تاریخ السلاجقہ (کتاب)
| تاریخ السلاجقہ (کتاب) | |
|---|---|
| درستی - ترمیم |
تاریخِ سلاجقہ ایک نامعلوم مصنف کی تحریر کردہ کتاب ہے جو سلاجقہ روم کے سلاطین کی تعمیراتی سرگرمیوں کی ایک بیانیہ تاریخ پیش کرتی ہے۔ یہ فارسی زبان میں لکھی گئی ہے اور دربارِ سلجوقی کے ایک فرد کی نظر سے تحریر ہوئی۔ کتاب میں سلطنتِ روم کے حالات بارہویں صدی کے آخر سے چودہویں صدی کے آغاز تک کا احاطہ کیا گیا ہے۔[1]
اگرچہ کتاب کسی باضابطہ ترتیب یا منظم ساخت کی پابند نہیں، لیکن اس میں سلطنت بھر میں تعمیرات اور عمارت سازی کی سرپرستی سے متعلق قیمتی معلومات شامل ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عسکری تعمیرات کی ذمہ داری سلاطین کے امرا پر عائد ہوتی تھی۔ اس تاریخ میں امرا کی ناراضی اور ان کے ردِ عمل کی تفصیلات بھی موجود ہیں، جن پر معروف سلجوقی مؤرخ ابنِ بیبی نے کم گفتگو کی تھی۔.[1]
عمارات جو کیکاوس اوّل سے منسوب ہیں:[2] .[2] مسجد: البستان میں ایک مسجد۔ مرمت و تعمیرِ نو: اَلانیا، قونیہ اور سیواس کی قلعہ بندیاں۔ کیقباد نے حکم دیا کہ 140 امرا قونیہ کے گرد 140 برج تعمیر کریں۔ کیقباد اوّل نے “کالون اوروس” (اَلانیا) کا قلعہ کر فِرید سے چھین لیا اور اپنے امرا کو اس مقام پر فصیلوں اور برجوں کے ساتھ ایک شہر تعمیر کرنے کا حکم دیا۔[1] .[3] جب سیواس کے گرد بھی اسی طرح کی قلعہ بندی کا حکم دیا گیا تو 23 امرا نے کیقباد کے قتل کی سازش کی۔ سازش بے نقاب ہوئی اور کیقباد نے ان 23 امرا کو سزائے موت دے دی۔[4]
عصرِ جدید
[ترمیم]یہ کتاب پہلی مرتبہ 1553ء میں شائع ہوئی اور 1952ء میں ف. ن. اوزلوق نے اس کا ترکی ترجمہ شائع کیا۔[1]
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب پ ت Crane 1993, p. 2
- ^ ا ب Crane 1993, p. 11
- ↑ Crane 1993, p. 9
- ↑ Crane 1993, p. 10
کتابیات
[ترمیم]- H. Crane (1993)۔ "Notes on Saldjūq Architectural Patronage in Thirteenth Century Anatolia"۔ Journal of the Economic and Social History of the Orient۔ ج 36 شمارہ 1: 1–57۔ DOI:10.1163/156852093X00010