تبادلۂ خیال:احمد رضا خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

Untitled[ترمیم]

  • وہاب صاحب کا لکھا ہوا ایک مضمون مولانا احمد رضاخان موجود ہے، ایک شخص پر دو مضامین کیوں ؟؟ سمرقندی
  • دنیا کی تمام لغات چھان ماریں مگر کہیں تسنیفات اور اکسر کے الفاظ کا مطلب نہیں ملا جو اس مضمون کی پہلی دو سطور میں لکھے گۓ ہیں، کسی دوست کو معلوم ہو تو ضرور بتایۓ۔ سمرقندی
اس مضمون کو حذف کر کے احمد رضا خان بریلوی نامی مضمون پر توجہ دی جائے۔ کیا خیال ہے؟ حیدر 04:41, 1 جنوری 2008 (UTC)

jawab[ترمیم]

  • As-salaamu Alaikum to the brother in faith, I had gone through your discussions. And it is the matter of proud for me that most people had visited this and commented. مولانا احمد رضاخان written by wahab sahib and احمد رضا خان بریلوی are also their but is not in a complete phase. Describing about an individual known as احمد رضا خان who is himself not only an individual but a complete academy, if you complete with only 10 to 15 sentence, it is not an honour to him. I had visited both pages but they are not complete. But my opinion is to cancel both the pages and continue only احمد رضا خان as an existing page. I had made this page with special care and INSHA ALLAH I will add some more information about this great personality of 14th century. Although some spelling mistakes are occurred. May Allah the almighty accept my work – Muhammad Aslam Razvi.

متاثر شخصیات میں مولانا محمد ارشد القادری کا نام بھی لکھ دیا جائے۔ ربط یہ رہا۔ http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%A7%D8%B1%D8%B4%D8%AF_%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%A7%D8%AF%D8%B1%DB%8C عبدالرزاق قادری Dear yes these comments are not complete about IMAM AHMED RAZA KHAN BRELVE but where you have read about "Abul Whab"? in these comments. no body have given the comment against Abdul Whab. i have too read these comments but i have no read any comments about AbdulWhab. please the manegment of WikiPedia dnt delete these comments and i have request you plese increase this knowledge by step by step for other pepoles.


--202.59.89.89 13:36, 23 مئی 2013 (م ع و)many thanks MOHAMMAD SHABBIR SHAIKH.

تبصرہ 28 فروری 2013[ترمیم]

.This is so full of Non-sense, this person is hardly a muslim 182.185.253.80 14:57, 28 فروری 2013 (م ع و)

اس کې وفات کا تاریخ تها ( ویطاف علیهم بآنیة من فضة واکواب)

Edit request on 2 اگست 2018[ترمیم]

احمد رضا خان
معلومات شخصیت
مذہب اسلام
فرقہ سنی
فقہی مسلک حنفی
مؤثر امام ابو حنیفہ، عبد القادر جیلانی، رومی، نقی علی خان، شاہ عبدالحق، فضل حق خیر آبادی
متاثر پیر سیف الرحمن مبارک،مصطفیٰ رضا خان، احمد سعید کاظمی، عبد العلیم صدیقی، مولانا شاہ احمد نورانی، محمد اختر رضا خان قادری، ضیاء الدین مدنی، محمد الیاس قادری، قمر الزمان اعظمى، محمد عبدالحکیم شرف قادری، محمد ارشد القادری، ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی
P islam.svg باب اسلام

مولانا احمد رضا خان، جو اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، حسان الہند جیسے القابات سے بھی جانے جاتے ہیں۔ احمد رضا خان 1272ھ -1856ء میں پیدا ہوئے۔ امام احمد رضا خان شمالی بھارت کے شہر بریلی کے ایک مشہور عالمِ دین تھے جن کا تعلق فقہ حنفی سے تھا۔ امام احمد رضا خان کی وجہ شہرت میں اہم آپ کی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں لکھے نعتیہ مجموعے اور آپ کے ہزا رہا فتاوی کا ضخیم علمی مجموعہ جو 30 جلدوں پر مشتمل فتاوی رضویہ کے نام سے موسوم ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں اہلسنت کی ایک بڑی تعداد آپ ہی کی نسبت سے بریلوی کہلاتے ہیں۔[1]

دینی علوم کی تکمیل گھر پر اپنے والد مولوی نقی علی خان سے کی۔ دو مرتبہ حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔ درس و تدریس کے علاوہ مختلف علوم و فنون پر کئی کتابیں اور رسائل تصنیف و تالیف کیے۔ قرآن کا اردو ترجمہ بھی کیا جو کنز الایمان کے نام سے مشہور ہے۔ علوم ریاضی و جفر میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ شعر و شاعری سے بھی لگاؤ تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں بہت سی نعتیں اور سلام لکھے ہیں۔ انہوں نے عربی، فارسی اور اردو میں ایک ہزار کے قریب کتابیں تصنیف کیں۔ بعض جگہ ان کتابوں کی تعداد چودہ سو ہے۔ ۔[2][3][4]

فاضل بریلوی[ترمیم]

اعلٰی حضرت فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خان صاحب علماء دیوبند سے بیحد عقیدت و محبت سے پیش آتے تھے Mahfuzhm (تبادلۂ خیالشراکتیں) 09:58، 10 جنوری 2019ء (م ع و)

  1. ابتدائی حالاتِ زندگی
  2. الکوکبۃ الشہابیۃ فی کفریات ابی الوہابیۃ ،1312ھ، مطبع اہلسنت بریلی و رضا اکیڈمی ممبئی (ستروجہ سے امام وہابیہ دہلوی پر لزوم کفر
  3. فتاوی الحرمین برجف ندوۃالمین 1317ھ، (عربی)، مطبع گلزار حسینی ومکتبہ ایایشیق استنبول (ندوۃ العلماء والوں کے عقائد اور ان پر فتاوائے حرمین
  4. الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ 1323ھ(عربی)، مطبح اہلسنت وجاعت بریلی، (الدولۃ والمکیۃ پر مصنف کا مبسوط حاشیہ فرقہ نیچریہ کا رد۔ یہ کتاب اعلیٰ حضرت نے مکہ مکرمہ میں اس وقت لکھی جب آپ سے علم غیب رسول کے بارے میں سوال کیا گیا بغیر کسی کتاب کی مدد کے زبانی طور پر یہ کتاب چند گھنٹوں میں تحریر ہوئی اور اس پر علمائے حرمین شریفین یعنی علمائے مکہ و مدینہ نے تصدیقات رقم کیں، یہ کتاب اردو ترجمہ کے ساتھ بھی متعدد بار طبع ہوئی ہے۔