بے الف خطبہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بے الف خطبہ علی بن ابی طالب کا وہ خطبہ جس میں عربی حرف الف کا بالکل استعمال نہیں ہوا۔[1].

پس منظر[ترمیم]

بے الف خطبہ ایک ایسا خطبہ جس کے الفاظ میں عربی میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا حرف الف بالکل نہیں ہے۔ یعنی ایسے الفاظ پر مشتمل کلام ہے جو بغیرالف کے ہیں۔ یہ امام کلام، مولا علی کا کمال ہے۔

ایک دن مسجد میں کچھ صحابہ کرام تشریف فرما تھے اور اس بات پر بحث ہو رہی تھی کہ کلام عرب میں کون سا حرف ناگزیر ہے۔ غور کیا گیا تو معلوم ہوا، پہلے حرف تہجی الف (یعنی ا) کے بغیر، عربی میں کلام کرنا ممکن نہیں ہے۔ علی بن ابی طالب بھی موجود تھے۔ اچانک بغیر تامل کیے اٹھے اور فی البدیہہ، حمد الہی پر انوکھا اور فصیح و بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا لوگوں کی عقلیں دنگ رہ گئیں۔ عربی میں ایسے کلام کا نام مونقہ رکھا گیا ہے، جس معنی ہے ایسا اچھا کلام جو خوبصورتی اور بلاغت میں حیران کن ہو۔[2]

خطبہ کا عربی متن[ترمیم]

حَمِدتُ مَن عَظُمَت مِنَّتُهُ، وَ سَبَغَت نِعمَتُهُ، وَ سَبَقَت رَحمَتُهُ، وَ تَمَّت کَلِمَتُهُ، وَ نَفَذَت مَشیَّتُهُ، وَ بَلَغَت حُجَّتُهُ، و عَدَلَت قَضیَّتُهُ، وَ حَمِدتُ حَمَدَ مُقِرٍّ بِرُبوبیَّتِهِ، مُتَخَضِّعٍ لِعُبودیَّتِهِ، مُتَنَصِّلٍ مِن خَطیئتِهِ، مُعتَرِفٍ بِتَوحیَدِهِ، مُستَعیذٍ مِن وَعیدِهِ، مُؤَمِّلٍ مِن رَبِّهِ مَغفِرَةً تُنجیهِ، یَومَ یُشغَلُ عَن فَصیلَتِهِ وَ بَنیهِ، وَ نَستَعینُهُ، وَ نَستَرشِدُهُ، وَ نُؤمِنُ بِهِ، وَ نَتَوَکَّلُ عَلَیهِ، وَ شَهِدتُ لَهُ بِضَمیرٍ مُخلِصٍ موقِنٍ، وَ فَرَّدَتُهُ تَفریدَ مُؤمِنٍ مُتقِنٍ، وَ وَحَّدَتُهُ تَوحیدَ عَبدٍ مُذعِنٍ لَیسَ لَهُ شَریکٌ فی مُلکِهِ، وَ لَم یَکُن لَهُ وَلیٌّ فی صُنعِهِ، جَلَّ عَن مُشیرٍ وَ وَزیرٍ، وَ تَنَزَّهَ عَن مِثلٍ وَ نَظیرٍ، عَلِمَ فَسَتَرَ، وَ بَطَنَ فَخَبَرَ، وَ مَلَکَ، فَقَهَرَ، وَعُصیَ فَغَفَرَ، وَ عُبِدَ فَشَکَرَ، وَ حَکَمَ فَعَدَلَ، وَ تَکَرَّمَ وَ تَفَضَّلَ، لَم یَزَل وَ لَم یَزولَ، وَ لیسَ کَمِثلِهِ شَیءٌ، وَهُوَ قَبلَ کُلِّ شَیءٍ وَ بَعدَ کُلِّ شَیءٍ، رَبٌّ مُتَفَرِّدٌ بِعِزَّتِهِ، مَتَمَلِّکٌ بِقُوَّتِهِ، مُتَقَدِّسٌ بِعُلُوِّهِ، مُتَکَبِّرٌ بِسُمُوِّهِ لَیسَ یُدرِکُهُ بَصَرٌ، وَ لَم یُحِط بِهِ نَظَرٌ، قَویٌ، مَنیعٌ، بَصیرٌ، سَمیعٌ، علیٌّ، حَکیمٌ، رَئوفٌ، رَحیمٌ، عَزیزٌ، عَلیمٌ، عَجَزَ فی وَصفِهِ مَن یَصِفُهُ، وَ ضَلَّ فی نَعتِهِ مَن یَعرِفُهُ، قَرُبَ فَبَعُدَ، وَ بَعُدَ فَقَرُبَ، یُجیبُ دَعوَةَ مَن یَدعوهُ، وَ یَرزُقُ عَبدَهُ وَ یَحبوهُ، ذو لُطفٍ خَفیٍّ، وَ بَطشٍ قَویٍّ، وَ رَحمَةٍ موسِعَةٍ، وَ عُقوبَةٍ موجِعَةٍ، رَحمَتُهُ جَنَّةٌ عَریضَةٌ مونِقَةٌ، وَ عُقوبَتُهُ حَجیمٌ مؤصَدَةٌ موبِقَةٌ، وَ شَهِدتُ بِبَعثِ مُحَمَّدٍ عَبدِهِ وَ رَسولِهِ صَفیِّهِ وَ حَبیبِهِ وَ خَلیلِهِ، بَعَثَهُ فی خَیرِ عَصرٍ، وَ حینَ فَترَةٍ، وَ کُفرٍ، رَحمَةً لِعَبیدِهِ، وَ مِنَّةً لِمَزیدِهِ، خَتَمَ بِهِ نُبُوَّتَهُ، وَ قَوّی بِهِ حُجَّتَهُ، فَوَعَظَ، وَ نَصَحَ، وَ بَلَّغَ، وَ کَدَحَ، رَؤفٌ بِکُلِّ مُؤمِنٍ، رَحیمٌ، ولیٌّ، سَخیٌّ، ذَکیٌّ، رَضیٌّ، عَلَیهِ رَحمَةٌ، وَ تَسلیمٌ، وَ بَرَکَةٌ، وَ تَعظیمٌ، وَ تَکریمٌ مِن رَبٍّ غَفورٍ رَحیمٍ، قَریبٍ مُجیبٍ، وَصیَّتُکُم مَعشَرَ مَن حَضَرَنی، بِتَقوی رَبِّکُم، وَ ذَکَّرتُکُم بِسُنَّةِ نَبیِّکُم، فَعَلَیکُم بِرَهبَةٍ تُسَکِّنُ قُلوبَکُم، وَ خَشیَةٍ تَذری دُموعَکُم، وَ تَقیَّةٍ تُنجیکُم یَومَ یُذهِلُکُم، وَ تُبلیکُم یَومَ یَفوزُ فیهِ مَن ثَقُلَ وَزنَ حَسَنَتِهِ، وَ خَفَّ وَزنَ سَیِّئَتِهِ، وَ لتَکُن مَسئَلَتُکُم مَسئَلَةَ ذُلٍّ، وَ خُضوعٍ، وَ شُکرٍ، وَ خُشوعٍ، وَ تَوبَةٍ، وَ نَزوعٍ، وَ نَدَمٍ وَ رُجوعٍ، وَ لیَغتَنِم کُلُّ مُغتَنَمٍ مِنکُم، صِحَّتَهُ قَبلَ سُقمِهِ، وَ شَیبَتَهُ قَبلَ هِرَمِهِ، وَ سِعَتَهُ قَبلَ عَدَمِهِ، وَ خَلوَتَهُ قَبلَ شُغلِهِ، وَ حَضَرَهُ قَبلَ سَفَرِهِ، قَبلَ هُوَ یَکبُرُ، وَ یَهرَمُ، وَیَمرَضُ، وَ یَسقَمُ، وَ یُمِلُّهُ طَبیبُهُ، وَ یُعرِضُ عَنهُ جَیِبُهُ، وَ یَتَغَیَّرَ عَقلُهُ، وَ لیَقطِعُ عُمرُهُ، ثُمَّ قیلَ هُوَ مَوَعوکَ، وَ جِسمُهُ مَنهوکٌ، قَد جَدَّ فی نَزعٍ شَدیدٍ، وَ حَضَرَهُ کُلُّ قریبٍ وَ بَعیدٍ، فَشَخَصَ بِبَصَرِهِ، وَ طَمَحَ بِنَظَرِهِ، وَ رَشَحَ جَبینُهُ، وَ سَکَنَ حَنینُهُ، وَ جُذِبَت نَفسُهُ، وَ نُکِبَت عِرسُهُ، وَ حُفِرَ رَمسُهُ، وَ یُتِمَّ مِنهُ وُلدُهُ، وَ تَفَرَقَ عَنهُ عَدَدُهُ، وَ قُسِّمَ جَمعُهُ، وَ ذَهَبَ بَصَرُهُ وَ سَمعُهُ، وَ کُفِّنَ، وَ مُدِّدَ، وَ وُجِّهَ، وَ جُرِّدَ، وَ غُسِّلَ، وَ عُرِیَ، وَ نُشِفَ، وَ سُجِیَ، وَ بُسِطَ لَهُ، وَ نُشِرَ عَلَیهِ کَفَنُهُ، وَ شُدَّ مِنهُ ذَقَنُهُ، وَ قُمِّصَ، وَ عُمِّمَ، وَ لُفَّ، وَ وُدِعَّ، وَ سُلِّمَ، وَ حُمَلِ فَوقَ سَریرٍ، وَ صُلِّیَ عَلَیهِ بِتَکبیرٍ، وَ نُقِلَ مِن دورٍ مُزَخرَفَةٍ، وَ قُصورٍ مُشَیَّدَةٍ، وَ حَجُرٍ مُنَضَّدَةٍ، فَجُعِلَ فی ضَریحٍ مَلحودَةٍ، ضَیِّقٍ مَرصوصٍ بِلبنٍ، مَنضودٍ، مُسَقَّفٍ بِجُلمودٍ، وَ هیلَ عَلیهِ حَفَرُهُ، وَ حُثِیَ عَلیهِ مَدَرُهُ، فَتَحَقَّقَ حَذَرُهُ، وَ نُسِیَ خَبَرُهُ وَ رَجَعَ عَنهُ وَلیُّهُ، وَ نَدیمُهُ، وَ نَسیبُهُ، وَ حَمیمُهُ، وَ تَبَدَّلَ بِهِ قرینُهُ، وَ حَبیبُهُ، وَ صَفیُّهُ، وَ نَدیمُهُ فَهُوَ حَشوُ قَبرٍ، وَ رَهینُ قَفرٍ، یَسعی فی جِسمِهِ دودُ قَبرِهِ وَ یَسیلُ صَدیدُهُ مِن مِنخَرِهِ، یُسحَقُ ثَوبُهُ وَ لَحمُهُ، وَ یُنشَفُ دَمُهُ، وَ یُدَقُّ عَظمُهُ، حَتّی یَومَ حَشرِهِ، فَیُنشَرُ مِن قَبرِهِ، وَ یُنفَخُ فِی الصّورِ، وَ یُدعی لِحَشرٍ وَ نُشورٍ، فَثَمَّ بُعثِرَت قُبورٌ، وَ حُصِّلَت صُدورٌ، وَ جیء بِکُلِّ نَبیٍّ، وَ صِدّیقٍ، وَ شَهیدٍ، وَ مِنطیقٍ، وَ تَوَلّی لِفَصلِ حُکمِهِ رَبٌّ قدیرٌ، بِعَبیدِهِ خَبیرٌ وَ بَصیرٌ، فَکَم مِن زَفرَةٍ تُضنیهِ، وَ حَسرَةٍ تُنضیهِ، فی مَوقِفٍ مَهولٍ عَظیمٍ، وَ مَشهَدٍ جَلیلٍ جَسیمٍ، بَینَ یَدَی مَلِکٍ کَریمٍ، بِکُلِّ صَغیر َةٍ وَ کَبیرَةٍ عَلیمٍٍ، حینَئِذٍ یُلجِمُهُ عَرَقُهُ، وَ یَحفِزُهُ قَلَقُهُ، عَبرَتُهُ غَیرُ مَرحومَةٍ، وَ صَرخَتُهُ غَیرُ مَسموعَةٍ، وَ حُجَّتُهُ غَیرُ مَقبولَةٍ، وَ تَؤلُ صَحیفَتُهُ، وَ تُبَیَّنُ جَریرَتُهُ، وَ نَطَقَ کُلُّ عُضوٍ مِنهُ بِسوءِ عَمَلِهِ وَ شَهِدَ عَینُهُ بِنَظَرِهِ وَ یَدُهُ بِبَطشِهِ وَ رِجلُهُ بِخَطوِهِ وَ جِلدُهُ بِمَسِّهِ وَ فَرجُهُ بِلَمسِهِ وَ یُهَدِّدَهُ مُنکَرٌ وَ نَکیرٌ وَ کَشَفَ عَنهُ بَصیرٌ فَسُلسِلَ جیدُهُ وَ غُلَّت یَدُهُ وَ سیقَ یُسحَبُ وَحدَهُ فَوَرَدَ جَهَنَّمَ بِکَربٍ شَدیدٍ وَ ظَلَّ یُعَذَّبُ فی جَحیمٍ وَ یُسقی شَربَةٌ مِن حَمیمٍ تَشوی وَجهَهُ وَ تَسلخُ جَلدَهُ یَضرِبُهُ زَبینَتُهُ بِمَقمَعٍ مِن حدیدٍ یَعودُ جِلدُهُ بَعدَ نَضجِهِ بِجلدٍ جدیدٍ یَستَغیثُ فَیُعرِضُ عَنهُ خَزَنَةُ جَهَنَّمُ وَ یَستَصرخُ فَیَلبَثُ حُقبَهُ بِنَدَمٍ نَعوذُ بِرَبٍّ قَدیرٍ مِن شَرِّ کُلِّ مَصیرٍ وَ نَسئَلُهُ عَفوَ مَن رَضیَ عَنهُ وَ مَغفِرَةَ مَن قَبِلَ مِنهُ فَهُوَ وَلیُّ مَسئَلَتی وَ مُنحُجِ طَلِبَتی فَمَن زُحزِحَ عَن تَعذیبِ رَبِّهِ سَکَنَ فی جَنَّتِهِ بِقُربِهِ وَ خُلِّدَ فی قُصورِ مُشَیَّدةٍ وَ مُکِّنَ مِن حورٍ عینٍ وَ حَفَدَةٍ وَ طیفَ عَلَیهِ بِکُئوسٍ وَ سَکَنَ حَظیرَةَ فِردَوسٍ، وَ تَقَلَّبَ فی نَعیمٍ، وَ سُقِیَ مِن تَسنیمٍ وَ شَرِبَ مِن عَینٍ سَلسَبیلٍ، مَمزوجَةٍ بِزَنجَبیلٍ مَختومَةً بِمِسکٍ عَبیرٍ مُستَدیمٍ لِلحُبورٍ مُستَشعِرٍ لِلسّرورِ یَشرَبُ مِن خُمورٍ فی رَوضٍ مُشرِقٍ مُغدِقٍ لَیسَ یَصدَعُ مَن شَرِبَهُ وَ لَیسَ یَنزیفُ هذِهِ مَنزِلَةُ مَن خَشِیَ رَبَّهُ وَ حَذَّر نَفسَهُ وَ تِلکَ عُقوبَةُ مَن عَصی مُنشِئَهُ وَ سَوَّلَت لَهُ نَفسُهُ مَعصیَةَ مُبدیهِ ذلِکَ قَولٌ فَصلٌ وَ حُکمٌ عَدلٌ خَیرُ قَصَصٍ قَصَّ وَ وَعظٍ بِهِ نَصَّ تَنزیلٌ مِن حَکیمٍ حَمیدٍ نَزَلَ بِهِ روحُ قُدُسٍ مُبینٍ عَلی نَبیٍّ مُهتَدٍ مَکینٍ صَلَّت عَلَیهِ رُسُلٌ سَفَرَةٌ مُکَرَّمونَ بَرَرَةٌ عُذتُ بِرَبٍ رَحیمٍ مِن شَرِّ کُلِّ رَجیمٍ فَلیَتَضَرَّع مُتَضَرِّعُکُم وَ لیَبتَهِل مُبتَهِلُکُم فَنَستَغفِرُ رَبَّ کُلِّ مَربوبِ لی وَ لَکُم۔

ترجمہ[ترمیم]

میں حمد کرتا ہوں۔ اس کی حمد جس کا احسان عظیم ہے، اس کی نعمت وسیع و کامل ہے اور اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے اس کی حجت پہنچ چکی ہے اور اس کا فیصلہ عدل پر مبنی ہے۔
اس کی حمد اس طرح کرتا ہوں جس طرح اس کی ربوبیت کا اقرار کرنے والا، اس کی عبودیت میں فروتنی کرنے والا، خطاؤں سے پ رہی ز کرنے والا، اس کی توحید کا اعتراف کرنے والا اور اس کے قہر سے پناہ مانگنے والا کرتا ہے۔
اپنے رب سے مغفرت اور نجات کا امیدوار ہوں، اس روز جب کہ ہر شخص اپنی اولاد اور عزیزوں سے بے پروا ہو گا ہم اسی سے مدد و ہدایت چاہتے ہیں۔ میں اس بندہ خالص کی طرح گواہی دیتا ہوں جو اس کے وجود پر یقین رکھتا ہو، اس کے حاکمیت میں کوئی بھی اس کا شریک اور اس کی کائنات میں کوئی اس کا ولی یا حصہ دار نہیں، اس کی شان اس سے ارفع و اعلی ہے کہ اس کا کوئی مشیر، وزیر، مددگار، معین یا نظیر ہو۔
وہ سب کا حال جانتا ہے اور عیب پوشی کرتا ہے۔ وہ باطن کی حالت سے واقف ہے۔ اس کی بادشاہت سب پر غالب ہے۔ اگر گناہ کیا جائے تو وہ معاف کر دیتا ہے اور عدل کے ساتھ حکم دیتا ہے۔ وہ فضل و کرم کرتا ہے۔ نہ اس کو کبھی زوال آیا ہے نہ آئے گا اور کوئی اس کی مثل نہیں۔ وہ ہر چیز سے پہلے بھی پرودگار ہے۔ وہ اپنی ہی عزت و بزرگی سے ہی ہر چیز پر غالب ہے۔ اور اپنی قوت سے ہی ہر شے پر قادر ہے۔ اپنے عالی مرتبہ سے ہی مقدس ہے۔ اپنی رفعت کی وجہ اس میں کبریائی ہے۔ نہ کوئی آنکھ اس کو دیکھ سکتی ہے نہ کوئی نظر اس کا احاطہ کر سکتی ہے۔ وہ قوی، برتر، بصیر، ہر بات کا سننے والا اور مہربان و رحیم ہے۔ جس نے بھی اس کا وصف کرنا چاہا وہ عاجز رہا (وصف نہ کر پایا)۔ جس نے (اپنے فہم میں) اس کو پہچانا، اس نے خطا کی۔ وہ باوجود نزدیک ہونے کے بعید ہے۔ اور دور ہونے کے باوجود قریب ہے۔ جو اس سے دعا مانگتا ہے وہ قبول کرلپتا ہے۔ اور روزی دیتا ہے اور محبت کرتا ہے، وہ صاحب لطف خفی ہے۔ اس کی گرفت قوی ہے۔ اور عنایت بہت بڑی ہے اس کی رحمت وسیع ہے۔ اس کا عذاب دردناک ہے۔ اس کی رحمت جنت ہے جو وسیع اور حیرت انگیز ہے۔ اس کا عذاب دوزخ ہے جو مہلک اور پھیلی ہوئی ہے۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے رسول، بندے، صفی،(چنے ہوئے) نبی، محبوب، دوست اور برگزیدہ ہیں۔ ان کو ایسے وقت مبعوث بہ رسالت کیا جب زمانہ نبی سے خالی تھا اور کفر کا دور دورہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بندوں پر رحمت ہیں۔ مزید برآں اپنی نبوت کو ان پر ختم اور اپنی حجت کو مضبوط کر دیا۔ پس انہوں نے وعظ فرمایا۔ اور نصیحت کی۔ اور حکم خدا بندوں تک پہنچایا۔ اور ہر طرح کی کوشش کی۔ وہ ہر مومن پر مہربان ہیں۔ وہ رحیم، سخی اور اللہ کے پسندیدہ اور پاکیزہ ولی ہیں۔ ان پر خدا کی جانب سے رحمت و سلام، برکت وعظمت اور اکرام ہو۔ جو بخشنے والا، قریب اور دعا قبول کرنے والا ہے۔
اے حاضرین مجلس میں تمہیں تمہارے پروردگار کا حکم سناتا ہوں جو مجھے پہونچا ہے اور وصیت کرتا ہوں اورتمہیں تمہارے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت یاد دلاتا ہوں- تمہیں چاہئیے کہ خدا سے ایسا ڈرو کہ آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں اور ایسی پ رہی زگاری اختیار کرو کہ جو تم کو نجات دلائے۔ قبل اس کے آزمائش کا دن آ جائے اور تم پریشانی میں گم ہو جاؤ۔ اس روز وہی شخص رستگار ہو گا جس کے ثواب کا پلڑا بھاری اور گناہوں کا پلڑا ہلکا ہوگا۔ تم کو چاہئیے کہ جب بھی اس سے دعا کرو تو بہت ہی عاجزی اور گڑگڑا کے، توبہ اور خوشامد اور ذلت کے ساتھ دعا کرو اور دل سے گناہ کرنے کا خیال دور کر کے، ندامت کے ساتھ خدا کی طرف رجوع کرو۔
تم کو چاہئیے کہ بیماری سے قبل صحت کو اور بڑھاپے سے پہلے جوانی کو، فقر سے پہلے فراغ بالی کو اور سفر سے پہلے حضر کو اور کام میں مشغول ہونے سے پہلے فراغت کو، غنیمت جانو ایسا نہ ہو کہ پیری آ جائے اور تم سب کی نظروں میں ذلیل و خوار ہو جاؤ یا مرض حاوی ہو جائے اور طبیب رنج میں مبتلا کر دے اور احباب منہ پھیر لیں عمر کٹ چکی ہو اور عقل میں فتور آ جآئے۔
تب کہا جاتا ہے کہ بخار کی شدت سے حالت خراب ہو گئی ہے اور جسم لاغر ہو چکا ہے اور پھر جان کنی کی سختی ہوتی ہے اور قریب و بعید سے ہر کوئی اس کے ہاں آتا ہے اور اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں، پتلیاں پھر جاتی ہیں، پیشانی پر پسینہ آتا ہے۔ ناک ٹیڑھی ہو جاتی ہے اور روح قبض ہو جاتی ہے، اس کی بیوی رونے پیٹنے لگتی ہے۔ قبر کھود لی جاتی ہے اور اس کے بچے یتیم ہو چکے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کی نفری (یعنی ساتھی) متفرق ہو جاتی ہے۔ اعضاء شکستہ ہو جاتے ہیں اور بینائی و سماعت چلی جاتی ہے۔ پھر اس کو سیدھا لٹا دیتے ہیں اور لباس اتار کر غسل دیا جاتا ہے اور کپڑے سے جسم پونچھتے ہیں اور خشک کر کے اس پر چادر ڈال دی جاتی ہے اور ایک بچھا دی جاتی ہے اور کفن کیا جاتا ہے اور (سر پر) عمامہ باندھ کر چھوڑ دیتے ہیں اور پھر جنازہ اٹھایا جاتا ہے اور بغیر سجدہ و تعفیر کے صرف تکبیر کے ساتھ اس پر نماز پڑھی جاتی ہے۔ آراستہ طلائی تختوں اور مضبوط محلوں کے نفیس فرش والے کمروں سے لا کر اس کو تنگ لحد میں ڈال دیتے ہیں اورتہہ بہ تہ اینٹوں سے قبر بنا کر پتھر سے پاٹ کر اس پر مٹی ڈال دی جاتی ہے اور ڈھیلوں سے پر کر دی جاتی ہے۔ میت پر وحشت چھا جاتی ہے مگر کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ دوست و عزیز اس کو چھوڑ کر پلٹ جاتے ہیں اور سب بدل جاتے ہیں اور مردہ کی قبر پر کیڑے دوڑتے پھرتے ہیں اس کی ناک سے پیپ بہنے لگتی ہے اور اس کا گوشت خاک ہونے لگتا ہے اس کا خون دونوں پہلوؤں میں خشک ہو جاتا ہے اور ہڈیاں بوسیدہ ہو کر خاک ہونے لگتی ہیں۔ وہ روز قیامت تک اسی طرح رہتا ہے یہاں تک کہ خدا پھر اس کو زندہ کر کے قبر سے اٹھاتا ہے۔
جب صور پھونکا جائے گا تو وہ قبر سے اٹھے گا اور میدان حشر و نشر میں بلایا جائے گا اور اس وقت اہل قبور زندہ ہوں گے اور قبر سے نکالے جائیں گے اور ان کے سینہ کے راز ظاہر کیے جائیں گے اور ہر نبی، صدیق و شہید حاضر کیا جائے گا اور فیصلہ کے لیے رب قدیر جو اپنے بندوں کے حالات سے آگاہ ہے، جدا جدا کھڑا کرے گا۔ پھر بہت سی آوازیں اس کو پریشانی میں ڈال دیں گی اور خوف و حسرت سے وہ ناچار ہو جائے گا اور اس بادشاہ عظیم کی بارگاہ میں جو ہر چھوٹے اور بڑے گناہ کو جانتا ہے ڈرتا ہوا جاضر ہو گا اس وقت گناہوں کی شرم سے اس قدر پسینہ بہے گا کہ منہ تک آ جائے گا اور اس کو اس سے قلق ہو گا۔ وہ بہت نالہ و زاری کرے گا مگر کوئی شنوائی نہ ہو گی اور اس کے سارے گناہ ظاہر کر دیے جائیں گے اور اس کا نامہء اعمال پیش کیا جائے گا۔ پس وہ اپنے اعمال بد کو دیکھے گا اور اس کی آنکھیں اس کی بد نظری کی اور ہاتھ، بیجا مارنے کی اور پاؤں، (برے کام کی جانب) جانے کی اور شرم گاہ، بدکاری کی اور جلد، مس کرنے کی گواہی دیں گے۔ پس اس کی گردن میں زنجیر ڈال دی جائے گی اور مشکیں کس دی جائیں گی۔
پھر کھینچ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور وہ روتا پیٹتا داخل جہنم ہو گا۔ جہاں اس پر سخت عذاب کیا جائے گا۔ جہنم کا کھولتا ہوا پانی اس کو پینے کو ملے گا۔ جس سے اس کا منہ جل جائے گا۔ اس کھال نکل جائے گی۔ فرشتے آہنی گرزوں سے اس کو ماریں گے اور کھال اڑ جانے کے بعد نئی کھال پھر پیدا ہوگی وہ بہت کچھ آہ و فریاد کرے گا مگر جہنم کے فرشتے اس کی طرف سے منہ پھیر لیں گے۔ اس طرح ایک مدت دراز تک وہ عذاب میں مبتلا اور نادم رہے گا اور استغاثہ کرتا رہے گا۔
میں پروردگار قدیر سے پناہ مانگتا ہوں کہ وہ مجھے ہر مضر شے کے شر سے محفوظ رکھے اور میں اس سے ایسی معافی کا خواستگار ہوں جیسے اس نے کسی شخص سے راضی ہو کر اس کو عطا کی ہو اور ایسی مغفرت چاہتا ہوں جو اس نے قبول فرمائی ہو۔
پس وہی میری خواہش پوری کرنے والا اور امیدوں کا برلانے والا ہے جو شخص مستحق عذاب نہیں ہے وہ بہشت کے مضبوط محلوں میں ہمیشہ رہے گا اور حورعین اور غلمان (خادم) اس کی ملکیت ہوں گے جام ہائے کوثر سے سیراب ہو گا اور حدود قدس میں مقیم ہو گا۔ نعمت ہائے بہشت میں متصرف رہے گا اور نہر تسنیم کا پانی پئے گا اور چشمہ سلسبیل سے جس میں سونٹھ ملی ہوئی اور مشک و عنبر کی مہر لگی ہوئی ہے سیراب ہو گا اور وہاں کا دائمی مالک ہوگا وہ معطر شراب پئے گا مگر نہ اس سے خمار ہو گا اور نہ حواس میں فتور آئے گا۔ یہ مقام و منزلت اس شخص کی ہے جو خدا سے ڈرتا اور گناہوں سے بچتا ہے اور وہ والا عذاب اس شخص کے لیے ہے جو اپنے خالق کی نافرمانی کرتا اور خواہشات نفسانی سے گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے۔ پس یہی فیصلہ کن بات اور منصفانہ حکم ہے اور بہترین قصہ و نصیحت ہے۔ جس کی صراحت خداوند حکیم و حمید نے اس کتاب میں فرمائی ہے جو روح القدس نے ہدایت یافتہ راست باز پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل فرمائی۔ میں پروردگار علیم و رحیم و کریم سے پناہ مانگتا ہوں کہ وہ مجھ کو ہر لعین و رجیم دشمن کے شر سے بچائے۔ پس اس کی بارگاہ میں عاجزی کرنے والوں کو چاہئیے کہ عاجزی کریں اور دعا کرنے والے دعا کریں اور تم میں سے ہر شخص میرے اور اپنے لیے استغفار کرے۔ میرا پروردگار اکیلا ہی میرے لیے کافی ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بے نقط خطبہ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. محمد بن شہر آشوب مازندرانی، مناقب آل ابی طالب : 2 / 48، طبعۃ مؤسسۃ العلامۃ، قم / ايران، سنہ : 1379 ہجريۃ
  2. ویسے تو اس خطبہ کا تذکرہ ہزاروں نہیں تو سینکڑوں کتب میں موجود ہے چند ایک قدیمی اور اصلی منابع یہ ہیں: 1- المصباح (تقی الدین ابراہیم بن علی بن الحسن بن محمود العاملی الکفعمی 2- مطالب السؤول (محمد بن طلحہ شافعی) 3- شرح نهج البلاغہ (ابن ابی حدید معتزلی) 4- کنز العمّال (متقی بن حسام ہندی) 5- اعلام الدین (حسن بن محمد دیلمی) 6- منہاج البراعہ (میرزا حبیب الله ہاشمی خوئی) 7- کفایة الطالب اور چند کتب جو کسی واسطہ کے ساتھ اس کو نقل کرتی ہیں: 1- بحار الانوار 2- نہج السعادہ (شیخ محمد باقر محمودی) 3- مصباح البلاغہ فی مستدرک نہج البلاغہ (سیّد حسن میرجہانی طباطبائی) اور جن کتب نے اس خطبے کے کچھ حصے نقل کیے ہیں: 1- مناقب آل ابی طالب (ابن شہر آشوب) 2- الصراط المستقیم (علی بن یونس عاملی) 3- نہج الایمان (علی بن یوسف بن جبر) 4- الخرائج و الجرائج (قطب الدین راوندی) 5- مستدرک السّفینة (علی نمازی) 6- الذریعة (شیخ آغا بزرگ تہرانی) نوٹ: - اس خطبہ کے رجال میں ابو الحسن خلال۔ احمد بن محمد بن ثابت بن بندار، جری بن کلب وغیرہ ہیں۔