تاریخ کبیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تاریخ الکبیر امام بخاری کی تصنیف ہے۔
ان کے اپنے قول کے مطابق یہ کتاب مسجد نبوی میں روضہ اطہر کے جوار میں بیٹھ کر چاندنی راتوں میں تاریخ لکھی حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: اٹھارہ سال کی عمر میں مدینہ پہنچے اور اسی سفر میں انہوں نے تاریخ کبیر کا مسودہ چاندنی راتوں میں لکھا۔[1]
التاریخ الکبیر امام بخاری کا وہ شاہکار ہے جسے دیکھ کر امام اسحاق بن راھویہ نے فرط مسرت سے سحر فرمایا۔ امام بخاری کا قول ہے:

  • تاریخ میں ایسا کم ہی کوئی نام ہوگا جس کے بارے میں میرے پاس کوئی قصہ نہ ہو مگر کتاب کی طوالت کی وجہ سے میں نے اس کو ذکر نہیں کیا۔
  • اس تاریخ پر بعض علما نے حواشی بھی لکھے ہیں جن میں مسلمہ بن قاسم کا حاشیہ معروف ہے۔[2]
  • بہت سے علما نے امام بخاری سے اس کتاب کو روایت کیا ہے، بطور مثال :
  • (1) ابوعبداللہ احمد بن محمد بن سلیمان بن فارس
  • (2) ابوالحسن محمد بن سھل اللغوی النسوی
  • (3) الدلال عبد الرحمٰن بن الفضل
  • امام حاکم کبیر اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
  • اور محمد بن اسماعیل کی تاریخ میں کتاب ایسی ہے جس پر کسی نے سبقت نہیں کی اور جس شخص نے بھی ان کے بعد تاریخ اسماء اور کنٰی میں کچھ تالیف کیا وہ ان سے مستغنی نہیں ہوا اور بعض نے تو اس کو اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ جیسے ابوزرعہ اور ابوحاتم ہیں اور بعض نے اس کو آپ سے حکایت کیا ہے اللہ اُن پر رحم کرے۔ پس آپ اصل الاصول ہیں۔[3]

تاریخ میں امام بخاری نے تاریخ الاوسط اور تاریخ الصغیر بھی لکھی ہے اور یہ تینوں تواریخ ثلاثہ کے نام سے معروف ہیں تاریخ صغیر تو مطبوع ہے لیکن اوسط کے متعلق کچھ علم نہیں ہو سکا۔ بعض کا خیال ہے کہ التاریخ الصغیر دراصل کتاب الضعفاء کا دوسرا نام ہے اور جو صغیر مطبوع ہے وہ دراصل اوسط ہے ۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مقدمہ فتح الباری
  2. کشف الظنون
  3. سیر اعلام النبلاء ج12 ص391
  4. تاریخ جرجان ص8 حاشیہ