بیعت عقبہ ثانیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

13 نبوی میں حج کے موقعے پر مدینہ منورہ کے 72 آدمیوں نے منیٰ کی اسی گھاٹی عقبہ کے مقام پراپنے بت پرست ساتھیوں سے چھپ کرحضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اسے بیعت عقبہ ثانیہ کہتے ہیں۔ مدینے کے مسلمانوں نے رسول اللہ کو دعوت دی کہ آپ اور آپ کے رفقا مدینہ تشریف لے چلیں۔ وہاں اسلام کی تبلیغ کے لیے زیادہ کام ہوسکے گا۔اور یہ عہد کیا کہ ہم لوگ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اور اسلام کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کر دیں گے۔ اس موقع پر حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی موجود تھے جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے مدینہ والوں سے کہا کہ دیکھو! محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے خاندان بنی ہاشم میں ہر طرح محترم اور با عزت ہیں۔ ہم لوگوں نے دشمنوں کے مقابلہ میں سینہ سپر ہو کر ہمیشہ ان کی حفاظت کی ہے۔ اب تم لوگ ان کو اپنے وطن میں لے جانے کے خواہشمند ہو تو سن لو! اگر مرتے دم تک تم لوگ ان کا ساتھ دے سکو تو بہتر ہے ورنہ ابھی سے کنارہ کش ہو جاؤ۔ یہ سن کر براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ طیش میں آ کر کہنے لگے کہ ہم لوگ تلواروں کی گود میں پلے ہیں۔ براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اتنا ہی کہنے پائے تھے کہ ابو الہیثم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بات کاٹتے ہوئے یہ کہا کہ یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہم لوگوں کے یہودیوں سے پرانے تعلقات ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ہمارے مسلمان ہو جانے کے بعد یہ تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ جب اﷲ تعالیٰ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو غلبہ عطا فرمائے تو آپ ہم لوگوں کو چھوڑ کر اپنے وطن مکہ چلے جائیں۔ یہ سنکر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ تم لوگ اطمینان رکھو کہ تمہارا خون میرا خون ہے اور یقین کرو میرا جینا مرنا تمہارے ساتھ ہے۔ میں تمہارا ہوں اور تم میرے ہو۔ تمہارا دشمن میرا دشمن اور تمہارا دوست میرا دوست ہے۔[1] جب انصار یہ بیعت کر رہے تھے تو سعد بن زرارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یا عباس بن نضلہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میرے بھائیو! تمہیں یہ بھی خبر ہے؟ کہ تم لوگ کس چیز پر بیعت کر رہے ہو؟ خوب سمجھ لو کہ یہ عرب و عجم کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ انصار نے طیش میں آ کر نہایت ہی پرجوش لہجے میں کہا کہ ہاں! ہاں!ہم لوگ اسی پر بیعت کررہے ہیں۔بیعت ہو جانے کے بعد آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس جماعت میں سے بارہ آدمیوں کو نقیب(سردار)مقرر فرمایا ۔ان میں نو آدمی قبیلہ خزرج کے اور تین اشخاص قبیلۂ اوس کے تھے جن کے مبارک نام یہ ہیں۔

  • 1ابوامامہ اسعدبن زرارہ
  • 2 سعدبن ربیع
  • 3عبداﷲ بن رواحہ
  • 4 رافع بن مالک
  • 5 براء بن معرور
  • 6عبداﷲ بن عمرو
  • 7 سعد بن عبادہ
  • 8 منذر بن عمر
  • 9عبادہ بن ثابت ۔یہ نو آدمی قبیلہ خزرج کے ہیں۔
  • 10 اُسید بن حضیر
  • 11سعد بن خیثمہ
  • 12ابو الہیثم بن تیہان۔ یہ تین شخص قبیلہ اوس کے ہیں۔ [2]

اس کے بعد یہ تمام اپنے اپنے ڈیروں پر چلے گئے۔ صبح کے وقت جب قریش کو اس کی اطلاع پہنچی تو وہ آگ بگولا ہو گئے اور ان لوگوں نے ڈانٹ کر مدینہ والوں سے پوچھا کہ کیا تم لوگوں نے ہمارے ساتھ جنگ کرنے پر محمدﷺسے بیعت کی ہے؟ انصار کے کچھ ساتھیوں نے جو مسلمان نہیں ہوئے تھے اپنی لاعلمی ظاہر کی ۔یہ سن کر قریش واپس چلے گئے مگر جب تفتیش و تحقیقات کے بعد کچھ انصار کی بیعت کا حال معلوم ہوا تو قریش غیظ و غضب میں آپے سے باہر ہو گئے اور بیعت کرنے والوں کی گرفتاری کے لئے تعاقب کیا مگر قریش سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے سوا کسی اور کو نہیں پکڑ سکے۔ قریش سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اپنے ساتھ مکہ لائے اور ان کو قید کر دیا مگر جب جبیر بن مطعم اور حارث بن حرب بن امیہ کو پتہ چلا تو ان دونوں نے قریش کو سمجھایا کہ خدا کے لئے سعد بن عبادہ کو فوراً چھوڑ دو ورنہ تمہاری ملک ِشام کی تجارت خطرہ میں پڑجائے گی۔ یہ سن کر قریش نے سعد بن عبادہ کو قید سے رہاکردیااور وہ بخیریت مدینہ پہنچ گئے۔ [3]

  1. ^ السیرۃ النبویۃلابن ھشام،العقبۃ الاولٰی ومصعب بن عمیر ،ص175،176
  2. ^ السیرۃ النبویۃلابن ھشام،اسماء النقباء الاثنی عشر،ص177،178
  3. ^ سیرتِ ابن ہشام ص 178 تا 179