مندرجات کا رخ کریں

بیدستر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
پانی کے کنارے ایک بیدستر
یوریشیائی بیدستر اپنے تعمیر کردہ بند کے نزدیک۔

بیدَسْتَر[1] یا سگ آبی (انگریزی: Beavers بیور) شمالی نصف کرے کے بڑے نیم آبی جوندے (کترنے والے جانور) ہیں۔ اس جنس کی دو موجودہ انواع ہیں: شمالی امریکی بیدستر (Castor canadensis) اور یوریشیائی بیدستر (Castor fiber)۔ کیپی بارا کے بعد یہ دنیا کے دوسرے سب سے بڑے زندہ جوندے (کترنے والے جانور) ہیں اور ان کا وزن 50 کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔ ان کا جسم مضبوط، سر بڑا، سامنے کے دانت لمبے اور چھینی جیسے، بال بھورے یا سرمئی، اگلے پاؤں ہاتھ جیسے، پچھلے پاؤں جھلی دار اور دم چپٹی اور چھلکے دار ہوتی ہے۔ دونوں انواع میں کھوپڑی، دم کی ساخت اور بالوں کے رنگ میں فرق پایا جاتا ہے۔ یہ دریاؤں، ندیوں، جھیلوں اور تالابوں جیسے میٹھے پانی کے مساکن میں رہتے ہیں اور نبات خور ہوتے ہیں، درختوں کی چھال، آبی پودے اور گھاس وغیرہ کھاتے ہیں۔

بیدستر درختوں کی شاخوں، پودوں، پتھروں اور کیچڑ سے بند (ڈیم) اور ٹھکانے (lodges) بناتے ہیں؛ اس مقصد کے لیے وہ درختوں کو کتر کر گراتے ہیں۔ ان کے بنائے ہوئے بند پانی کے بہاؤ کو روک کر تالاب بناتے ہیں اور تالابوں میں بنے ٹھکانے رہائش کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان کی یہ تعمیرات دلدلی اور کیچڑ والی زمین پیدا کرتی ہیں جن سے بہت سی دوسری انواع فائدہ اٹھاتی ہیں، اسی لیے ماحولیاتی نظام پر گہرے اثر کی وجہ سے انھیں پشتی بان نوع (keystone species) سمجھا جاتا ہے۔ بالغ نر اور مادہ اپنے بچوں کے ساتھ یک زوجی جوڑوں کی صورت میں رہتے ہیں۔ ایک سال بعد بچے اپنے والدین کے ساتھ مل کر بند اور ٹھکانے کی مرمت میں حصہ لیتے ہیں جبکہ بڑے بہن بھائی نئے پیدا ہونے والے بچوں کی پرورش میں بھی مدد کرتے ہیں۔ یہ اپنے علاقے قائم کرتے ہیں اور انھیں کیچڑ، ملبے اور جند بیدستر (کاسٹوریئم) نامی مادے سے بنے خوشبوئی ڈھیروں کے ذریعے نشان زد کرتے ہیں، جو ایک رطوبت ہے جو ان کے مخصوص غدود سے خارج ہوتی ہے۔ یہ اپنے عزیز و اقارب کو غدودی رطوبتوں کے ذریعے پہچان بھی لیتے ہیں اور ان کے ساتھ نسبتاً رواداری دکھاتے ہیں۔

تاریخی اعتبار سے بیدستر کا شکار ان کی کھال، گوشت اور جند بیدستر (castoreum) کے لیے کیا جاتا رہا ہے۔ جند بیدستر کو دوا سازی، عطر سازی اور غذاؤں میں خوشبو کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا جبکہ ان کی کھال سمور کی تجارت میں اہم رہی ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں تحفظ کے اقدامات سے پہلے حد سے زیادہ شکار نے دونوں انواع کو تقریباً ناپید کر دیا تھا۔ بعد ازاں ان کی تعداد میں دوبارہ اضافہ ہوا اور اب عالمی انجمن برائے بقائے ماحول (IUCN) کی سرخ فہرست میں انھیں کم خطرے والی انواع میں شمار کیا جاتا ہے۔ انسانی ثقافت میں بیدستر محنت اور تعمیر کا استعارہ سمجھا جاتا ہے اور یہ کینیڈا کا قومی جانور بھی ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. شان الحق حقی (2017)۔ فرہنگِ تلفظ۔ اسلام آباد: ادارہ فروغ قومی زبان۔ ص 142