بیگماتی زبان
| بیگماتی زبان | |
|---|---|
| خواتین کی بولی | |
| دیس | |
| خطہ | دہلی، لکھنؤ |
| قوم | دہلوی، لکھنوی |
| معدوم | شد |
| اردو حروف تہجی | |
| رموزِ زبان | |
| آیزو 639-3 | – |
بیگماتی زبان اردو کی بولی ہوا کرتی تھی۔[انگ 1] شاہی قلعوں اور محلات میں مقیم بیگمات کے مخصوص لہجے اور منفرد محاوروں پر مبنی طرزِ گفتگو کو بیگماتی زبان کہا جاتا تھا۔ تاہم دہلی میں سیاسی انتشار اور معاشرتی تبدیلیوں کے بعد یہ زبان شاہی حدود سے نکل کر پرانی دہلی کی گلیوں اور بازاروں میں رائج ہو گئی، جہاں اشرافیہ کی خواتین نے بھی اسے اپنے روزمرہ مکالمے کا حصہ بنا لیا۔[1]
بیگماتی اردو لکھنؤ میں بھی بولی جاتی تھی۔ رئیس احمد جعفری لکھتے ہیں: ”لکھنؤ کی بیگماتی زبان اپنی شیرینی اور دل آویزی کے اعتبار سے مشہور ہے، ظاہر ہے کہ یہ زبان جتنی نکھری ہوئی اور ستھری ہوئی قصر شاہی میں نظر آ سکتی ہے اور کہاں نظر آسکتی ہے، واجد علی شاہ کی بیگمات کے خطوط اس اردوئے معلیٰ کا بہترین نمونہ ہیں۔“[2]
تاریخ
[ترمیم]ہندوستانی خواتین ازل سے پردے کی پابندی کو نہایت سخت گیر انداز میں اختیار کیا کرتی تھیں اور یہی پردہ درحقیقت وہ بنیادی محرک تھا جس نے عام اردو اور بیگماتی اردو کے درمیان لسانی تفاوت کو جنم دیا۔ بیگمات کی زبان میں ان کی معاشرتی زندگی کی ترجمانی صاف طور پر عکس انداز ہوتی تھی۔ ابتدائی دور میں وہ زبان کے قواعد و ضوابط سے نابلد تھیں، جس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی حیات ایک محدود ماحول کے دائرۂ احاطہ میں گذر رہی تھی۔ ان کی زبانیں قلعوں اور کوٹھیوں کی چار دیواری سے ماورا نہ ہو پاتی تھیں، لہٰذا ان پر بیرونی دنیا (مردوں کی زبان) کے اثرات مرتب نہ ہو سکے۔ شمالی ہند کے قلعۂ معلیٰ کی بیگمات اپنی دختران پر پردے کے سخت ترین احکامات نافذ کرتی تھیں، حتیٰ کہ انھیں کسی بھی غیر مرد کے سایہ تک سے محفوظ رکھا جاتا تھا۔ چنانچہ شاہی قلعوں، کوٹھیوں اور محلات میں بیگمات کے لیے زنان خانے تعمیر کیے جاتے تھے، جہاں ان کی زندگی کا ہر لمحہ انہی چہار دیواریوں میں بیتتا تھا۔ سماجی رسومات، خواہ شادی بیاہ ہو یا موت و تدفین کا سلسلہ، تمام معاملات اسی حصار کے اندر انجام پاتے تھے۔ کنواری لڑکیوں کو باہر کی بزرگ عورتوں سے بھی پردہ کرایا جاتا تھا، تاکہ ان کے متعلق کوئی نامناسب رائے قائم نہ ہو سکے۔ لہٰذا کہا جاتا تھا: ”میکے سے ڈولی آتی اور سسرال سے ڈولا نکلتا تھا۔“ یہی وہ عوامل تھے جن کی بنا پر بیگمات کی روزمرہ زبان اور معیاری اردو کے درمیان لسانی خلیج پیدا ہوئی۔[3]
معدومیت
[ترمیم]سنہ 1976ء میں شائع ہونے والی کتاب ”دلّی کی بیگماتی زبان“ میں مصنف نے اس کی معدومیت کی طرف اشارہ کیا تھا، غالباً اس وقت بھی یہ بولی معدومیت سے دوچار نہ ہوئی تھی، ان کا بیان ہے کہ دہلی کی بیگماتی زبان میں یہ تفریق حالیہ عہد میں تیزی سے مٹ رہی ہے، کیونکہ قلعہ معلیٰ کے اصل باشندے جو اس زبان کے امین تھے، وقت کے ساتھ ہجرت کر گئے، جب کہ دہلی میں دیگر علاقوں کے لوگ آباد ہونے لگے۔ مزید برآں پردے کی رسم بھی بتدریج ختم ہوتی گئی۔ ان تمام اسباب کے زیرِ اثر دہلی کی بیگماتی زبان میں پنجابی لہجے کی آمیزش بڑھنے لگی۔[3]
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی محققہ ثانیہ کے بقول ”ڈپٹی نذیر اور حالی جیسے مصلحین نے اس زبان کو بد زبانی کہہ کر ختم کروا دیا یا جب سے لڑکیوں نے تعلیم حاصل کرنا شروع کی تب سے اسکولوں میں جو زبانیں بولی جاتی ہیں، اس میں بیگماتی زبان کہیں چُھپ گئی ہے۔ تاہم اس کے باوجود بیگماتی زبان کے اثرات ہماری گفتگو میں آج بھی مل جائے گے۔ کچن اور خواتین سے جڑے جو محاورے ہیں، وہ بیگماتی زبان کے ہی دین ہیں۔“[1]
مصنفین
[ترمیم]ایسے ادیب جنھوں نے بیگماتی زبان کا عملی مظاہرہ کیا، وہ یہ ہیں:
- منشی فیض الدین دہلوی
- ناصر نذیر فراق دہلوی
- رتن ناتھ سرشارؔ لکھنوی
- راشد الخیری (دہلوی)
- انشا اللہ خاں انشاؔ (لکھنوی)
- وزیر حسن دہلوی
- نذیر احمد دہلوی
- خواجہ محمد شفیع دہلوی
- آغا حیدر حسن مرزا (دہلوی)
- محی الدین حسن دہلوی (صاحب دلّی کی بیگماتی زبان)
مزید دیکھیے
[ترمیم]- نیئوبو کوتوبا - جاپانی دربار کی بیگمات کی بول چال کا ایک مخصوص طرز تھا جو مورو ماچی دور (1336ء–1573ء) میں رائج ہوا۔
حوالہ جات
[ترمیم]- اردو
- ^ ا ب سہیل اختر قاسمی (10 نومبر 2024)۔ "دہلی میں بولی جانے والی بیگماتی زبان کیوں ختم ہوئی؟"۔ انڈیپنڈنٹ اردو۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-02-02
- ↑ رئیس احمد جعفری (1957)۔ واجد علی شاہ اور ان کا عہد۔ لکھنؤ: کتاب منزل۔ ص 661
- ^ ا ب محی الدین حسن (1976)۔ "بیگمات کی زبان کا پس منظر"۔ دلّی کی بیگماتی زبان۔ نئی دہلی: نئی آواز جامعہ نگر۔ ص 17–18
- انگریزی
- ↑ Gail Minault (1984). "Begamati Zuban: Women's Language and Culture in Nineteenth-Century Delhi". India International Centre Quarterly (بزبان انگریزی). 11 (2): 168.