بیکل اتساہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بیکل اتساہی
Image illustrative de l'article بیکل اتساہی
بیکل اتساہی 2013ء میں

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1928  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بلرام پور   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 3 دسمبر 2016 (87–88 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
نئی دہلی   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
رہائش نئی دہلی، بلرامپور
قومیت بھارت
شریک حیات بیگم صغرٰی روز
عملی زندگی
پیشہ شاعر، مصنف، سیاست دان
تنظیم انڈین نیشنل کانگریس
ویب سائٹ
ویب سائٹ http://bekalutsahi.webs.com

محمد شفیع خاں بیکل اتساہی اردو ہندی کے مشہور شاعر تھے۔آپ کی پیدائش 1 جون1928ء کو گور ،رمواں پور چوکی سری دت گنج ،تھانہ کوتوالی اترولہ ضلع بلرامپور میں ہوئی تھی۔آپ کے والد کا نام محمد جعفر خاں تھا۔بیکل اتساہی ایک شاعر، مصنف اور سیاست دان تھے۔ وہ ایک کانگریسی تھے جو اندرا گاندھی سے قریبی روابط رکھتے تھے اور بھارت کے پارلیمان کے ایوان بالا راجیہ سبھا کے رکن بھی رہے تھے۔ وہ کئی قومی انعامات حاصل کر چکے تھے، جن میں پدم شری اعزاز اور یش بھارتی شامل ہیں۔ وہ اردو، ہندی اور اودھی میں شاعری کے لیے شہرت رکھتے تھے۔ ان کے کلام میں کہیں حمد و نعت کو نمایاں مقام حاصل ہے تو کہیں ہندی لب و لہجے کا چلن زیادہ ہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

بیکل اتساہی راجیہ سبھا کے سابقہ رکن رہے تھے۔ وہ 1976ء میں ادب میں پدم شری اعزاز حاصل کیے تھے۔دیوا شریف کے حضرت وارث علی شاہ کے مزار پر زیارت کے دوران 1945ء شاہ حافظ پیارے میاں کا ایک مقولہ ہے: بے دم گیا، بیکل آیا۔ اس واقعے سے متاثر ہو کر محمد شفیع خان لودی[2] نے اپنا نام "بےکل وارثی" رکھا۔ جواہر لعل نہرو کے دور حکومت میں ایک دلچسپ واقعہ رونما ہوا جس کی وجہ سے نام وارثی سے بدل کر اتساہی ہو گیا۔ اس وقت گونڈا میں کانگریس کی ایک انتخابی تقریب ہوئی۔ بے کل وارثی نے نہرو کا خیرمقدم ایک اپنی ایک نظم "کسان بھارت کا" سے کی۔ نہرو اس سے بے متاثر ہوئے اور بولے: "یہ ہمارا اُتساہی شاعر ہے"۔ اس کے بعد سے وہ بالآخر دنیا کے آگے اپنی پہچان بیکل اتساہی سے ہی کرتے رہے۔

ادبی خدمات[ترمیم]

بیکل اتساہی نے اپنے شعری سفر کا آغاز 1944ء میں کیا تھا ۔جبکہ شاعرانہ زندگی کا آغاز بہرائچ[3]میںسید سالار مسعود غازی کی درگاہ کے ایک نعتیہ مشاعرہ سے کیا تھا ۔بیکل اتساہی نے اپنی پہلی غزل اصغر گونڈوی کے ایک مصرع پر کہی تھی جس کا مطلع ’نظاروں کے لئے ویرانہ جب آباد ہوتا ہے ،جنوں میں اشتیاق دیدبے بنیاد ہوتا ہے‘ تھا۔آپ نے اودھی ،اردو،ہندی میں کئی کتابیں لکھی تھی ۔1950ء میں آپ کی پہلی کتاب ’باپو کا سپنا‘ کے نام سے منظر عام پر آئی تھی۔1976ء میں اردو غزل پر مبنی کتاب ’پرویا ‘ کافی مقبول کتاب ہے۔1977ء میں اپنی دھرتی چاند کا درپن ،غزل ساوری،رنگ ہزار خشبو ایک،انجری بھرا جور وغیرہ نظموں کے مجموعہ کافی مقبول ہوئے ۔2005ء میں غزل گنگا، دھرتی صدا سہاگن، غزلوں کا مجموعہ شائع ہوا ۔بیکل اتساہی کا آخری مشاعرہ سرزمین اجمیر میں ہوا جمعتہ علماء ہند کے زیر انتظام ہونے والا عالمی نعتیہ مشاعرہ 2016ء تھا۔

سیاست[ترمیم]

اُتساہی فعال طریقے سے انڈین نیشنل کانگریس سے جڑ گئے اور اندرا گاندھی سے بہت قریب ہوگئے۔ وہ کانگریس کی جانب سے راجیہ سبھا کے رکن نامزد ہوئے، جوکہ بھارتی پارلیمان کا ایوان بالا ہے۔ اس کا سبب قومی یکجہتی کے لیے ان کی خدمات تھیں۔[4] وہ قومی یکجہتی کونسل کے بھی رکن تھے جس کی صدارت بھارت کا وزیر اعظم کرتا ہے۔[5]

انعامات[ترمیم]

اُتساہی کو پدم شری اعزاز 1976ء میں حاصل ہوا۔ انہیں اترپردیش حکومت کی جانب سے یش بھارتی اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Baikal Utsahi, poet, writer and politician, is no more. etemaaddaily.com (3 December 2016)
  2. ہماری زبان،ہفتہ روزہ، انجمن ترقی اردو (ہند)،15 تا 21 دسمبر2016، جلد،75شمارہ47، ص5۔
  3. روزنامہ انقلاب
  4. List of Former Members of Rajya Sabha (Term Wise). Rajya Sabha Secretariat.
  5. Re-constitution of the National Integration Council. Government of India, Ministry of Home Affairs (5 April 2010) . Retrieved on 3 December 2016.
  6. Akhilesh honours 56 achievers with Yash Bharti. Times of India (10 February 2015). Retrieved on 2016-12-03.