بیگم خورشید مرزا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بیگم خورشید مرزا
معلومات شخصیت
پیدائش 4 مارچ 1916  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
علی گڑھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 8 فروری 1989 (73 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ اداکارہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات

بیگم خورشید مرزا (پیدائش: 4 مارچ 1916ء — وفات: 8 فروری 1989ء) تقسیم ہند سے قبل فلمی ہیروئن اور ایک مشہور پاکستانی اداکارہ تھیں۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

بیگم خورشید 4 مارچ 1916ء کو علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا اصل نام خورشید جہاں تھا۔ خاندان علی گڑھ کے ممتاز گھرانوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ بیگم کے والد شیخ عبد اللہ نے علی گڑھ میں مسلم گرلز کالج کی بنیاد رکھی تھی جبکہ بیگم کی بڑی بہن ڈاکٹر رشید جہاں انجمن ترقی پسند مصنفین کے بانی شرکاء میں سے تھیں۔ دیگر دوسری بہنیں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں۔

ازدواجی زندگی اور فلمی سفر[ترمیم]

1934ء میں 17 سال کی عمر میں بیگم خورشید کی شادی دہلی کےایک پولیس آفیسر اکبر حسین مرزا سے ہوئی۔ بیگم کے بھائی محسن عبد اللہ بمبئی میں فلمی ادارے بمبئی ٹاکیز سے وابستہ تھے جہاں بیگم کی ملاقات اُن کے بھائی کے توسط سے دیویکا رانی اور ہمانشو رائے سے ہوئی جنہوں نے بیگم کو اپنی فلموں میں کام کرنے کی دعوت دی۔ 1937ء میں جیون پربھات، 1938ء میں بھابھی، 1939ء میں بھکتی، بڑی دِیدِی، 1941ء میں نیا سنسار میں کام کیا۔ اِن تمام فلموں میں اُن کا رینوکا دِیوی تھا۔

لاہور میں فلمی سفر[ترمیم]

بمبئی میں اُن کی آخری فلم نیا سنسار تھی جو 1941ء میں بنی تھی۔فروری 1944ء میں اُنہوں نے ہندوستانی فلم انڈسٹری سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ 1942ء میں بیگم خورشید نے بمبئی کو خیرباد کہا اور لاہور آگئیں۔ لاہور میں اُنہوں نے بطور صفِ اول کی اداکارہ فلم سہارا (1943ء) ، غلامی (1945ء)، سمراٹ چندرگپت (1945ء) میں کام کیا۔اِن تمام فلموں میں وہ اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری کے جوہر بھی دکھاتی رہیں۔

تقسیم ہند[ترمیم]

بیگم خورشید تقسیم ہند 1947ء کے بعد پاکستان آگئیں اور یہاں ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوگئیں۔ 1964ء میں پاکستان ٹیلی ویژن کے قیام کے بعد حسینہ معین کے لکھے ہوئے ایک ڈراما کرن کہانی کے لیے بیگم خورشید کو منتخب کر لیا گیا اور اِس طرح وہ دوبارہ منظرعام پر آگئیں۔بعد ازاں حسینہ معین کے لکھے ہوئے ایک دوسرے ڈراما زیر زبر پیش میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اِس طرح 1970ء میں وہ اپنے شو بز دور کے عروج پر پہنچ گئیں۔ 1972ء میں ایک نئے ڈراما انکل عرفیمیں اداکاری کی اور بعد ازاں فاطمہ ثریا بجیا کے لکھے ہوئے ڈراما ماسی شربتے میں اداکاری کی۔ 1985ء میں اُنہوں نے اداکاری کو خیرباد کہہ دیا اور شو بز کی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ وہ کراچی چھوڑ کر لاہور منتقل ہوگئیں جہاں وہ اپنی بیٹیوں اور اُن کے اولاد کے ساتھ مقیم رہیں۔

ادب[ترمیم]

1982ء میں بیگم خورشید نے اپنی خودنوشت سوانح حیات تحریر کی جس میں اُنہوں نے برطانوی راج کے دوران لکھنؤ میں اپنی تعلیمی زندگی، ازدواجی زندگی، بھارتی فلم انڈسٹری میں بطور اداکارہ، تقسیم ہند کے دوران پاکستان ہجرت اور ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن سے وابستگی کے واقعات کو بیان کیا ہے۔یہ خودنواشت سوانح ماہنامہ ہیرلڈ میں اگست 1982ء سے اپریل 1983ء تک قسط وار شائع ہوتی رہی۔ کل اقساط کی تعداد 9 تھی۔ 2005ء میں اِن اقساط کا مجموعہ ان کی صاحبزادی لبنیٰ کاظم نے ترتیب دیا جو A woman of substance: the memoirs of Begum Khurshid Mirza کے نام سے شائع کیا گیا۔

سماجی خدمات[ترمیم]

تقسیم ہند 1947ء کے بعد پاکستان آمد کے بعد بیگم خورشید آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن کے لیے بطور سماجی کارکن کام کرتی رہیں۔ جب اُن کے شوہر اکبر حسین مرزا کوئٹہ تعینات ہوئے تو بیگم خورشید کوئٹہ میں آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن کی سماجی کارکن کے تحت غریب و پسماندہ علاقوں کے لیے کام کرتی رہیں اور وہاں باقاعدہ ایک مرکز اسماعیل خیلی کے نام سے قائم کیا۔ ریڈیو پاکستان سے وہ خواتین کے مسائل پر پروگرام بھی کرتی رہیں۔

تمغائے حسن کارکردگی[ترمیم]

1984ء میں اُن کی خدمات کے پیش نظر حکومت پاکستان کی جانب سے اُنہیں تمغائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

وفات[ترمیم]

بیگم خورشید کا انتقال 71 سال کی عمر میں 8 فروری 1989ء کو لاہور میں ہوا۔ تدفین میاں میر قبرستان، لاہور میں کی گئی۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. او ایل آئی ڈی: https://openlibrary.org/works/OL1403816A — بنام: Begum Khurshid Mirza — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — مصنف: آرون سوارٹز — اجازت نامہ: GNU Affero General Public License, version 3.0
  2. ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/1587438 — بنام: Begum Khurshid Mirza — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ، وفیات ناموران پاکستان، لاہور، اردو سائنس بورڈ، لاہور، 2006ء، ص 296