تاجکستان میں مذہب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search




Circle frame.svg

تاجکستان میں مذہب

  اسلام (95.7%)
  مسیحیت (2.6%)
  لادینیت (1.5%)
  دیگر (0.2%)

اسلام، پورے وسطی ایشیا میں ساتویں صدی عیسوی سے، جب سے عربوں کے ذریعے یہاں اسلام پہنچا، اہم مذہب ہے۔ اسلام تب سے تاجکی ثقافت کا حصہ بن چکا ہے تاجکستان ایک سیکولر ملک ہے،[1] سوویت دور کے دوران میں، معاشرے کو مذہب بے زار کرنے کی کوششوں کو بڑی حد تک ناکام ملی اور سوویت دور کے بعد مذہبی رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ۔ تاجکستان کے مسلمانوں کی اکثریت سنی اسلام پر عمل کرتی ہے اور اسماعیلی نزارے شیعیون کی بھی ایک معمولی تعداد موجوھ ہے۔ تاجکستان میں دوسرا بڑا مذہب روسی راسخ الاعتقاد کلیسیا ہے، اگرچہ 1990ء کی دہائی کی ابتدا میں ان کی تعداد کم ہوئی۔ کچھ دیگر مسیحی فرقے بھی معمولی تعداد میں موجود ہیں جب کہ یہودیوں کی بھی مختصر تعداد ہے۔[2]

اسلام[ترمیم]

تاجکستان میں اسلامی فرقے (2003)[3]
مذاہب فی صد
اہل سنت
  
95%
اہل تشیع
  
5%

اسلام تاجکستان کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت، سنی حنفی مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہے۔[4] 2009ء میں امریکی اسٹیسٹ ڈپارٹمنٹ نے رپورٹ جاری کی جس کے مطابق، تاجکستان کی آبادی کا 98% مسلمانوں پر، (اندازہً 95% سنی اور 3% اہل تشیع) مشتمل ہے۔[5]

دولت سامانیہ نے اسلامی فن تعمیر کی سرپرستی کی اور اسلام کی فارسی ثقافت کو وسطی ایشیا کے مرکز تک پھلایا۔ اسماعیل سامانی، کو تاجکوں کا بابائے قوم مانا جاتا ہے، جنھوں نے خطے کے ارد گرد مسلم مبلغین کو تبلیغ کا موقع دیا۔ وسطی ایشیا کے اندر آبادی نے نمایاں تعداد میں اسلام کو مضبوط طور پر قبول کیا، خاص طور پر تاراز کے علاقے میں، جو جدید دور میں اب قازقستان کا حصہ ہے۔ بیشتر شیعہ خاص طور پر اسماعیلی شیعہ دور دراز صوبہ بدخشاں میں اور جنوب میں صوبہ ختلان کے بعض اضلاع اور دوشنبہ میں رہتے ہیں۔

بشمول تاجکوں کے سنی اسلام 1200 سالوں سے وسطی ایشیا میں مستقل موجود ہے۔ شیعہ اسلام کے ایک بہت چھوٹے اقلیتی گروہ، پامیری، جو نزاریہ اسماعیلی، ہیں، وہ سب سے پہلے ابتدائی دسویں صدی میں وسطی ایشیا میں وارد ہوئے اور کچھ پیروکار بنائے۔ ظلم و ستم کے باوجود، اسماعیلی دور دراز پامیر پہاڑوں میں رہتے ہیں اور آغا خان کے پیروکار ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Tajikistan Constitution
  2. http://lcweb2.loc.gov/frd/cs/tjtoc.html This article incorporates text from this source, which is in the دائرہ عام۔
  3. "وسطی ایشیا :: تاجکستان"۔ سی آئی اے کتاب حقائق عالم۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. "Все новости"۔ مورخہ 25 اگست 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 فروری 2015۔
  5. "Tajikistan"۔ U.S. Department of State۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 فروری 2015۔