تانگ خاندان کے دور حکومت میں اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


چین میں اسلام کے داخلے اور مسلم آبادیوں کی رہائش کی ابتدا تانگ خاندان کے عہد میں ہوئی۔تانگ خاندان نے 618ء سے 907ء تک چین پر حکومت کی۔ اس دوران اِس خاندان میں 23 شہنشاہوں نے حکمرانی کی۔ چین میں تانگ خاندان کے تیسرے شہنشاہ گاؤژونگ کے عہدِ حکومت میں اسلام کے چین میں داخل ہونے کے شواہد ملتے ہیں۔ اِن شواہد میں متعدد غیر مستند روایات بھی شامل ہیں کہ جن میں مشہور غیر مستند روایت ہے کہ 650ء یا 651ء میں سعد بن ابی وقاص بحیثیت اتاشی یا سفیر خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی جانب سے چین آئے تھے اور یہ اُن کا چین کا تیسری بار سفر تھا۔ مؤرخین اسلام اور محققین کے مطابق یہ روایت مستند نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی تاریخی شہادت مل سکی ہے کہ عہد نبوت میں افراد چین آئے ہوں یا خلافت راشدہ کے زمانے میں۔

تانگ خاندان میں اسلام کے ابتدائی نقوش[ترمیم]

تانگ خاندان کے دور میں چین کی خوشحالی کی راہیں برقرار ہوئیں تو لوگوں کے تجارتی اور ذہنی ترقی کی جانب اذہان مائل ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جس میں مغربی ایشیا کے مختلف مذاہب کا اثر چین کی زندگی پر پڑنا شروع ہوا۔ بدھ مت ، عیسائیت اور یہودیت بھی اِسی زمانے میں چین میں داخل ہوئے۔ اسلام جو ابتداً خلافت راشدہ کے ادوار میں جزیرہ عرب سے نکل کر ایشیا میں منتقل ہو رہا تھا، وہ ما وراء النہر میں پہنچتا ہوا چین داخل ہوا۔ تقریباً تیس سال کے عرصے میں مسلم آبادیاں ایشیا میں قائم ہوچکی تھیں اور ما وراء النہر میں داخل ہوتے ہوئے مسلمان جب مشرقی ترکستان پہنچے تو وہاں کے باشندے بھی اسلام سے فیض یاب ہوئے اور منجملہ اُن سب قبائل کے جنہوں نے اسلام قبول کیا، اُن میں ایک قبیلہ ’’ہوئی چِہی‘‘ بھی تھا۔ یہ لوگ قتیبہ بن مسلم کے زمانہ میں حلقہ ٔ اسلام میں داخل ہوئے اور آج چینی زبان میں اِن مسلمانوں کو ’’ہوئی ہوئی‘‘ کہتے ہیں۔ اِن کی اصل ’’ہوئی چِہی‘‘ تھی اور یہ نام غیر مسلمانوں نے اِن مسلمانوں کے لیے تجویز کیا تھا جو عہد تانگ خاندان میں اسلام لائے۔ کیونکہ اِن کے اکثر افراد اِس زمانے میں ’’ہوئی چِہی‘‘ قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے لیکن یوآن خاندان یعنی ابتدائی مغلوں کے زمانہ میں اِن مسلمانوں نے ’’ہوئی چِہی‘‘ کے نام سے اِجتناب کیا اور ’’ہوئی چِہی‘‘ کو ’’ہوئی ہوئی‘‘ میں تبدیل کر دیا کیونکہ یہ لفظ اُن کے نزدیک بالکل اسلام کا مفہوم ادا کرتا ہے اور شرقِ اقصیٰ میں آج تک وہ اِسی نام سے مشہور ہیں۔[1]

جامع مسجد شیان[ترمیم]

تانگ خاندان کے عہد میں ہی جامع مسجد شیان تعمیر کی گئی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

  • بدرالدین چینی: چینی مسلمان، صفحہ 8۔ مطبوعہ اعظم گڑھ، 1935ء