بیلی للیتا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بیلی للیتا
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 29 اپریل 1974  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 26 مئی 1999 (25 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات قتل  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ گلو کارہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

بیلی للیتا (ولادت: 26 اپریل 1974ء - وفات: 26 مئی 1999ء) ہندوستانی لوک گلوکار اور تلنگانہ کلا سمیتی کی بانی تھیں جن کو 1999ء میں قتل کیا گیا تھا۔

زندگی[ترمیم]

بیلی للیتا تیلگو بولنے والے کروما خاندان میں نلگنڈہ ضلع کے آتماکر منڈالی کے نانچارپٹ میں پیدا ہوئی تھی۔ ان کا ایک بھائی، بیلی کرشنا، جو کارکن اور سرکاری ملازم تھے اور 5 بہنیں تھیں۔ بیلی للیتا 1990ء کی دہائی کے اواخر میں شہری آزادیوں کی تحریک میں سرگرم عمل تھیں اور تلنگانہ خطے میں ریاست کے لئے سرگرم کارکن تھیں۔ ان کے والد اوگگو کتھا گلوکار اور مزدور تھے۔ وہ تلنگانہ ریاست کے مقصد کے لئے لڑ رہی تھی اور دیہی علاقوں میں بے حد مقبول تھی۔ انہیں مارا جانے سے پہلے 1999ء کے انتخابات میں بھونگیر حلقہ سے سماج وادی پارٹی کی طرف سے ایک نشست کی پیش کش کی گئی تھی۔

وفات[ترمیم]

1999ء میں، انہیں اغوا کیا گیا، ان پر حملہ کیا گیا، اور کلہاڑی سے اسے ہیک کیا گیا جس کے بعد اس کے جسم کے اعضاء کو 17 ٹکڑے ٹکڑے کردیئے گئے تھے۔ [1] حملہ آوروں نے ان کے ٹکڑے کئے ہوئے جسم کے حصوں کو پھر چوٹھوپول پولیس اسٹیشن کے سامنے پھینک دیا۔ ابتدائی طور پر، اس وقت کے ٹی ڈی پی حکومت کے وزیر داخلہ ایلیمینیٹی مادھاوا ریڈی کو قتل میں ملوث کیا گیا تھا لیکن بعد میں انھیں چھوڈ دیا گیا تھا۔ مزید شواہد کے بعد مقامی نکسلی گاڈ فادر محمد نعیم الدین کی طرف اشارہ کیا۔[2][3][4] اس کے تین بھائی بھی مارے گئے، باقی بھائی کرشنا 2000ء سے 2017ء تک چھپے ہوئے تھے۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Face To Face With Belli Lalitha’s Sister آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ m.ap7am.com [Error: unknown archive URL] - AP7AM.com Reporting
  2. "From Maoist to police informer to gangster: The rise and fall of Nayeem". Hindustan Times. 15 August 2016. اخذ شدہ بتاریخ 30 جون 2020. 
  3. "Brutality involved in Sambasivudu murder indicates Nayeem's role". The Hindu. 29 March 2011. اخذ شدہ بتاریخ 30 جون 2020. 
  4. "From Revolutionary To Underworld Don - The Journey Of A Gangster". Sakshi. 9 August 2016. 16 فروری 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  5. "Nayeem victim's brother returns after 17-yr exile". The Times of India. اخذ شدہ بتاریخ 30 جون 2020. 

کتابیات[ترمیم]