تابش کمال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فقیر تابش کمال Tabish Kamal گذشتہ صدی کی آخری دہائی کے اُردو/پنجابی شعراء میں امتیازی طور پر قابلِ ذکر شاعر اور روحانی شخصیت ہیں۔ اُنہوں نے اُردو میں خصوصاً نظم اور پنجابی میں نمایاں طور پر کافی کی تنومند روایت کو جدیدحسیّت سے ہم آہنگ کر کے آگے بڑھایا ہے۔ اُن کی اُردو نظمیں کم و بیش ہر موضوع کو محیط ہیں۔ اس فن میں اُن کا اختصاص وہ مٹھاس ہے جو معدودے چند شعراء ہی کو نصیب ہوتی ہے۔ پنجابی کافی میں تابش کمال نے حیرت انگیز طور پر بابا فریدؒ سے لے کر خواجہ فریدؒ تک ہر بڑے شاعر سے تخلیقی طور پر استفادہ کرتے ہوئے بھی اپنی انفرادیت پر آنچ نہیں آنے دی۔ اُن کی کافیاں سوزوگداز کے علاوہ جدید فکر کا احاطہ بھی کرتی ہیں۔

نام و نسب[ترمیم]

تابش کمال نام ہے والد محترم باغ حسین کمال جو بانی ہیں سلسلہ عالیہ اویسیہ کمالیہ دار الکمال کمال آباد چکوال کے جبکہ تابش کمال اپنے والد کے موجودہ جانشین ہیں۔

ولادت[ترمیم]

تاریخ پیدائش: 15، اپریل 1965ء مقام پیدائش: پنوال چکوال ہے

علمی سفر[ترمیم]

جامعہ پنجاب سے اُردو اور پنجابی ادبیات میں ایم۔اے کی اسناد حاصل کیں حلقہ اربابِ ذوق راولپنڈی اور پاکستان رائٹرز گلڈ پنجاب کے رکن بھی ہیں۔ مختلف جامعات میں آپ کے فن و شخصیت پر ایم ۔ اے ، ایم ۔ فل اور پی ۔ ایچ ۔ ڈی پروگراموں کے تحت تحقیقی کام بھی ہو رہا ہے۔

وجہ تعارف[ترمیم]

"حضرت کمال ثانی" ایک طرف تصوف اور دوسری طرف شاعری، دونوں میدانوں میں آپ کی کامرانی کا ثبوت یہ ہے کہ جہاں پاکستان کے جید اہلِ قلم احمد ندیم قاسمی، افتخار عارف، آفتاب اقبال شمیم، ضیاء جالندھری، شریف کنجاہی،حفیظ تائب، ڈاکٹر خورشید رضوی، عطاء الحق قاسمی، ڈاکٹر انور سدید، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، احسان اکبر، سید منظور الکونین، یونس ادیب، حفیظ الرحمن احسن، علی محمد فرشی، یوسف حسن اور دیگر ممتاز اہل قلم نے آپ کی تخلیقات پر قلم اٹھایا وہاں اہلِ تصوف نے بھی آپ کے روحانی کمالات کو تسلیم کیا۔ تاہم اس سلسلہ میں سب سے مستند حوالہ خود آپ کے شیخِ مکرم حضرت باغ حسین کمالؒ کا ہے جنہوں نے یکم ستمبر ۱۹۹۲ء میں ایک خط کے ذریعے یوں سند عطا فرمائی:

’’ ۔۔۔ البتہ روحانی اعتبار سے آپ کو ایک ایسے منصب پر فائز کیا گیا ہے کہ حضراتِ اہلِ برزخ آپ پر رشک کرتے ہیں اور اس لحاظ سے مجھے آپ پر ناز ہے۔‘‘

آپ اپنے والد اور شیخ حضرت باغ حسین کمال ؒ کو عطا کردہ ’’سلسلہ اویسیہ کمالیہ‘‘ کے موجود ہ سجادہ نشین ہیں اور پنڈی روڈ (کمال آباد)، چکوال پر قائم کردہ درگاہ ’’دارالکمال‘‘ میں سالکین کے دلوں میں عشقِ الٰہی اور حبِ رسولﷺکی شمع فروزاں کرنے کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں ۔ اپنے شیخِ محترم کی مانند آپ بھی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ پھول، شعر، کتاب اور سرُ آپ کے خمیرمیں ہیں توعشق و تصوف آپ کی روح کے اجزاء ہیں۔ ان سب کے ہم آہنگ ہونے سے ایک ایسی دلآویز شخصیت وجود میں آئی ہے جس کا تصور ہی قلب و نظر کو طراوت بخشتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گردشِ دوراں کے ستائے لوگ جب فقیر کے آستانے پر قدم رکھتے ہیں تو کوئل کی کوک اور بلبل کے چہچہے ان کا استقبال کرتے ہیں   اور گل رنگ فضا آنکھوں سے دل میں اتر کر تمام کلفتوں کو دھو ڈالتی ہے۔ اس پر مستزاد آپ کی نشاط انگیز ملاقات،درود شریف اور بسم اللہ شریف کی پر نور محفل اور دورانِ ذکر قلب پر اسمِ ذات کی سرمدی ضربات روح کو وہ پرواز عطا کرتی ہیں کہ بسا اوقات تمام حجابات اٹھتے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ حضرت تابش کمال کے شیخِ کامل ہونے اور سلسلۂ عالیہ پر نبی کریم ﷺ کی روحانی شفقتوں کی ایک کھلی دلیل ہے کہ ’’دارالکمال‘‘ میں آنے والے انتہائی شکستہ دل لوگ بھی واپسی پر خود کو بااعتماد، مضبوط اورزندگی سے بھرپور محسوس کرتے ہیں۔ دلوں کا زنگ دور کرنے اور آئینہ دل میں خالقِ حقیقی کی محبت جاگزیں کرنے کی یہ بے مثل محفل ہر اتوار باقاعدگی سے دن ایک سے دو بجے منعقد کی جاتی ہے جس میں شرکت کے لیے ہر خاص و عام کے لیے صلائے عام ہے۔

"حضرت کمال ثانی" ان کی شخصیت کے بارے میں تعارفی کتاب ہے۔ شاعری کے علاوہ "متاع کمال"کے نام سے انہوں نے معروف ادبی روحانی شخصیت باغ حسین کمال کی نگارشات پر مبنی کتاب "متاع کمال" مرتب کی ہے۔

تصنیفات[ترمیم]

  • منظر منظر دھوپ (اردو شاعری)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1998ء"منظر منظر دھوپ"
  • شام پئی بن شام (پنجابی شاعری)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2002ء"شام پئی بن شام"
  • مہاجر پرندوں کی نظمیں(جدید اردو نظم)۔۔۔۔۔2005ء"مہاجر پرندوں کی نظمیں"
  • سیرالافلاک (تصوف و سلوک)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2006ء< "سیرالافلاک"
  • صل علی(اردو نعت)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2012ء" صل علی"
  • پیار پیام(منظوم پنجابی خط)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2019ء
  • (نورِ مبیں(اردو نعت)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(زیر طبع)
  • (آسمان سے باہر (اردو غزل)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(زیر طبع)
  • (دکھ دے بیلے(پنجابی غزل)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(زیر طبع)
  • (تینڈے رنگ رنگی آں (پنجابی کافی)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(زیر طبع)[1]

نعتیہ کلام[ترمیم]

نمونہ کلام[ترمیم]

ہر ایک سمت اجالے دکھائی دیتے ہیںہمیں وہ روشنی والے دکھائی دیتے ہیں
فرازِ عرش کا رستہ ہے شہر طیبہ کاعجیب نور کے ہالے دکھائی دیتے ہیں

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "آرکائیو کاپی". 06 جون 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 06 جون 2019. 
مطمئن سے ہو گئے ہیں یہ حقیقت جان کراور بھی اِک زندگی ہے ماورائے زندگی
چل پڑے تو منزلیں بھی دور پیچھے رہ گئیںدیکھتا ہی رہ گیا دشوار سا رستہ ہمیں