مندرجات کا رخ کریں

بیگم مفیدہ احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
بیگم مفیدہ احمد
معلومات شخصیت
پیدائش نومبر 1921، جورہٹ ٹاؤن، آسام، بھارت
جورحات ، عصام   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 17 جنوری 2008 (عمر 88)، جورہٹ، آسام، بھارت
قومیت بھارتی
جماعت انڈین نیشنل کانگریس   ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات احسن الدین احمد (شادی: 11 دسمبر 1940)
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ہندی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

بیگم مفیدہ احمد (نومبر 1921 – 17 جنوری 2008) ایک بھارتی سیاست دان تھیں جنھوں نے آسام سے پہلے مسلم خاتون ایم پی کے طور پر ایک اعزازی مقام حاصل کیا۔ وہ جمہوری بھارت میں مسلم خواتین میں سے چند پہلی ارکانِ پارلیمنٹ میں شامل تھیں۔ [1]

آغازِ حیات

[ترمیم]

بیگم مفیدہ احمد نومبر 1921 میں جورہٹ ٹاؤن، آسام میں محمد بروہ علی کے گھر پیدا ہوئیں۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم نجی طور پر حاصل کی۔ بعد میں انھوں نے مقامی جرائد میں ’’بِسوادِیپ-بابوجی‘‘ اور ’’بھارتار-نہرو‘‘ جیسے مضامین لکھے۔ [1]

سیاسی اور سماجی خدمات

[ترمیم]

انھوں نے مختلف سماجی و سیاسی عہدوں پر خدمات انجام دیں:

  • نیشنل سیونگز اسکیم میں رضاکارانہ بنیاد پر کام (14 جولائی 1955 تا 19 جنوری 1957)
  • ریڈ کراس سوسائٹی، جورہٹ میں جوائنٹ سکریٹری (1946–1949)
  • کانگریس کی خواتین ونگ، گوالگاہٹ میں کنوینر (1953–1956)
  • تیز پور ڈسٹرکٹ مہیلا سمیتی میں اسسٹنٹ سکریٹری (اکتوبر 1951 تا جنوری 1953) [1]

پارلیمانی کیریئر

[ترمیم]

بیگم موفیدہ احمد کو 1957 میں آسام کے جورہٹ انتخابی حلقے سے لوک سبھا کے لیے منتخب کیا گیا۔ انھوں نے 80,028 ووٹ حاصل کیے اور سی پی آئی کے سید عبد المالک کو شکست دی [1] سینٹی نیل آسام کا مضمون بھی بیان کرتا ہے کہ وہ 1952 میں جورہٹ حلقے سے پہلی مسلم خاتون ایم پی بنی تھیں، حالانکہ ویکیپیڈیا اور دیگر ذرائع 1957 کو ان کی انتخابی کامیابی کی تاریخ بتاتے ہیں [1]

نمایاں اقدامات و خدمات

[ترمیم]

پارلیمنٹ میں خدمات انجام دینے کے دوران، انھوں نے متعدد اہم سوالات اٹھائے:

  • بین الاقوامی اور ریاستی سطح کے معاملات جیسے کانگو میں بھارتی سفارتکارہ پر حملہ، کشمیر اور تبت میں گرفتاریوں، پاکستان کی مبینہ ’’جہاد‘‘ مہم اور غیر قانونی پاکستانی آمدِ آسام۔
  • سڑک، ڈاک، ریلوے تنصیبات، اقتصادی مسائل: ایس بھوشات برج، انڈسٹریل ترقی، شمالی آندامان کی وسائل، اسام کی چائے صنعت، تیل و کیروسین کی قیمتیں، 1961 میں ناگا حملہ؛
  • سیلیگڑی ریل حادثے (11 اگست 1961) اور بمبئی میں ڈاکس پر آگ (8 اگست 1961) تحقیق کی قیادت [1]

انھوں نے پانچ سالہ مدت میں حوداً 650 پارلیمانی سوالات اٹھائے اور متعدد مشاورتی بورڈز اور کمیٹیوں کی رکن بھی رہیں، جیسے ڈائریکٹ ٹیکس ایڈوائزری کمیٹی، مرکزی وقف بورڈ، نیشنل سیونگز ایڈوائزری بورڈ، وغیرہ [1]

ذاتی زندگی

[ترمیم]

انھوں نے 11 دسمبر 1940 کو احسن الدین احمد سے شادی کی۔ انھیں پڑھنے، بننے، سلائی اور باغبانی کا شوق تھا۔ انھوں نے 17 جنوری 2008 کو جورہٹ میں عمر رسیدگی کے باعث وفات پائی [1]

بعد از سیاست

[ترمیم]

1971 میں انھیں انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے بعد انھوں نے عوامی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کی۔ انھوں نے حج کی سعادت بھی حاصل کی اور بعد میں اپنی تمام جائداد اسام فلاح سوسائٹی کو عطیہ کردی، جو خواتین کی تعلیم کو فروغ دینے پر مرکوز تھی ہے۔ [1]

ورثہ

[ترمیم]

ان کی سیاسی خدمات اور سماجی خدمات کو بعد میں لاحق کم توجہ نے ان کے نام کو عوامی یادداشت میں کمزور کر دیا۔ تاہم، وہ آسام اور بھارت میں مسلم خواتین کے نمائندے کے طور پر ایک علامتی مقام رکھتی ہیں۔ [1]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ Dharmakanta Kumbhakar (12 Dec 2018). "Muslim women in Assam politics". The Sentinel Assam (بزبان انگریزی). Sentinel Digital Desk. Retrieved 2025-08-19. The first Muslim woman MP from Assam in the Lok Sabha was Begum Mofida Ahmed in 1952 from Jorhat Parliamentary Constituency.

مزید پڑھیے

[ترمیم]

کتابیں

Baruah, Sanjib. In the Name of the Nation: India and Its Northeast. Stanford University Press, 2020.

Baruah, Sanjib. India Against Itself: Assam and the Politics of Nationality. University of Pennsylvania Press, 1999.

Hussain, Monirul. The Assam Movement – Class, Ideology and Movement. Manak Publications, 1993.

Hazarika, Sanjoy. Strangers of the Mist: Tales of War and Peace from India's Northeast. Penguin Books, 1994.

Bhattacharya, Rajeev. ULFA: The Mirage of Dawn. Ananta Publishers, 2011.

Dev, Bimal J. & Lahiri, Dilip K. Assam Muslim Politics & Cohesion. Mittal Publications, 1985.

Talukdar, Mrinal. Secret Killings of Assam. Bhasha Publications, 2008.

Kimura, Makiko. The Nellie Massacre of 1983: Agency of Rioters. Sage Publications, 2013.

Ghose, Sanjoy. Assam – Diaries and Writings of Sanjoy Ghose. Penguin Books, 1998.

Dutt, Nandana. Questions of Migration in Contemporary Assam: Location, Migration, Hybridity. Sage Publications, 2017.

Borgohain, Homen. Mofida Ahmed: Jibon aru Sangram. (Assamese) Ananya Prakashan, 2010.

Saikia, Nagen. Axomiya Musolman Samaj. (Assamese) Students' Stores, 2005.

مضامین اور تحقیقی مقالے

Baruah, Arupjyoti. "Begum Mofida Ahmed: The Forgotten Assamese Muslim Woman MP". The Print, 2024.

"Muslim women in Assam politics". The Sentinel, 12 December 2018.

"Assam's first woman MP, Begum Mafida Ahmed is dead". TwoCircles.net, 21 January 2008.

"Assam’s first woman MP dead". Hindustan Times, 18 January 2008.

"Assam's first woman MP: Mofida Ahmed". India Today NE, 8 April 2024.

"Exploring by Members Mofida Ahmed". Parliament Digital Library (Lok Sabha archives).

"Contemporary Muslim Girlhoods in India: A Study of Social Justice, Identity and Agency in Assam". ResearchGate.

"Literatures from North East India – Beyond the Centre – Periphery Debate". Economic and Political Weekly, 2008.

Bora, Prafulla. "The Politics of Identity and Social Mobilization in Assam". Journal of Indian History and Culture, 2015.

Goswami, Anupama. "The Role of Women in the Assam Movement". Journal of Northeast Indian Studies, 2012.