تاریخ پاکستان کرکٹ ٹیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پاکستان کرکٹ ٹیم نے ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز 1952 میں کیا اور آج یہ ٹیم جدید کرکٹ کی کامیاب ٹیموں میں شمار کی جاتی ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم 1979، 1983، 1987 کے عالمی کپ کے سیمی فائنل اور 1992 اور 1999 عالمی کپ کے فائنل کھیل چکی ہے۔ اس ٹیم نے اب تک ایک بار ایک روزہ عالمی کپ 1992 میں انگلستان کو فائنل میں ہرا کر جیتا۔[1]

تاریخ[ترمیم]

1947ء میں آزادی پاکستان کے بعد پاکستان نے اپنی علاحدہ قومی کرکٹ ٹیم بنائی۔ پاکستان کو 28 جولائی 1952 کو لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں امپیریل کرکٹ کانفرنس کی طرف سے ٹیسٹ میچ کھیلنے کا اجازت نامہ دیا گیا۔[2] ہندوستان کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ کا درجہ حاصل نہ تھا۔ جبکہ اس سے پہلے برطانوی راج میں پاکستان نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ دہلی میں اکتوبر 1952 کو بھارت کرکٹ ٹیم کے خلاف کھیلا۔ یہ پانچ ٹیسٹ میچوں کی ایک سیریز تھی جس میں بھارت نے 2-1 سے فتح حاصل کی۔ پاکستان نے اپنا پہلا بین الاقوامی دورہ 1954 میں انگلستان کا کیا اور پاکستان نے وہ سیریز 1-1 سے برابر کھیلی۔ اس سیریز میں پاکستان کے گیند باز فضل محمود نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 12 وکٹیں حاصل کیں۔

1986 آسٹریلیشیا کپ[ترمیم]

1986 کا آسٹریلیشیا کپ جو شارجہ میں کھیلا گیا، یہ دورہ اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ اس سیریز کے ایک میچ میں پاکستان کے جاوید میانداد نے آخری بال پر چھکا لگا کر روایتی حریف بھارت کو شکست سے دوچار کیا اور اس کے بعد جاوید میانداد پاکستان کے ہیرو بن گئے۔[3]

1992 عالمی کپ سیمی فائنل[ترمیم]

1992 کے عالمی کپ کے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور پاکستان کو 262 سکور کا مجموعہ دیا۔ پاکستان اس مجموعہ کے تعاقب میں شروع میں پریشانی کا شکار رہا اور عمران خان اور سلیم ملک کی وکٹیں گنوا دیں۔ جاوید میانداد کے علاوہ تقریبا سبھی اہم بلے باز آؤٹ ہو چکے تھے اور پاکستان کو جیتنے کے لیے 7.67 کی اوسط سے 115 سکور درکار تھے۔ ایک نیا کھلاڑی جس کا نام انضمام الحق تھا اور ابھی وہ صرف بائیس برس کا تھا جاوید میانداد کا ساتھ دے رہا تھا، اس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 37 گیندوں پر 60 سکور بنا کر پاکستان ٹیم کو سنبھالا دیا۔ انضمام جب آؤٹ ہوا تو 30 گیندوں پر 36 سکور درکار تھے۔ معین خان نئے بلے باز کریز پر آئے اور پاکستان کو جیت کے قریب لے کر آئے اور انہوں نے آخری گیند پر چوکا لگا کر پاکستان کو جیت سے ہمکنار کر دیا۔[4][5][6]

1992 عالمی کپ فتح[ترمیم]

نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں منعقد ہونے والے کرکٹ عالمی کپ 1992میں پاکستان نے پہلاعالمی کپ حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ اعزاز پاکستان نے وقار یونس اور سعید انور جیسے اہم کھلاڑی کھونے کے بعد اور زخمی عمران خان کی قیادت میں حاصل کیا۔ پاکستان اس عالمی کپ میں ابتدائی پانچ میچوں میں سے محض ایک ہی میچ جیت سکا اور انگلستان کے خلاف 74 سکور پر پوری ٹیم آؤٹ ہونے کے بعد عالمی کپ سے باہر ہونے کے قریب تھا لیکن بارش کی وجہ سے یہ میچ نے نتیجہ رہا۔ اس کے عمران خان نے ٹیم کا حوصلہ بڑھایا اور اس کے بعد پاکستان نے فائنل تک لگاتار پانچ میچوں میں فتح حاصل کی۔[7] فائنل میچ کی سب سے اہم بات پاکستانی گیندباز وسیم اکرم کی ہیٹ ٹریک تھی جس کی وجہ سے پاکستا ن کی جیت آسان ہو گئی۔

2007 عالمی کپ دھچکا[ترمیم]

کرکٹ عالمی کپ 2007 میں پاکستان کی پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا دھچکا لگا جب آئر لینڈ جیسی کمزور ترین ٹیم نے پاکستان کو ہرا کر عالمی کپ سے باہر کر دیا۔[8][9][10]

میچ فکسنگ[ترمیم]

پاکستان کرکٹ ٹیم کو کافی مرتبہ میچ فکسنگ کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ سب سے پہلی بار 1995 میں آسڑیلوی کھلاڑی شین وارن نے سلیم ملک پر رقم لے کر میچ فکس کرنے کا الزام لگایا۔ 2010 میں سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف بین الاقوامی کرکٹ سے سپاٹ فکسنگ کی وجہ سے معطل کر دیے گئے اور سلمان بٹ پر دس برس، محمد آصف پر سات برس، محمد عامر پر پانچ کی پابندی لگا دی گئی۔

تاریخ ٹورنامنٹ[ترمیم]

عالمی کپ چیمپئنز ٹرافی ایشیاء کپ آسٹریلیشا کپ ایشین ٹیسٹ چیمپئن شپ کامن ویلتھ گیمز عالمی ٹوئنٹی/20
* 1975: پہلا راؤنڈ* 1979: سیمی فائنل* 1983: سیمی فائنل* 1987: سیمی فائنل* 1992: چیمپئن* 1996: کوارٹر فائنل* 1999: فائنل* 2003: پہلا راؤنڈ* 2007: پہلا راؤنڈ* 2011: سیمی فائنل* 2015: کوارٹر فائنل * 1998: کوارٹر فائنل* 2000: سیمی فائنل* 2002: پہلا راؤنڈ* 2004: سیمی فائنل* 2006: پہلا راؤنڈ * 2009: سیمی فائنل
  • 2013: پہلا راؤنڈ
* 1984: تیسرا درجہ* 1986: دوسرا درجہ* 1988: تیسرا درجہ* 1990–91: حصہ نہیں لیا* 1995: تیسرا درجہ* 1997: تیسرا درجہ* 2000: چیمپئن* 2004: تیسرا درجہ* 2008: تیسرا درجہ* 2012: چیمپئن * 1986: چیمپئن* 1990: چیمپئن* 1994: چیمپئن * 1998–99: چیمپئن* 2001–02: دوسرا درجہ * 1998: پہلا راؤنڈ * 2007: دوسرا درجہ* 2009: چیمپئن* 2010: سیمی فائنل* 2012: سیمی فائنل* 2014: گروپ مرحلہ

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]