مندرجات کا رخ کریں

تارا شنکر بندوپادھیائے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
تارا شنکر بندوپادھیائے
(بنگالی میں: তারাশংকর বন্দ্যোপাধ্যায় ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

معلومات شخصیت
پیدائش 23 جولا‎ئی 1898ء [1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لابھ پور   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 14 ستمبر 1971ء (73 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کولکاتا   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت بھارت (26 جنوری 1950–)
برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان ،  مصنف ،  شاعر   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان بنگلہ   ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ [1]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
گیان پیٹھ انعام (1966)[2]
ساہتیہ اکادمی انعام (برائے:آروگیہ نکیتن ) (1956)[3]
پدم بھوشن
پدم شری اعزاز برائے ادب و تعلیم   ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
باب ادب

تارا شنکر بندوپادھیائے (23 جولائی 1898ء-14 ستمبر 1971ء) بنگالی زبان کے سرکردہ ناول نگار ہیں۔ ان کا قلم خوب فراخ دل تھا۔ انھوں نے 65 ناولیں، کہانی کے 53 مجموعے، 12 ڈرامے، چار مضامین کی کتابیں، 4 خود نوشت سوانح اور 2 افسانے لکھے۔ انھوں نے کئی نغمے بھی لکھے ہیں اور 1959ء میں ایک فلم امرپالی بھی ڈائریکٹ کی ہے۔ انھیں ربندر پرسکار، ساہتیہ اکیڈمی اعزاز، گیان پیٹھ انعام، پدم شری اعزاز اور پدم بھوشن سے نوازا گیا۔

حاات زندگی

[ترمیم]

ان کی ولادت برطانوی ہند کے بنگال پریزیڈنسی میں واقع بیربھوم ضلع کے لابھ پور گاؤں میں ہوئی۔ والد کا نام ہری داس بندوپادھیائے اور والدہ کا نام پربھا بتی دیوی تھا۔

انھوں نے لابھ پور سے ہی دسویں اور بارہویں کی تعلیم حاصل کی اور سینٹ زیویر کالج کلکتہ میں ساخلہ لیا۔ کالج کے زمانہ میں ہی انھوں نے تحریک عدم تعاون میں حصہ لیا۔ اپنی سیاسی زندگی اور خراب کی صحت کی وجہ سے یونیورسٹی کی تعلیم مکمل نہ کرسکے۔[4] اسی دوران وہ ایک جنگجو گروہ سے بھی وابستہ تھے اور کئہ بار گرفتار ہو کر جیل گئے اور رہا ہوئے۔[5] تحریک آزادی ہند میں فعالی کے ساتھ شرکت کرنے اور تائید کرنے کی وجہ سے 1930ء میں قید ہوئے لیکن بعد میں پھر رہا کر دیا گیا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی زندگی لکھنے لکھانے کے لیے وقف کردی۔[6][4] 1932ء میں ان کی ملاقات شانتی نکیتن میں رابندر ناتھ ٹیگور سے ہوئی ان کا پہلا ناول چیتلی گھورنی تھا جو 1932ء میں ہی شائع ہوا۔

گنا بیگم

[ترمیم]

ان کا شہرہ آفاق ناول گنا بیگم ہے جو ثقافتی روایت کے لیے مشہور ہے۔ تارا شنکر پورے بنگال کا سفر کرتا ہے اور اسے بنگالی ہونے پر فخر ہے۔ وہ بنگال کی سیاسی اور سماجی زندگی سے بہت خوش ہے۔ تارا شنکر ایک علاقائی ناول نگار تھے جنھوں نے اس مخصوص علاقہ کو مکمل طریقے سے پیش کیا ہے اور اس سے ٹوٹ کر محبت کی ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب پ مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb118900654 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015
  2. http://www.jnanpith.net/page/jnanpith-laureates
  3. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#BENGALI — اخذ شدہ بتاریخ: 20 فروری 2019
  4. ^ ا ب Mahashweta Devi (1983) [1975]۔ Tarasankar Bandyopadhyay۔ Makers of Indian Literature (2nd ایڈیشن)۔ New Delhi: Sahitya Akademi۔ ص 77–79
  5. Kalpana Bardhan، مدیر (1990)۔ Of Women, Outcastes, Peasants, and Rebels: A Selection of Bengali Short Stories۔ Berkeley, CA: University of California Press۔ ص 22۔ 2018-09-21 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-10-17 – بذریعہ Questia
  6. Sengupta, Subodh Chandra and Bose, Anjali (editors), (1976/1998), Samsad Bangali Charitabhidhan (Biographical dictionary) Vol I, (بزبان بنگالی), Kolkata: Sahitya Samsad, ISBN 81-85626-65-0, p 195