بیلن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بیلن روٹی پکانے کا آلہ ہے۔ گوندھے ہوئے آٹے میدہ وغیرہ کو گول یا چکور سائز میں پھیلانے کے لیے عام طور پر لکڑی کا ایک گول لمبا بیلن نما آلہ ہوتا ہے جس کے دونوں گول سرے پتلے ہوتے ہیں اور بیچ میں قدرے موٹا ہوتا اسے بیلن کہا جاتا ہے۔

بیلن صدیوں سے گھروں میں استعمال ہوتا آرہا ہے۔ باورچی خانے میں استعمال ہونے والی بہت سی چیزیں متروک ہو گئی ہیں مگر چکلا بیلن کا متبادل اب تک تلاش نہیں کیا جاسکا۔روٹیاں پکانے والی مشین اگرچہ ایجاد ہوچکی ہے مگر گھریلو سطح پر اس کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ چناں چہ آج بھی چکلا بیلن کی اہمیت اسی طرح برقرار ہے۔ ایک زمانے میں صرف لکڑی کے چکلابیلن استعمال ہوتے تھے، پھر سنگ مرمر کے باورچی خانوں میں نظر آنے لگے۔ اس مفید آلے میں تازہ اختراع اس کی سطح پر اْبھارے گئے نقش و نگار ہیں۔ روایتی سادہ بیلن سے پیڑے کو بیل کر روٹی کی شکل دی جاتی ہے۔لیکن اگر آپ دیدہ ذیب بسکٹ، پوریاں، کچوریاں بنانا چاہیں تو پھر یہ بیلن لے آئیے جس پر مختلف نقش و نگار کْھدے ہوتے ہیں۔ ان میں پْھول پتیاں، مختلف جانوروں اور مربع، مثلث، تکون وغیرہ کے نقش و نگار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فرمائشی بیلن بھی بنوائے جاسکتے ہیں جن پر حسب منشا تصویر، نقش و نگار یا نام کھدوایا جاسکتا ہے۔ انھیں استعمال اس طرح کیا جاتا ہے کہ پہلے عام بیلن سے پیڑے کو ہموار کر لیا جاتا ہے اور پھر اس کے اوپر ایک بار یہ بیلن پھیردیا جاتا ہے۔

استعمال[ترمیم]

بیلن عام طور پر روٹی، پراٹھے، پوری اور پیڑے وغیرہ بیلنے کے کام آتا ہے اس لیے کہ یہ باورچی خانہ کی زینت ہے۔

بیلن کی بناوٹ[ترمیم]

عام طور پر بیلن لکڑی کا ہوتا ہے لیکن دور جدید میں یہ پتھر کا بھی بننے لگا ہے۔ یہ گول اور لمبے (بیلن نما) ہوتا ہے۔

برصغیر میں اردو زبان میں اسے بیلن اور بیلنا کہا جاتا ہے۔

بنا بیلن کے روٹی گول نہیں بیلی جا سکتی ہے ۔[1]

بیلن کی اہمیت و افادیت[ترمیم]

بیلن قدیم زمانہ سے روٹی پکانے کا ایک ایسا آلہ ہے جو باورچی خانہ کی سب سے اہم اور ضروری اشیاء میں شمار ہوتا ہے دور جدید کی سائنسی ایجادات نے جہاں بہت سی چیزوں سے انسان کو بے نیاز کر دیا وہیں باورچی خانہ میں بھی بہت سی تبدیلیاں کی ہیں لیکن اس کے باوجود ابھی تک بیلن کا بہتر بدل نہیں تلاشا جا سکا ہے حالانکہ آٹا گوندھنے سے لیکر روٹی بیلنے اور پکانے تک کی مشینیں مارکٹ میں دستیاب ہو گئیں ہیں لیکن پھر بھی باورچی خانہ کی اس اہم آلہ کو باورچی خانہ سے بے دخل نہیں کیا جا سکا ہے

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Heloise's Kitchen Hints by Heloise, Prentice-Hall, 1963