تاؤ تی چنگ
Ink on silk manuscript of the Tao Te Ching، 2nd century BCE, unearthed from Mawangdui | |
| مصنف | لاؤزی (trad.) |
|---|---|
| اصل عنوان | 道德經 |
| ملک | چین (ژؤ خاندان) |
| زبان | کلاسیکی چینی |
| صنف | فلسفہ |
تاریخ اشاعت | چوتھی صدی قبل مسیح |
تاریخ اشاعت انگریری | 1868 |
| طرز طباعت | کتاب |
| تاؤ تی چنگ[[زمرہ:مضامین جن میں zh زبان کا متن شامل ہے]] بہ چینی ویکی مآخذ | |
| ترجمہ | تاؤ تی چنگ ویکی ماخذ |
تاؤ تی چنگ (راستہ اور اور اس کی طاقت: ارشد مسعود ہاشمی کا ترجمہ ”فضائل ترک عمل“)،[نوٹ 1] Daodejing، Dao De Jing یا Daode jing (آسان چینی: 道德经; روایتی چینی: 道德經; پینین: Dàodéjīng)، جسے صرف لاؤزی (چینی: 老子; پینین: Lǎozǐ)،[1][نوٹ 2] سے منسوب ایک کلاسیکی چینی متن ہے۔ یہ چینی زبان میں فلسفے پر پہلی کتاب ہے، اس کتاب کو مختصر طور پر صرف راستہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں کنفیوشسی اقدار پر تنقید کی گئی ہے۔ کتاب کا ساتواں باب کنفیوشس مت اور تاؤ مت کے مابین اختلافات سے بحث پر مبنی ہے۔ یہ ایک صوفیانہ و فلسفیانہ طرز تحریر میں ہے۔[2]
چھٹی صدی قبل مسیح میں لکھی گئی کتاب تاؤ تے چنگ کنفیوشس کی گلدستہ تحریر کے بعد چینی ادب میں پُر اثر ترین کتاب بن چکی ہے۔ لغوی طور پر عنوان کا مطلب ”قدیم راستہ اور اس کی قوت یا فضیلت“ ہے۔ یہ پانچ ہزار الفاظ سے لکھی گئی چھوٹی سی کتاب ہے جو 81 ابواب پر مشتمل ہے اور عموماً شاعری کی شکل میں ترجمہ کی گئی ہے۔ اس پر کم از کم ایک ہزار تبصرے ہوئے ہیں اور اسے چالیس سے زائد مرتبہ انگریزی میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ درحقیقت انجیل کے سوا یہ دنیا میں کسی بھی دوسری کتاب سے زیادہ ترجمہ کی گئی ہے۔ اس طرح یہ تمام چینی کتابوں میں سب سے زیادہ پہچانی جانے والی کتاب ہے۔
چین سے جانے کی اجازت حاصل کرنے کے انتظار میں چھٹی صدی قبل مسیح میں لاؤتزو نے تاؤ تے چنگ تصنیف کی۔ یہ کچھ عرصے کے لیے محققین کے شبہہ کا موضوع بنا رہا۔ اس بات پر عموماً رضا مندی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ کتاب کئی صدیاں پہلے لکھی گئی اور اس نے بتدریج تقریباً چوتھی صدی قبل مسیح میں موجودہ صورت اختیار کی۔ آرتھر ویلے بیان کرتا ہے کہ یہ کتاب تیسری صدی قبل مسیح میں میں کنفیوشس اور ضابطہ پرستوں کے خلاف حجت کے طور پر لکھی گئی جو جاگیرداری نظام کی مثالی شکل یا کسی مضبوط مرکزی حکومت کے خواہاں تھے۔[3]
اردو میں اس کتاب کا ترجمہ ”فضائل ترک عمل“ کے عنوان سے ارشد مسعود ہاشمی نے کیا ہے۔
ارشد مسعود ہاشمی نے اپنی کتاب ”فضائل ترک عمل“ میں لکھا ہے کہ:
”ڈاؤ حیات و ممات کا ذمہ دار بھی ہے۔ وہ جلاد اعظم ہے، اورتخلیق و تخریب اسی کا شیوہ ہے۔ بایں لحاظ دنیاوی تگ و دو اور اپنی کامرانی کے لیے کشت و خو ن میں ملوث ہونا، کسی کی توقیر کسی کی تذلیل کرنا، کسی کو اہم کسی کو بے وقعت سمجھنا، کسی کو مختار کسی کو مجبور سمجھنا، ترجیحا ت کی بنا پر مداخلتیں کرنا نہ تو ڈاؤ کی فطرت ہے نہ ولی کا شیوہ۔ ہمہ گیر نیکی کے ذریعہ روحانی ترقی ڈاؤ کا وہ کلیہ ہے جس سے یہ درس ملتا ہے کہ عالم حادث، اس میں موجود ذی روح اور اشیا جس صورت میں کہ وہ موجود ہیں، نہ تو بری ہیں، نہ بھلی۔ انسانی فضیلت اگر ڈاؤ سے ہم آہنگ نہ ہو تو ان کا غلط استعمال ہوتا ہے اور اسی وجہ سے کوئی شخص، طبقہ، گروہ، ریاست، کوئی شے یا صور تحال بھلی یا بری بن جاتی ہے۔ حکمراں یا حکمراں طبقہ اگر تلاش حق کا جویا نہ ہوا، ڈاؤ سے واصل نہ ہو سکا تو اس کے ساتھ ہی مکمل ریاست فتنہ و فساد کا گہوارہ بن جائے گی۔ ڈاؤ کے تابعین مسابقہ نہیں کرتے، مقابلہ نہیں کرتے، کوششیں نہیں کرتے، معاملات زندگی کے لیے دل و دماغ (جذبات، استدلال، ترجیحات، پسند و ناپسند، قلب و نفس) کا استعمال نہیں کرتے۔ لاؤ زی متنبہ کرتا ہے کہ کوئی ان اعمال میں ملوث ہوکر کاروبارحیات و گیتی میں مخل ہوا تو اپنے اور دنیا کے لیے تباہی کا موجب ہو گا۔
لاؤ زی نے بار بار اصطلاح ’شِنگ رِن‘ کا استعمال کیا ہے جسے انسان کامل کا مترادف کہا جا سکتا ہے۔ پیش نظر ترجمہ میں اس کے لیے لفظ ولی کا استعمال کیا گیا ہے۔[4] لاؤزی کہتا ہے کہ تعقل پسندی فطرت کی آزادانہ نشو و نما میں رخنے ڈالتی ہے اس لیے انسان کامل وہی ہو سکتا ہے جو استدلال، تامل، تفکر، خرد مندی حجت و تاویل سے دور ہو۔ یہ انسان کی ادنی ترین شناخت ہے کہ وہ اسباب و علل میں ڈوبا رہے۔ اس کی وجہ سے زندگی کا فطری بہاؤ مجروح ہوتا ہے اور خود انسان وجہ اور عقل کے دائرے میں سمٹ کر اپنے نصب العین سے بھٹک جاتا ہے۔ یہیں سے بے مقصد اور بیجاخواہشیں سر ابھارتی ہیں جو اس کی انا کو بالیدہ کرنے لگتی ہیں یہاں تک کہ اس کا مکمل وجود، اس کے سبھی اعمال اس کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔ نتیجتاً وہ سلوک کی راہ سے منحرف ہو جاتا ہے۔ ڈاؤ کا مثالی انسان خود کو فطرت سے ہم آہنگ رکھتا ہے، لہذا، بقول لاؤ زی، تنازعوں، مناظروں، مناقشوں، خصومتوں میں الجھ کر اپنے قول و فعل کو درست ٹھیرانے کے لیے ولی (حکمراں اور اصحاب اقتدار)کبھی مصر نہیں ہوتا۔ وہ چونکہ انسان کامل بن جاتا ہے اس لیے حکمرانی کا حق بھی حاصل کر لیتا ہے۔ “ (ص 87-88)[5]
معلومات
[ترمیم]تاؤ تی چنگ تاؤ مت کے فلسفہ کا ماخذ ہے جو چین میں مقدس ترین مذہبی صحائف میں شمار ہوتی ہے۔ لاؤزی نے منظوم انداز میں اپنے افکار اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ تاؤ تی چنگ بانسوں کی چپٹیوں پر لکھی ہوئی تحریر کی صورت میں پائی گئی تھی اور اس کی تاریخ تصنیف کے بارے میں عمومی رائے یہ ہے کہ چوتھی صدی قبل مسیح میں اسے تصنیف کیا گیا۔ یہ تقریباً پانچ ہزار چینی الفاظ پر مشتمل ہے اور اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں تاؤ اور کردار کی فضیلت جیسے موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔[6]
پہلے بند کا ترجمہ از ارشد مسعود ہاشمی
جو رہین نطق و کلام ہے نہیں وہ سلوک جاوداں
جو سزاوار بیان ہے نہیں وہ ہویت جاوداں
مخرج انفس و آفاق بے نام ہے ازل سے
جو ازل سے نام برد وہ مادر اولی
آشکار ان پہ اسرار حیات جوبیگانۂ دنیا ہوئے
اہل دنیا جو ہوئے وہ مظاہر سے آشنا
اسرارومظاہر کا ایک ہی منبع
گرچہ ان کی پہچان الگ
منبع ان کا تیرہ وتار
سرحقیقت، سر اسرار [7]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]ہاشمی، ارشد مسعود۔ (2021)۔ فضائل ترک عمل (تاؤ تے چنگ کا ترجمہ)۔ نئی دہلی:اپلائڈ بکس۔https://www.academia.edu/45655626/%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%D9%84_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D8%B9%D9%85%D9%84_Fazael_e_Tark_e_Amal_Dao_De_Jing_Tao_Te_Ching_
https://books.google.co.in/books?id=o3etEAAAQBAJ&pg=PA5&lpg=PA5&dq=%D8%A7%D8%B1%D8%B4%D8%AF+%D9%85%D8%B3%D8%B9%D9%88%D8%AF+%DB%81%D8%A7%D8%B4%D9%85%DB%8C+%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8+%D8%AA%D8%B1%DA%A9+%D8%B9%D9%85%D9%84&source=bl&ots=1FOoxoDL6G&sig=ACfU3U3tuojXZkD3jMUSIRqWM-3Qd7NcNQ&hl=en&sa=X&ved=2ahUKEwi2n6-s8NiAAxVQb2wGHUgKDFMQ6AF6BAgZEAM#v=onepage&q=%D8%A7%D8%B1%D8%B4%D8%AF%20%D9%85%D8%B3%D8%B9%D9%88%D8%AF%20%DB%81%D8%A7%D8%B4%D9%85%DB%8C%20%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8%20%D8%AA%D8%B1%DA%A9%20%D8%B9%
- ↑ Arshad M. Hashmi (1 جنوری 2021)۔ "فضائل ترک عمل Fazael e Tark e Amal (Dao De Jing/ Tao Te Ching)"۔ Tao Te Ching
- ↑ Ancient Chinese books were commonly named after their real or supposed author, in this case Laozi meaning "Master Lao"۔
ہاشمی، ارشد مسعود۔ (2021)۔ فضائل ترک عمل (تاؤ تے چنگ کا ترجمہ)۔ نئی دہلی:اپلائڈ بکس۔ https://books.google.co.in/books?id=o3etEAAAQBAJ&pg=PA5&lpg=PA5&dq=%D8%A7%D8%B1%D8%B4%D8%AF+%D9%85%D8%B3%D8%B9%D9%88%D8%AF+%DB%81%D8%A7%D8%B4%D9%85%DB%8C+%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8+%D8%AA%D8%B1%DA%A9+%D8%B9%D9%85%D9%84&source=bl&ots=1FOoxoDL6G&sig=ACfU3U3tuojXZkD3jMUSIRqWM-3Qd7NcNQ&hl=en&sa=X&ved=2ahUKEwi2n6-s8NiAAxVQb2wGHUgKDFMQ6AF6BAgZEAM#v=onepage&q=%D8%A7%D8%B1%D8%B4%D8%AF%20%D9%85%D8%B3%D8%B9%D9%88%D8%AF%20%DB%81%D8%A7%D8%B4%D9%85%DB%8C%20%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8%20%D8%AA%D8%B1%DA%A9%20%D8%B9%
- ↑ "The Tao Teh King, or the Tao and its Characteristics by لاؤزی – Project Gutenberg"۔ Gutenberg.org۔ 1 دسمبر 2007۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-08-13
- ↑ مارٹن سیمورسمتھ، سو عظیم کتابیں، صفحہ 34 تا 39، 2011ء، تخلیقات، لاہور۔
- ↑ Waley, Arthur. The Way and its Power, London, George Allen and Unwin, 1956. page 86
- ↑ Arshad M. Hashmi (1 جنوری 2018)۔ "Dao De Jing"۔ Adab-o-Saqafat, MANUU, Hyderabad
- ↑ Arshad M. Hashmi (1 جنوری 2021)۔ "فضائل ترک عمل Fazael e Tark e Amal (Dao De Jing/ Tao Te Ching)"۔ Tao Te Ching
- ↑ "آرکائیو کاپی"۔ 2023-10-16 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-08-19
- ↑ Arshad M. Hashmi (1 جنوری 2021)۔ "فضائل ترک عمل Fazael e Tark e Amal (Dao De Jing/ Tao Te Ching)"۔ Tao Te Ching
بیرونی روابط
[ترمیم]| ویکی اقتباس میں تاؤ تی چنگ سے متعلق اقتباسات موجود ہیں۔ |
| چینی ویکی ماخذ پر اس مضمون سے متعلق اصل متن موجود ہے: |
- Daode jing entry from the Center for Daoist Studies
- Daodejing Wang Bi edition with English translation، Guodian text، and Mawangdui text – Chinese Text Project
- The Authorship of the Tao Te Chingآرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ idiocentrism.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)، John J. Emerson
- کرلی (ڈی موز پر مبنی) پر Tao Te Ching
- Daode jingآرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ goldenelixir.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) (Isabelle Robinet)، entry in The Encyclopedia of Taoism