۔

ربوہ بہشتی مقبرہ[ترمیم]

تقسیم ہند کے بعد جب جماعت احمدیہ کا مرکز مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب منتقل کیا گیا تو نئے مرکز ربوہ میں بہشتی مقبرہ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔

مقبرہ موصیان[ترمیم]

قادیان اور ربوہ کے علاوہ بھی جہاں جہاں جماعت احمدیہ قائم ہے وہاں نظام وصیت کی مناسبت سے مخصوص مقبروں کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ البتہ ان مقبروں کو مقبرہ موصیان کہا جاتا ہے۔ بہشتی مقبرہ کی اصطلاح محض قادیان اور ربوہ کے مقابر ہی کے لیے مخصوص ہے۔

اہم مدفن[ترمیم]

قادیان[ترمیم]

قادیان میں بہشتی مقبرہ میں مرزا غلام احمد اور ان کے پہلے خلیفہ حکیم نورالدین مدفون ہیں۔ اسی طرح مرزا غلام احمد کے بہت سے نزدیکی پیروکار، جن کو جماعت احمدیہ میں "صحابہ مسیح موعود" کہا جاتا ہے، بھی مدفون ہیں۔

ربوہ[ترمیم]

ربوہ کے بہشتی مقبرہ میں جماعت احمدیہ کے دوسرے اور تیسرے احمدی خلفاء، مرزا غلام احمد کی زوجہ نصرت جہاں بیگم، وزیر خارجہ پاکستان محمد ظفر اللہ خان، پہلے پاکستانی نوبل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام نیز مرزا غلام احمد کے متعدد قریبی ساتھی اور ان کی اولاد کی قبریں شامل ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الوصیت، روحانی خزائن جلد 20، صفحہ 318
  2. الوصیت، روحانی خزائن جلد 20، صفحہ 319
  3. ^ ا ب الوصیت، روحانی خزائن جلد 20، صفحہ 320