تاج الدین احمد
تاج الدین احمد | |
|---|---|
তাজউদ্দীন আহমদ | |
![]() | |
| ذاتی تفصیلات | |
| پیدائش | 23 جولائی 1925 |
| وفات | 3 نومبر 1975ء (50 سال) ڈھاکہ، بنگلہ دیش |
| جماعت | بنگلہ دیش عوامی لیگ (1949–1975) |
| مادر علمی | ڈھاکہ یونیورسٹی |
تاج الدین احمد (بنگالی: তাজউদ্দীন আহমদ؛ 23 جولائی 1925ء – 3 نومبر 1975ء) ایک بنگلادیشی سیاست دان اور مجاہد آزادی تھے۔ وہ بنگلہ دیش کے پہلے وزیر اعظم تھے اور سنہ 1971ء کی جنگ آزادی بنگلہ دیش کے دوران میں بنگلہ دیش عبوری حکومت کی زمام قیادت سنبھال رکھی تھی۔ سنہ 71ء کی اس عبوری حکومت کی قیادت کی بنا پر انھیں تخلیق بنگلہ دیش کی اہم ترین اور موثر ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس عبوری حکومت کے دوران میں تاج الدین احمد نے متعدد بنگلا قوم پرست سیاسی، فوجی اور تہذیبی دھڑوں اور افراد کو متحد کر لیا تھا۔
تاج الدین شیخ مجیب الرحمٰن کے انتہائی معتمد اور سنہ 1960ء کی دہائی کے اواخر اور 1970ء کی دہائی کے اوائل میں بنگلہ دیش عوامی لیگ کے معتمد عمومی (جنرل سیکریٹری) رہے۔ پاکستان عام انتخابات، 1970ء کی لیگی مہم میں بھی وہ شریک رہے جس میں لیگ نے تاریخی اکثریت حاصل کی تھی۔ منتخب قومی اسمبلی پاکستان کو اقتدار منتقل کرنے کے لیے تاج الدین احمد نے شیخ مجیب الرحمن اور ڈاکٹر کمال حسین کے ساتھ مل کر اس وقت کے صدر پاکستان یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو سے مذاکرات بھی کیے تھے۔
ابتدائی زندگی
[ترمیم]تاج الدین احمد غازی پور شہر میں کپاسیا کے مقام پر 23 جولائی 1925ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام مولوی محمد یاسین خان اور والدہ کا نام مہر النساء خانم تھا۔ سینٹ گریگوری ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ سنہ 1944ء میں دسویں کے امتحان میں بارھواں مقام حاصل کیا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی سے معاشیات میں بی اے (آنرز) کیا۔ سنہ 1943ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ 4 جنوری 1948ء کو ایسٹ پاکستان اسٹوڈنٹ لیگ میں بانی رکن کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔[1]
جنگ آزادی بنگلہ دیش
[ترمیم]مارچ سنہ 1971ء میں افواج پاکستان نے مشرقی پاکستان میں آپریشن سرچ لائٹ کی ابتدا کی تو شیخ مجیب الرحمن کے ایما پر تاج الدین احمد اپنے ہمسایہ ملک بھارت پہنچے۔ ادھر پاک فوج نے شیخ مجیب الرحمن کو گرفتار کر لیا۔ چنانچہ تاج الدین احمد نے عبوری حکومت کی بنیاد رکھی اور اپنے دار الحکومت (مجیب نگر) کو شیخ مجیب الرحمن کے نام سے موسوم کیا اور یہ عبوری حکومت مجیب نگر حکومت کہلائی۔ بنگلہ دیش کے پرانے سیاسی و فوجی رہنماؤں کے ساتھ مل کر انھوں نے بنگلہ دیش کی پہلی حکومت کی بنیاد رکھی جس کی تقریب حلف برداری 17 اپریل سنہ 1971ء کو بنگلہ دیش کی سرزمین ہی پر مہرپور میں منعقد ہوئی۔
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ محمد عبد الحئی (23 جولائی 2010)۔ "In memory of Tajuddin Ahmed"۔ دی ڈیلی اسٹار۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-07-13
- 1925ء کی پیدائشیں
- 23 جولائی کی پیدائشیں
- نامعلوم پیرامیٹرز استعمال کرنے والے صفحات
- پاک بھارت جنگ 1971ء
- بنگلہ دیشی سیاسی رہنماؤں کے ناؤ سانچے
- بنگالی سیاستدان
- بنگالی مسلمان
- بنگلہ دیش عوامی لیگ کے سیاست دان
- بنگلہ دیش کی جنگ آزادی
- بنگلہ دیش کے وزرائے خزانہ
- بنگلہ دیشی اسلام پسند
- بنگلہ دیشی حراست میں وفات پانے والے قیدی
- بنگلہ دیشی شخصیات
- بنگلہ دیشی صدور
- بنگلہ دیشی متاثرین جرم
- بنگلہ دیشی مسلم
- بنگلہ دیشی وزرائے اعظم
- بیسویں صدی کی بنگالی شخصیات
- بیسویں صدی کے پاکستانی سیاست دان
- بیسویں صدی کے سیاست دان
- پہلی جاتیہ سنسد کے ارکان
- جامعہ ڈھاکہ کے فضلا
- سیاسی مقتول شخصیات
- فعالیت پسند آزادی
- مقتول بنگلہ دیشی سیاست دان
- مقتولین
- 1975ء کی وفیات
- پاکستان کے عام انتخابات 1970ء کے سیاسی امیدوار
- ڈھاکہ ڈویژن کے سیاستدان
- ڈھاکہ کے سیاست دان
