بیگم اشرف عباسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بیگم اشرف عباسی
9ویں & 12ویں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان
مدت منصب
3 دسمبر 1988ء – 6 اگست 1990ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png وزیر احمد
محمد نواز کھوکھر Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمد حنیف خان
عبد الفاتح Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
تاریخ وفات 4 اگست 2014  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان پیپلز پارٹی  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد 3
عملی زندگی
مادر علمی ڈاؤ میڈیکل کالج
ڈی جے سائنس کالج  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

بیگم اشرف عباسی ایک پاکستانی سیاست دان اور پاکستان کی قومی اسمبلی کی پہلی خاتون ڈپٹی اسپیکر تھیں۔[1] وہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور اس کے قائدین ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی قریبی حامی تھیں۔ وہ 1962ء سے لے کر 1965ء تک مغربی پاکستان اسمبلی کی رکن بھی رہی۔ وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئیں اور 1970ء میں اپنے حلقے سے جیت گئیں۔[2][3]

ذاتی زندگی[ترمیم]

عباسی نے اپنی ثانوی تعلیم 1940ء میں ڈی جے کالج سندھ سے حاصل کی۔ اس نے دہلی کے لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج میں بھی تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ عباسی نے لاڑکانہ میں اپنا کلینک کھولا۔ انہوں نے سول اسپتال لاڑکانہ میں بھی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے تعلیم کے فروغ میں حصہ لیا۔ وہ 4 اگست 2014ء کو لاڑکانہ کے گاؤں ولید میں انتقال کر گئیں۔ وہ صفدر علی عباسی سمیت تین بیٹوں کی ماں تھیں، جو پیپلز پارٹی کے سینیٹر، منور علی عباسی اور اختر علی عباسی بھی شامل ہیں۔

سیاست[ترمیم]

عباسی 1962ء سے 1965ء تک مغربی پاکستان اسمبلی کی رکن رئیں۔ بعد میں، انھوں نے 1970ء میں قومی اسمبلی کی نشست جیت کر، پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اور ڈپٹی اسپکیر بنیں، وہ قومی اسمبلی کی پہلی خاتون ڈپٹی اسپیکر تھیں، جس کے بعد انھوں نے 1973ء سے 1977ء تک اور پھر 1988ء سے 1990ء تک خدمات انجام دیں۔[1] انہوں نے لاڑکانہ کیمپس، شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی کی چیئرپرسن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں، اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد، اور جامعہ سندھ، جامشورو کے سنڈیکیٹس کی رکن تھیں۔ وہ آئینی کمیٹی کی رکن بھی تھیں۔ انھوں نے غریب خواتین کی مدد کے لئے 1996ء میں مدرز ٹرسٹ قائم کیا۔ عباسی نے اس کی اپنی آب بیتی لکھی جس کا عنوان جائیکی ہالان ہائکلیون تھا ("وہ خواتین جو تنہا چلتی ہیں")۔[2][3]

تصنیف[ترمیم]

  • جائکی ہالان ہائکلین ("وہ خواتین جو تنہا چلتی ہیں") اس کا اردو ترجمہ اوراق زندگی کے نام سے ہوا ہے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب "Former deputy speaker NA passes away in Larkana". Daily The News.com.pk. 4 اگست 2014. 5 اگست 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 18 ستمبر 2015. 
  2. ^ ا ب پ "Begum Ashraf Abbasi passes away". Daily Dawn.com. 4 اگست 2014. اخذ شدہ بتاریخ 18 ستمبر 2015. 
  3. ^ ا ب "Transitions: Begum Ashraf Abbasi laid to rest". Daily Tribune.com.pk. 5 اگست 2014. اخذ شدہ بتاریخ 18 ستمبر 2015. 

بیرونی روابط[ترمیم]