انحطاط و زوال سلطنت روما

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
انحطاط و زوال سلطنت روما
مصنف ایڈورڈ گبن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مصنف (P50) ویکی ڈیٹا پر
اصل زبان انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تخلیقی زبان (P407) ویکی ڈیٹا پر
موضوع رومی سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مرکزی موضوع (P921) ویکی ڈیٹا پر
ادبی صنف غیر افسانوی ادب[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرز (P136) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ اشاعت 1776  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ اشاعت (P577) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ

تاریخِ زوال و سقوطِ سلطنتِ روما ایک مشہور برطانوی مورخ و مستشرق ایڈورڈ گبن کی تصنیف ہے جو سلطنت روم کے عروج و زوال سے بحث کرتی ہے۔ اس کتاب کی علمی حیثیت کا اندازا اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ مصنف کو جدید تاریخ نگاری کا بانی کہا جاتا ہے۔

موضوع[ترمیم]

کتاب میں سلطنت روم کی ابتدا سے زوال تک کی مکمل تجزیاتی تاریخ قلم بند کی گئی ہے۔ کہتے ہیں کہ ابھی گبن کا یہ کتاب لکھنے کا ارادہ نہیں تھا، مگر تاریخ سے اپنی دلچسپی کے باعث اس نے شوقیہ ہزاروں صفحات کا مواد جمع کیا۔ مشہور ادیب ای ایم فورسٹر لکھتا ہے گبن نے تاریخ کے حوالے سے جو کتابیں پڑھیں، جو نوٹس تیار کئے، ان کی تعداد حیران کن ہے، تاہم اس زمانے میں اس کا مطلق علم نہیں تھا کہ وہ یہ سب کچھ کیوں پڑھ رہا ہے۔‘‘ بنیادی طور پر یہ روم کی ابتدا سے زوال تک مکمل داستان ہے اور تاریخ کی اہم ترین کتابوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ گبن کی تحقیق، اس کا شاندار اسلوب، غیر جذباتی اور غیر معتصب تجزیاتی انداز اسے تاریخ انسانی کے عظیم مورخین میں شامل کرتے ہیں۔

تنقید[ترمیم]

ایڈورڈ گبن (1737–1794).

اس کتاب کے پندرہویں اورسولہویں باب میں مسیحیت پر خاصے سخت حملے کیے گئے ہیں جن پر خوب تنقیدیں کی گئیں۔ نیز چونکہ ایڈورڈ گبن خود عربی سے نا بلد تھا اس لیے اس نے کتاب کے اس مقام (پچاسواں باب) پر جہاں اسلام اور پیغمبر اسلام کا ذکر ہے، اپنے پیشرو مستشرقین کی تصنیفات سے استفادہ کیا ہے۔ اس بنا پر وہ غیر جانبدار نہ رہ سکا اور مستشرقین کا انداز اپنا لیا جو بہت حد تک تعصب اور غیر سنجیدہ پن سے بھرا ہوا ہے۔ اس کے اس اسلوب پر بیشتر مسلمان سیرت نگاروں نے نقد کیا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]