تاریخ فرشتہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تاریخ فرشتہ ہندوستان کی عمومی کتب ہائے تواریخ میں سے ایک مشہور تاریخی کتاب ہے جس کے مصنف و مؤلف محمد قاسم فرشتہ (متوفی 1620ء) تھے۔

تفصیلات متن[ترمیم]

یہ تاریخ ہندوستان کی قدیمی تاریخ سے شروع ہوتی ہے اور اِس کے واقعات کا اختتام 1015ھ مطابق 1606ء پر ہوتا ہے۔ یہ تاریخ محمد قاسم فرشتہ نے ابراہیم عادل شاہ ثانی، سلطانِ بیجاپور (متوفی 1627ء) کے حکم سے لکھنی شروع کی اور 1015ھ مطابق 1606ء پر اِس تاریخ کے واقعات کا اِختتام ہوا۔ محمد قاسم فرشتہ نے اِسے گلشن ابراہیمی کا نام دیا مگر عوام میں یہ تاریخ فرشتہ کے نام سے مشہور ہوئی۔

ماخذ کتب[ترمیم]

محمد قاسم فرشتہ نے اِس تاریخ کے لیے 35 کتابوں سے واقعات اخذ کیے ہیں، اِن میں 25 کتابیں وہی ہیں جو طبقات اکبری کے ماخذ میں شامل ہیں اور اُن کے علاوہ 10 کتابیں یہ ہیں:

  • ملحقات طبقات ناصری از شیخ عین الدین بیجاپوری
  • تاریخ بناکتی (یہ عموماً غلطی سے تاریخ بنائے گیتی سمجھی جاتی ہے)
  • سراج التواریخ از ملا محمد لاری
  • تاریخ ملا احمد ٹھٹھوی
  • حبیب السیر
  • تاریخ حاجی محمد قندھاری
  • فواید الفوائد
  • خیرالمجالس
  • خیرالعارفین
  • طبقات اکبری از نظام الدین احمد

طبقات[ترمیم]

محمد قاسم فرشتہ نے اپنی تاریخ کو ایک مقدمہ، بارہ مقالہ جات اور ایک خاتمہ یعنی ضمیمہ پر تقسیم کیا ہے۔

مقدمہ میں راجگانِ ہنود، ہندوستان میں ظہورِ اسلام کی کیفیات پر تاریخ لکھی ہے۔ مقالہ اول میں سلاطین لاہور کا ذِکر ہے۔ مقالہ دوم میں دہلی سلطنت کے سلاطین کا تذکرہ ہے جو سلطان شہاب الدین غوری کی فتح شمالی ہند سے لے کر مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کی وفات تک کی تاریخ ہے۔ یہ تاریخ مجموعی طور پر1186ء سے 1605ء تک کی تاریخ کے مجموعی حالات و وَاقعات پر مبنی ہے۔ مقالہ سوم میں سلاطین دکن کا تذکرہ ہے اور اِس کے چھ روضات بنائے گئے ہیں۔ پہلے روضے میں سلاطین بہمنیہ کا تذکرہ، دوسرے روضے میں سلاطین بیجاپور ملقب بہ سلاطین عادل شاہی، تیسرے روضے میں سلاطین احمد نگر ملقب بہ سلاطین نظام شاہی، چوتھے روضہ میں سلاطین تلنگانہ ملقب بہ سلاطین قطب شاہی، پانچویں روضہ میں شاہانِ برار ملقب بہ سلاطین عمادشاہی، چھٹے روضہ میں شاہانِ بیدر محمد آباد ملقب بہ سلاطین بریدشاہی کا تذکرہ لکھا گیا ہے۔ مقالہ چہارم میں شاہانِ گجرات کی تاریخ مرقوم ہے۔ مقالہ پنجم میں شاہانِ مالوہ کا ذِکر کیا گیا ہے۔ مقالہ ششم میں سلاطین خاندیس کا تذکرہ ہے۔ مقالہ ہفتم میں سلاطین بنگال اور سلاطین جونپور کا تذکرہ لکھا گیا ہے۔ مقالہ ہشتم میں سلاطین ملتان کا تذکرہ ہے۔ مقالہ نہم میں سلاطین سندھ کا مفصل بیان موجود ہے۔ مقالہ دہم میں سلاطین کشمیر کا تذکرہ لکھا گیا ہے۔ مقالہ یازدہم میں راجگانِ مالابار اور پرتگیزیوں کا ہندوستان میں وَرود اور اُن کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔ مقالہ دوازدہم میں ہندوستان کے مشائخ حضرات کے حالات و سوانح جمع کیے گئے ہیں۔[1]

اشاعت[ترمیم]

اِس تاریخ کو پہلی بار ممبئی کے انگریز گورنر لارڈ الفنسٹن نے نہایت اہتمام کے ساتھ بڑی تقطیع کی دو ضخیم جلدوں پر 1832ء میں شائع کروایا۔ اِس کے بعد لکھنؤ سے مطبع منشی نول کشور نے اِس کے متعدد ایڈیشن شائع کیے جو 1864ء، 1865ء اور 1884ء میں شائع ہوئے۔ انگریزی زبان میں اِس کے بیشتر تراجم شائع ہوئے ہیں جن میں پہلا انگریزی ترجمہ 1868ء میں لندن سے شائع ہوا تھا۔ اردو زبان میں پہلا ترجمہ 1309ھ میں لکھنؤ سے مطبع منشی نول کشور نے شائع کیا تھا۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حکیم شمس اللہ قادری: مورخین ہند، صفحہ 17/18۔ مطبوعہ حیدرآباد دکن 1932ء
  2. حکیم شمس اللہ قادری: مورخین ہند، صفحہ 18۔ مطبوعہ حیدرآباد دکن 1932ء