تبادلۂ خیال:ابو طالب بن عبد المطلب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Ambox notice.svgیادہانی:اردو ویکیپیڈیا یا ویکیمیڈیا فاؤنڈیشن کا، صارفین کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

براہ مہربانی متنازع موضوعات پر تبادلۂ خیال کرتے وقت تہذیب و شائستگی کا مظاہرہ کریں، فرقہ وارنہ گفتگو سے گریز کریں اور اپنی رائے کو شستہ الفاظ میں پیش کریں، نیز تاریخی واقعات کو فیصلہ کن انداز میں غلط یا درست قرار دینے کے بجائے غیر جانبداری کے ساتھ بیانیہ انداز میں تحریر کریں۔ خیال رہے کہ یہاں مذہبی، سیاسی اور تاریخی موضوعات میں فریقین اور بنیادی/ثانوی/ثلثی مآخذ سے استفادہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، چناں چہ اگر اس مضمون میں محض ایک نقطہ نظر بیان کیا گیا ہے تو اسے جانبدار باور کرنے کے بجائے آپ دوسرا نقطہ نظر با حوالہ شامل کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ویکیپیڈیا پر کسی بھی طرح کی جانبداری کو تخریب کاری سمجھا جاتا ہے۔

Untitled[ترمیم]

ایمان حضرت ابو طالب علیہ السلام ایمان حضرت ابو طالب علیہ السلام پر حضرت علامہ صاءم چشتی رحمتہ اللہ علیہ اور حضر علامہ شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری دامت برکاتہم عالیہ نے بڑے سکہ بند حوالوں کے ساتھ کتابیں تحریر فرماءی ہیں اور خارجی عباسیوں کے اعترازات کا منہ ٹور جواب دیا ہے۔ علامہ صاءم چشتی رحمتہ اللہ علیہ سنی مسلک سے تعلق رکھنے والی ایک مبارک ہستی ہیں جن سے پنجتن پاک علیہم السلام نے خاص الخاص ڈیوٹی لی ہے اور وہ بڑی شان و عظمت کے ساتھ فیصل آباد میں صاحبِ مزار ہیں۔ شیخ الاسلام حضرت علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری دامت برکاتہم عالیہ کا تعلق بھی سنی مسلک سے ہے اور آپ سلسلہ قادریہ میں حضرت غوث پاک سرکار کے غلام ہیں۔ آپ نے بھی حضرت ابوطالب علیہ السلام پر ایک کتاب مرتب کی ہے جو مارکیٹ میں موجود ہے۔ ان کا فرمان ہے کہ جب انہوں نے اپنی کتاب کی بڑے سکہ بند حوالوں کیساتھ تحریر کو مکمل کیا تو اسی رات انکو حضرت عبدالمطلب علیہ السلام اور حضرت ابو طالب علیہ السلام کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور دورانِ زیارت ان مقدس ہستیوں نے ڈاکٹر صاحب کو مبارکباد کے ساتھ فرمایا : بیٹے! آپ نے ہاشمی خاندان کیساتھ اپنی محبت و عقیدت کا حق ادا کردیا ہے۔ دونوں مشاءخ کرام کی کتابیں اس وقت مارکیٹ میں مہیا ہیں تاہم منافقین کی یہ کوشش ہے کہ کسی طرح ان کتابوں کو بھی تبدیل کر دیا جاءے جس طرح تاریخ الاسلام کی دیگر کتابوں میں تبدیلیاں کرکے مسلمانوں کو عجیب کش مکش کا شکار کر رکھا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مناقین کو ان کے ارادوں میں ناکامی عطا فرماءے اور اہل ایمان مسلمانوں کا اپنا ایمان مزید مضبوط کرنے کی تو فیق عطا فرماءے۔ آمین بہت زیاد تاویلوں میں نہیں جانا حضور نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے تم میں سے کامل ایما والا اس وقت تک نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنے تمام رشتے ناطوں سے بڑھ کر ہماری ذات کو اپنا محبوب نہ بنالے اس حدیث مبارکہ کو سامنے رکھ کر زرا سوچیں کہ کیا حضرت ابو طالب علیہ السلام نے اپنے تمام رشتوں ناطوں سے بڑھ کر حضور بنی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو اپنا محبوب بنایا ہے کہ نہیں۔ تشریح: حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کےدس بیٹے تھے جن میں حضرت عبداللہ علیہ السلام آخری نمبر پر تھے اور سب بھایوں میں بہت زیادہ خوبصورت اور خوب سیرت تھے۔ ان کو انتقال آقا صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔ جب ہاشمی خاندان میں آقا صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی کفالت کا معلہ اٹھا تو حضرت عبدالمطلب علیہ السلام نے اپنے تمام بیٹوں کو اپنے سامنے بٹھایا اور ان سب کے دلوں پر روحانی نظر دوڑاءی اور حضرت ابو طالب علیہ السلام کو اپنے پاس بلا کر فرمایا: اے میرے بیٹے میں نے تیرے دل میں اپنے پوتے حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دیکھا ہے اس لیے اس کی کفالت تمہارے ذمے ہے اس دن سے حضرت ابوطالب علیہ السلام نے حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو اپنی کفالت میں لے لیا اور آقاصلیٰ اللہ علیہ وسلم کی پرورش شروع کردی ۔ آپ علیہ السلام کسی بھی وقت اپنے بھتیجے کو اپنے سے الگ نہیں کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی زوجہ حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا بھی آقاصلیٰ اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت کرتی تھیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ جب ان انقال ہوا توآقاصلیٰ اللہ علیہ وسلم ان کو دفن کرنے سے پہلے ان کی قبر مبارک میں لیٹے اور اپنی نورانی چادر ان کے کفن کیساتھ لگا کر انکو دفن کیا گیا۔ جب آقاصلیٰ اللہ علیہ وسلم کا اس دنیا میں ظہور ہو تو آقاصلیٰ اللہ علیہ وسلم کا نام محمدصلیٰ اللہ علیہ وسلم کس نے رکھا؟ آقاصلیٰ اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم حضرت عبدالمطلب اور حضرت البو طالب علیہ السلام نے تجویز فرمایا جبکہ آقاصلیٰ اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میرا نام محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم عرش معلیٰ پر نور کے ستر ہزار حجابات میں چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ اب جو ہستیاں اللہ تعالیٰ کے ستر ہزار نورانی حجابات میں سے آقاصلیٰ اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک اسم محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم نکال سکتی ہیں تو ان ہستیوں کی بزرگی اور شان و شوکت کا کیا عالم ہوگا۔

  • ضرت علامہ صاءم چشتی رحمتہ اللہ علیہ کا نام کتنے لوگ جانتے ہیں ؟ کیا ان کے کام کو علماۓ اہلسنت کی 1400 سالہ تحقیق کے مقابلے میں رکھا جاسکتا ہے جو ایمان ابوطالب کی شدت سے نفی کرتے آۓ ہیں۔ رہ گیا دنیا کی ہوس کا مارا طاہرالقادری جو منہاج القران کے نام پر فنڈز جمع کرکے ان کو اپنی سیاسی دکان چمکانے میں استعمال کرتا ہو اس کا کیا اعتبار ؟ --فوجدار 08:13, 8 ستمبر 2009 (UTC)
  • صائم چشتی اہل سنت کے مشہور عالم ہیں۔ اسی طرح طاہرالقادری بھی ایک مشہور عالم ہیں جن کو لاکھوں لوگ اچھا سمجھتے ہیں۔ اگر ان دونوں کے نظریات آپ سے نہیں ملتے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ برے ہو گئے۔ --سید سلمان رضوی 14:03, 8 ستمبر 2009 (UTC)
  • لاکھوں لوگ ؟ اسی لۓ اس کے جلسوں میں 100 سے زیادہ لوگ نظر نہیں آتے۔ مذہب روافض کے سوا کو‎ئی بھی حضرت ابوطالب کے ایمان لانے کا قائل نہیں۔ روافض کا زور بھی اسی وجہ سے ہے کہ امام کا باپ بھی عادل ہوتا ہے اگر ابوطالب کا ایمان مشکوک ہوجاۓ تو امامت کا سارا ڈھانچہ متزلزل ہوجائے گا۔

جہاں تک آقاصلیٰ اللہ علیہ وسلم کا نام محمد کس نے رکھا اس پر مورخین کا اتفاق راۓ حضرت ابو طالب کے نام پر نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا محترم حضرت عبدالمطلب کے نام پر ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کفالت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا محترم حضرت عبدالمطلب نے اپنی آخری سانسوں تک کی تھی نہ کہ آپ کے والد محترم کی رحلت کرجانے کے فورا ہی بعد اپنے بیٹوں کی کانفرنس طلب کرلی تھی۔ ہاں آپ کے دادا محترم کے وصال کے بعد حضرت ابو طالب نے آپ کی کفالت ضرور کی تھی ۔ بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی اور حضرت عباس کی پرورش کرکے یہ حق بھی ادا کردیا۔ دہ گيا کہ حضرت ابو طالب علیہ السلام نے اپنے تمام رشتوں ناطوں سے بڑھ کر حضور بنی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو اپنا محبوب بنایا ہے تو پھر کیا وجہ تھی کہ اپنی صاحب زادی ام ہانی کا رشتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کرنے کے بجا‎ئے وہب بن مخزومی نامی کافر سے کیا؟

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو دعوت اسلام دی تو آپ نے ‌فرمایا " اے بھتیجے ! میں اپنے باپ دادا کا دین اور جس پر وہ تھے (بت پرستی) نہیں چھوڑ سکتا ہاں البتہ میری موجودگی میں آپ کو کو‎ئی تکلیف نہیں پہنچ پائے گی۔ (جلد1 صفحہ 264 ، زکر اسلام علی، مطبوعہ بیروت 1355 ہجری)

  • یہ بت پرستی کا لفظ تو آپ کا اپنا اضافہ ہے۔ وہ اور ان کے آباء دینِ ابراہیمی پر عمل کرتے تھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کعبہ پر حملہ کے وقت حضرت عبدالمطلب کے کسی بت سے التجا کیوں نہ کی اور ابرہہ ہو یہ کیوں کہا کہ کعبہ کی حفاظت خود خدا کرے گا؟ اگر وہ اسلام کا اعلان کر دیتے تو اس طرح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حفاظت ممکن نہ ہوتی جیسا انہوں نے کی۔--سید سلمان رضوی 08:49, 9 ستمبر 2009 (UTC)
  • بہت خوب ! دین ابراھیمی پر عمل کعبے میں 360 بت رکھ کر کیا جاتا تھا ؟ یعنی آپ مانتے ہیں کہ حضرت ابو طالب نے اسلام کا اعلان نہیں کيا ؟ ہاں تاریخ میں حضرت عبدالمطلب کو ضرور موحد کہا گيا ہے۔ اعلان نبوت سے پہلے نہ تو کسی کو کا فر کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی مسلم ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اعلان نبوت کے بعد ہی کافر اور مسلم کا فرق واضح ہوا۔ اگر وہ دین اپراھیمی پر عمل پیرا تھے تو کیا رسول اللہ کیا ان کو کسی نئے دین کی دعوت دے رہے تھے ؟

ایمان حضرت ابو طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں ایک ناقابل تردید دلیل[ترمیم]

سبھی کا اس بات پر اتفاق ہے کہ:جناب ابو طالب علیہ السلام کی زوجہ اور جناب علی کرم اللہ وجہہ کی والدہ ماجدہ جنابہ فاطمہ بنت اسد ابتدا میں ہی اپنے ایمان کو ظاہر کر چکی تھیں وہ جناب ابوطالب علیہ السلام کے یوم وفات تک انکے گھر میں انکی زوجہ کی حیثیت سے قیام پذیر رہیں کیا ایک مومنہ ـــــ ایک مشرک کے ساتھ بحیثت زوجہ اس کے گھر میں رہ سکتی ہےیہ ہے وہ دلیل جس کا کوئی جواب نہیں۔ خادم اسلام اسرارالحق لاہور پاکستان

بیشک حق سچ Jahangiralian (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:05، 26 مئی 2021ء (م ع و)