بہلول لودھی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بہلول لودھی
Coin of Bahlul Lodi.jpg 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1406  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 12 جولا‎ئی 1489 (82–83 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Delhi Sultanate Flag (catalan atlas).png سلطنت دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
اولاد سکندر لودھی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
خاندان لودھی سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
دیگر معلومات
پیشہ بادشاہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

ہندوستان میں افغان لودھی سلطنت کا بانی۔ سادات کی بادشاہی میں سرہند کا حاکم تھا۔ اصل میں یہ افغانستان سے آئے ہوئے پٹھان قبیلہ سے تھے۔ لودھی /لودی ، پشتو: لودی ، ایک بتانی پشتون (غلزئی) قبیلہ ہے جو بنیادی طور پر افغانستان اور پاکستان کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔’’لودھی‘‘ اُن پشتون قبائل کا حصہ ہیں جنہیں مشرق میں ان علاقوں میں دھکیل دیا گیا تھا جو آج کل پاکستان کا حصہ ہیں۔ لودھی اکثر اپنے بنی اسرائیلی نسل ہونے پر فخر کرتے ہیں یہ اسرائیل کے بارہ قبائل میں سے ایک گمشدہ قبیلہ ہے جو افغانستان میں آکے آباد ہوئے یہاں سے لودھی سوری خلجی پٹھان کے افراد ہندوستان میں جا آباد ہوئے ۔ جس نے جنوبی ایشیا (ہندو و پاک) کا علاقہ فتح کیا تھا۔ لودھی قبیلہ نے اپنے آپ کو منظم کیا اور مسلمانوں کے ابتدائی دور میں اس خطۂ زمین (ہندُستان) پر حکمران ہوئے۔ یہ بہترین لڑاکا افراد تھے۔ ان کے جد قیس عبدالرشید تھے جو انہیں اس مقام تک لانے میں اہم کردار کے حامل ہیں۔ پشتو زبان میں ارتقائی منازل طے کرتے کرتے یہ لفظ ’’لودی‘‘ بنا، جو دراصل ’’لوئے دھا‘‘ سے مشتق ہے، جس کے معنی بڑا شخص (اعلیٰ شخصیت) کے ہیں۔ اس قبیلے کے افراد نے حیرت انگیز ترقی پائی اور سلطنتِ دہلی پر حکومت کی۔ اس قبیلے کی ایک ممتاز شخصیت ’’ابراہیم لودھی ‘‘ہے (یہ دہلی کی سلطنت کا حکمران رہا ہے)۔ ’’لودھیی/لودھی خاندان‘‘ کے افراد اپنے نام کے آخر میں ’’خان‘‘ کا لفظ بھی استعمال کرتے ہیں جو ایک لقب ہے اور ان کی شخصیت کو امتیاز عطا کرتاہے۔ گویا ’’خان لودی‘‘ یا ’’خان لودھی‘‘ ، بعض اوقات صرف’’ خان‘‘ یا’’ لودی/لودھی‘‘ ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ ’’خان‘‘ ایک امتیازی نام ہے جو امتیازی طور پر لکھا جاتا ہے مگر اس کے قطعی یہ مطلب نہیں کہ ’’خان‘‘ کا لفظ استعمال کرنے والا ’’لودھی‘‘ یا اس زمرے میں آتا ہو ، اسی لیے ’’لودھی‘‘ کا ٹائیٹل استعمال کیا جاتا ہے جس میں ’’خان‘‘ پوشیدہ ہے اور ’’لودی/ لودھی ‘‘ اس میں اپنے قبیلے کی امتیازیت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

حسن خدمت کے صلے میں لاہور اور دیپال پور کی حکومت بھی مل گئی۔ مرکز کا نظام بگڑا تو دہلی جا کر بادشاہ بن گیا۔ اور لودھی خاندان کی بنیاد رکھی۔ اس کے عہد کا سب سے بڑا واقعہ جون پور ’’سلطنت شرقی‘‘ کے ساتھ 26 سالہ جنگ ہے۔ مزید برآں بہلول نے گوالیار اور دھول پور کے کچھ علاقے فتح کیے۔ واپس پر جلالی نزد علی گڑھ میں وفات پائی۔ بہلول لودھی نے اپنے نام سے  لودھی شاہی خاندان کی بنیاد رکھی۔ اور آج اس کے 6000 ہزار خاندان انڈیا اور پاکستان میں موجود ہیں۔ ان کے بعد ان کے بیٹے سکندر لودھی کی حکومت آئی . ابراہیم  لودھی ۱۵۲۶آخری بادشاہ تھا ۔افغانی پٹھان  خاندان کی گوت ہے .سوری خلجی بھی پٹھان قبائل تھے ہندوستان پہ پٹھان یعنی افغانوں کی حکومت ۱۲۰۶سے ۱۵۲۶تک قائم رہی پھر مغلوں کا دور آگیا ۔