مندرجات کا رخ کریں

بیرم خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
بیرم خان
(فارسی میں: بيرام خان)  ویکی ڈیٹا پر  (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

معلومات شخصیت
پیدائش 1501ء
بدخشاں   ویکی ڈیٹا پر  (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 31 جنوری 1561ء
پاٹن ،  مغلیہ سلطنت   ویکی ڈیٹا پر  (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات لڑائی میں ہلاک   ویکی ڈیٹا پر  (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت مغلیہ سلطنت   ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لقب خانِ خاناں، وکیل السلطنت
مذہب اسلام (شیعہ)
زوجیت سلیمہ سلطان   ویکی ڈیٹا پر  (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد عبدالرحیم خان خاناں
عملی زندگی
پیشہ ریاست کار ،  فوجی افسر ،  شاعر ،  فوجی [1]  ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ترکی ،  فارسی   ویکی ڈیٹا پر  (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
عہدہ جرنیل [1]  ویکی ڈیٹا پر  (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

بیرم خان (پیدائش: 1501ء — وفات: 31 جنوری 1561ء) مغلیہ سلطنت کے ایک مایہ ناز سپہ سالار، مدبر اور خانِ خاناں کے لقب سے مشہور شخصیت تھے۔ وہ شہنشاہ نصیر الدین ہمایوں کے وفادار ساتھی اور شہنشاہ جلال الدین اکبر کے اتالیق (استاد و سرپرست) تھے۔ برصغیر میں مغل سلطنت کے دوبارہ قیام اور استحکام میں ان کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور خاندان

[ترمیم]

بیرم خان کا تعلق قرا قویونلو قبیلے کی بہارلو شاخ سے تھا، جو ایک ترکمان نسل کا قبیلہ تھا۔ ان کے آبا و اجداد نے عرصہ دراز تک فارس اور وسطی ایشیا میں حکمرانی کی تھی۔ ان کی پیدائش بدخشان کے علاقے میں ہوئی۔ ان کے والد سیف علی بیگ اور دادا جان علی بیگ بابر کے دور میں مغل فوج کے اہم عہدوں پر فائز تھے۔ بیرم خان نے اپنی تعلیم بلخ میں مکمل کی اور کم سنی میں ہی کابل میں بابر کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔

ہمایوں کی رفاقت اور جلاوطنی

[ترمیم]

بیرم خان نے ہمایوں کے تمام اہم معرکوں میں حصہ لیا۔ جب شیر شاہ سوری سے شکست کے بعد ہمایوں کو ہندوستان چھوڑنا پڑا، تو بیرم خان ان چند وفاداروں میں شامل تھے جو ایران کی جلاوطنی کے دوران ان کے ساتھ رہے۔ انھوں نے ایران کے صفوی بادشاہ شاہ طہماسپ اول کو ہمایوں کی مدد پر آمادہ کرنے میں اہم سفارتی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں مغلوں کو قندھار اور کابل دوبارہ حاصل کرنے میں مدد ملی۔

جنگِ پانی پت اور اکبر کی سرپرستی

[ترمیم]

1556ء میں دہلی میں ہمایوں کی وفات کے وقت اکبر کی عمر محض 13 سال تھی۔ بیرم خان نے کلانور میں اکبر کی تخت نشینی کا اعلان کیا اور خود وکیل السلطنت (وزیراعظم) کے طور پر امورِ حکومت سنبھالے۔ اسی سال پانی پت کی دوسری جنگ میں انھوں نے ہیمو بقال کی عظیم الشان فوج کو شکست دے کر دہلی اور آگرہ پر مغلوں کا قبضہ مستحکم کیا۔ ان کی سرپرستی کے چار سالوں (1556ء تا 1560ء) میں مغل سلطنت کی حدود گوالیار، اجمیر اور جون پور تک پھیل گئیں۔

ادبی ذوق

[ترمیم]

سیاست اور جنگ و جدل کے ساتھ ساتھ بیرم خان ایک اعلیٰ درجے کے شاعر اور علم دوست انسان بھی تھے۔ وہ فارسی، چغتائی ترکی اور عربی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ ان کا فارسی اور ترکی زبانوں پر مشتمل دیوان آج بھی ان کی علمی قابلیت کا ثبوت ہے۔ وہ اہل تشیع عقیدے سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان کی رواداری کی وجہ سے دربار میں تمام مذاہب کا احترام کیا جاتا تھا۔

معزولی اور شہادت

[ترمیم]

جیسے جیسے اکبر جوان ہوا، درباری سازشوں (بالخصوص ماہم انگہ اور دیگر امرا) کی وجہ سے اکبر اور بیرم خان کے درمیان دوریاں پیدا ہو گئیں۔ 1560ء میں اکبر نے عنانِ حکومت خود سنبھالنے کا فیصلہ کیا اور بیرم خان کو حج کے لیے مکہ جانے کا مشورہ دیا۔ اگرچہ بیرم خان نے شروع میں پنجاب میں بغاوت کی، لیکن شکست کے بعد انھوں نے اکبر سے معافی مانگ لی۔ 31 جنوری 1561ء کو جب وہ سفرِ حج پر روانہ ہو رہے تھے، گجرات کے شہر پٹن میں "سہسہ لنگ" جھیل کے کنارے مبارک خان نامی ایک پٹھان نے انھیں قتل کر دیا۔ مبارک خان کا باپ مچھی واڑہ کی جنگ میں مغل فوج کے ہاتھوں مارا گیا تھا، جس کا اس نے بدلہ لیا۔

اولاد

[ترمیم]

بیرم خان کی وفات کے بعد اکبر نے ان کی بیوہ سلیمہ سلطان بیگم سے نکاح کیا اور ان کے کمسن بیٹے عبدالرحیم خان خاناں کی پرورش خود کی۔ عبدالرحیم بعد میں اکبر کے نوراتن میں شامل ہوئے اور اپنے دور کے عظیم عالم، شاعر اور سپہ سالار بنے۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

مغلیہ سلطنت جلال الدین اکبر نصیر الدین محمد ہمایوں پانی پت کی دوسری جنگ

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/136349226 — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اپریل 2026 — اجازت نامہ: CC0

ابوالفضل، اکبر نامہ، جلد دوم۔ ملا عبد القادر بدایونی، منتخب التواریخ۔ نظام الدین احمد، طبقاتِ اکبری۔