تبادلۂ خیال:اعظم طارق (سپاہ صحابہ پاکستان)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Information icon4.svgیادہانی:اردو ویکیپیڈیا یا ویکیمیڈیا فاؤنڈیشن کا، صارفین کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

براہ مہربانی متنازع موضوعات پر تبادلۂ خیال کرتے وقت تہذیب و شائستگی کا مظاہرہ کریں، فرقہ وارنہ گفتگو سے گریز کریں اور اپنی رائے کو شستہ الفاظ میں پیش کریں، نیز تاریخی واقعات کو فیصلہ کن انداز میں غلط یا درست قرار دینے کے بجائے غیر جانبداری کے ساتھ بیانیہ انداز میں تحریر کریں۔ خیال رہے کہ یہاں مذہبی، سیاسی اور تاریخی موضوعات میں فریقین اور بنیادی/ثانوی/ثلثی مآخذ سے استفادہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، چناں چہ اگر اس مضمون میں محض ایک نقطہ نظر بیان کیا گیا ہے تو اسے جانبدار باور کرنے کے بجائے آپ دوسرا نقطہ نظر با حوالہ شامل کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ویکیپیڈیا پر کسی بھی طرح کی جانبداری کو تخریب کاری سمجھا جاتا ہے۔


Untitled[ترمیم]

مجھے تو یہ مضمون متنازعہ لگ رہا ہے۔ پروپیگنڈا کے زمرہ جات میں ڈال دیں؟ ‭~~Urdutext‬
اس مضمون كے متنازعه هونے ميں تو كوئى شكـ نهيں مگر اس كيا كيا جائے ؟ كسى بهى مضمون كو حذف كرنے كے تو ميں كبهى بهى حق ميں نهيں رها ـ كيونكه تحرير كو رەنا چاهئے جيسى بهى هو كه مستقبل كے پرهنے والوں كو اس دور كى تاريخ مرتب كرنے ميں مدد ملے گي ـ پروپیگنڈا کے زمرے ميں ڈالنے كا خيال بهى اچها هے ـ  خاورkhawar

اگر شخصیت متنازعہ ہو تو مضمون کا متنازعہ ہونا ناگزیر ہے۔ بہر حال میں نے کوشش کی ہے کہ زیادہ متنازعہ حصہ شامل نہ کیا جائے ۔ جہاں جہاں آپ بہتر سمجھیں ترامیم کر دیں۔ جن باتوں پر آپ کو اعتراض ہے نشاندہی فرما دیں۔

حیدر 15:35, 10 جون 2006 (UTC)

متنازعہ[ترمیم]

تمام فرقے ایک دوسرے کو متنازعہ کہتے ہیں۔ متنازعہ سوچ پر پرکھا جائے تو شاید ہی کوئی مضمون سلامت بچے۔ مثلاً ایک فرقے کو موقع فراہم کیا جائے کہ آپ اپنی مطلوبہ شخصیت کو متنازعہ بنائیں تو فوراً حوالوں پر حوالے اب اسی شکصیت کے حامی فرقے کو کہا جائے کہ اسے صحیح ثابت کیجیے تو بھی اس کے حق میں حوالے پیش کریں گے۔۔۔۔ اس صورت میں متنازعہ کو ہٹا دیا جائے گا۔ آپ دیکھ لیجیے مرزا غلام احمد قادیانی کے حق میں بولنےوالے اور خلاف بولنے والوں کے پاس بے شمار حوالے ہیں۔ اب دونوں میں کس کو اجازت دیں گے۔

اس مضمون كى علمى حثيت ميں تو كوئى كمى نهيں مگر يه اعظم طارق صاحب كى سوانح سے ذياده مذهبى گروهوں كى باتوں اور حكومتى حركتوں كى معلومات كے قريب هے ـ باقى جيسا آپ بەتر سمجيں ـ ميرى يه بات ايكـ رسمى سا تبصره هے ـ سنجيدگى سے لينے كى ضرورت نهيں ـ مستقبل ميں اگر كوئى بەتر آئيڈيا هوا تو حالات كے مطابق تراميم كر ليں گےـ خاورkhawar

آپ کی بات ٹھیک ہے۔ اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے مجھے جو معلومات میسر آئیں میں نے بیان کر دیں۔ کوئی بھی مضمون کبھی بھی مکمل نہیں ہوتا۔ ترمیم کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ اس مضمون کا بنیادی مقصد اعظم طارق کا ایک مختصر لیکن جامع تعارف پیش کرنا ہے۔

حیدر 23:03, 10 جون 2006 (UTC)

ویسے حیدر میرے خیال میں اعظم طارق ساری زندگی جس مقصد کے لیے کوشاں رہا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں میں نفرت کے بیج بو کر انہیں فرقوں کی بنیاد پر آپس میں لڑا دیا جائے۔ لیکن کیا ایسے مضمون سے اس مقصد کو مزید ہوا نہیں ملتی۔ اس طرح سے تو کوئی دوسرا اس سائیٹ پر سپاہ محمدیہ کے حوالے سے مواد شامل کرنے لگے گا اور پھر وہی فضول فرقہ وارانہ بحث جس نے ہماری نسلیں تباہ کردیں ہیں۔ اس لیے ایسے متنازعہ مضمون کی یہاں اشاعت مجھے ایک اچھا اقدام نہیں لگتا۔ Wahab

میرا نہیں خیال کہ اس مضمون میں کسی بھی قسم کا غلط مواد موجود ہے۔ یہ مواد نفرت انگیز ہے یا نہیں، یہ پڑھنے والے پر منحصر ہے۔ کوشش کی گئی ہے جو سچ ہے اور ثابت ہے وہی بیان کیا جائے۔ اس میں کسی بھی گروہ کی حمایت یا مخالفت نہیں کی گئی۔ ہم کسی بھی شخص، فرقے یا گروہ سے ڈر کر کسی مضمون کو وکیپیڈیا پر شامل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ انسائیکلوپیڈیا کا مقصد ہے سچ میٹھا ہو یا کڑوا جیسا ہو ویسا بیان کیا جئے، بغیر کسی تعصب کے، اور صرف علمی اور معلوماتی مقاصد کیلیے۔

حیدر 19:43, 27 جون 2006 (UTC)


سو بات کی ایک بات چنیوٹی رکشہ ڈرائیور " اعظم طارق" ضیاالحق کے حکم پر آئی ایس آئی کی ہدایت اور نگرانی میں سپاہ صحابہ کا جرنیل بنا اور فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کی خصوصی عنایت سے پارلمنٹ تک پہنچا اور پھر جب کام نکل گیا تو اس کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو اس کے پیشرو جرنیلوں کا ہوچکا تھا۔ حق نواز جھنگوی، ایثار القاسمی، ضیاالرحمن فاروقی، اعظم طارق مرتے دم تک یہی سمجھتے رہے کہ وہ شیعہ کشی اپنے عقیدے اور مذھب کی بنیاد پر از خود کر رہے ہيں، حالانکہ اس کے پیچھے یہود و ہنود کا دماغ کام کر رہا تھا، امریکہ کے تربیت یافتہ اور سی آئي اے کی نگرانی میں کام کرنے والے آئی ایس آئی کے شراب خور اور بے دین افسران اپنے اوپر ملاّئیت کا لبادہ اوڑھے سپاہ صحابہ کو چلاتے رہے، رکشہ ڈرائیوروں کو پجیرو اور درجنوں محافظوں کا جھانسہ دے کر سی آئی اے کے مفادات کو پورا کرواتے رہے اور اب بھی یہ کام کیا جا رہا ہے۔ کام لے ٹھکانے لگانے کی پالیسی آئی ایس آئی کا ایک ایسا حربہ ہے کہ جو اسے سی آئی اے نے سکھایا ہے، اس حربے کی وجہ سے کبھی بھی آئی ایس آئي یا سی آئي اے پر دہشت گردی کو پروان چڑھانے کا الزام عاید نہیں کیا جاسکتا، کیوں کہ کام لو اور ٹھکانے لگادو کی پالیسی پر عمل درامد کے ذریعے "اعظم طارق" جیسے احمق افراد سارے راز اپنے سینے میں لے کر واصل جہنم ہوجاتے ہيں اور آئی ايس آئی کے افسران کی ڈيوٹیاں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ اس وقت اورنگزیب لغاری پر ایک ایک دن بھاری گزر رہا ہے، نہ جانے کب، کہاں اور کس سڑک پر اس کا نجس خون بہادیا جائے اور پھر مرگئے مردود جن کی فاتحہ نہ درود۔۔۔ اب بھی وقت ہے کہ اورنگزيب لغاری اپنی اور اپنے پیشرو سپاہ صحابہ کے جرنیلوں کی زندگی کا تہنائي میں مطالعہ کرے اور یاد کرے کہ کتنے بچوں کو یتیم کیا کتنی خواتین کے سہاگ اجاڑے اور کتنی ماؤں کو جوان بیٹوں کی خون آلود لاشوں کا تحفہ دیا۔ سوچے کہ نتیجہ کیا نکلا، نہ شیعہ کم ہوئے نہ عزادری رکی، بلکہ نواسہ رسول کاغم منانے والے ساری دنیا میں پھیلتے جار رہے ہيں، شام اور عراق ميں تمھاری سرپرستی کرنے والوں کو منہ کی کھانا پڑی، تمھارے سرپرست ٹرمپ کے بقول اگر امریکہ حمایت نہ کرے تو دو ہفتے بھی اقتدار کے ایوانوں میں نہيں ٹہر سکتے۔ پس اپنے رب سے سیکڑوں بے گناہ انسانوں کے قتل پر توبہ کرو، شاید تمھاری آخرت سنور جائے۔

آپ[ترمیم]

آپ کیا سمجھتے ہیں کہ جس انداز مین آپ گفگو کر رہے ہیں اس کو مضمون میں شامل کر دیا جائے۔ یہ ویکیپیڈیا ہے۔ میں پہلے بھی بات کرچکا ہوں کہ متنازعہ تحاریر کو ہٹا دیا جائے۔ سپاہ صحابہ کے نزدیک اعظم طارق بہت ہی عزیز ہیں۔ اسی طرح اہل تشیع کے ہاں مختلف شخصیات بہت عزیز ہیں۔ اگر دونوں سوچوں کے حاملین کو موقع دیں تو دلائل کے انبھار لگا دیں گے کہ ہم اچھے اور وہ برے۔۔۔ تو۔۔۔ اس صورت میں بہتر حل یہی ہے کہ دونوں نہیں بلکہ ہر جگہ سے متنازعہ گفتگو کو ختم کیا جائے اور صرف تعارف کی حد تک رہا جائے۔۔۔ کوئی یہ کہے کہ تعارف ہی تو ہے جو بے شک متنازعہ ہو تو ۔۔۔۔ میں تھوڑی سی تعارف کے متعلق وضاحت کیے دیتا ہوں کہ نام، مادر علمی، عمر، تاریخ وفات، کہاں کہاں رہائش رہی، وفات کہاں ہوئی، تھوڑے بہت انتشاری گفتگو سے بالا تر حالات زندگی وغیرہ وغیرہ آج اگر آپ اس طرح کا کام کرتے ہیں تو کل کو آپ کی سوچ میں اچھی شخصیات کو بھی اسی طرح کے تحریروں سے نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔۔۔۔ ہمارا مقصد فرقہ بندی و واریت کو ختم کر کے ایک بین الاقوامی سطح پر اپنے کو لے کے جانا ہے/````

جواب[ترمیم]

تمہاری بات میں وزن ہے لیکن میرا مطلب صرف یہ تھا کہ بہت سے سادہ لوگوں کے ذہن میں اعظم طارق ایک بہت بڑے عالم اور شہید ہیں اب ان کا کیا کیا جائے۔ اور ایسے لوگوں کا ردعمل تم جانتے ہو جواب میں فضول قسم کا لٹریچر۔ جس سے سپاہ صحابہ کے رسالے بھرے پڑے ہیں۔ یار اور بھی تو بہت سی شخصیات ہیں جن پر لکھا جاسکتا ہے۔ ایسی شخصیات پر لکھنا جو ایک تنازعے کا باعث ہوں اچھا نہیں۔ ویسے میں کوئی نصحیت نہیں کر رہا اپنا نقطہ نظر بیان کر رہا ہوں۔

جواب الجواب[ترمیم]

یہ مضمون میں نے دو وجوہات کی بنا پر لکھا۔ پہلی وجہ ایک سربستہ راز ہے اور دوسری وجہ یہ کہ یہ مضمون چھوٹا تھا اس لیے لکھا۔ جب شخصیات پر مضامین کی تعداد بڑھ جائے گی تو یہ مضمون محض ایک مضمون ہو گا۔

ویسے ایک بات قابل غور ہے۔ اعظم طارق کے پیروکار تمام جدید ذرائع مواصلات کو حرام اور ان کے استعمال کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ کیا وہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوں گے؟ :-)

حیدر 20:06, 27 جون 2006 (UTC)


No one else has yet tried to edit the article, yet it has been put under protection! Without user input a balanced viewpoint cannot be achieved. At this moment, may be no one else is interested in cobtributing to it, but this does not mean that ur.wikipedia should have lopsided articles. Even in face of vandalism, the en.wiki uses partial protection at first. IMO, the article does not meet the wikipedia 'neutral POV' standard. A biography of a person should state the biographical facts in the main. Accusations and innuendos from 'special interest groups (SIG)' and 'questionable sources' should be releagted to a separate section. In this case, the person was a sitting MP, not convicted of any allegations. The last section of the article goes on to spread unwarranted accusations about other MP's. Personal opinions or the opinions of SIG's are suited to personal blogs or the SIG's sites, not the wikipedia. Extreme viewpoints invite extreme reactions. This is setting up ur.wiki for vandalism. No amount of protection will help. Enraged readers are likely to vent their anger by trashing other sections of ur.wiki. I would therefore request removal of the article or rewriting it to present a balanced POV. --Urdutext 23:27, 27 جون 2006 (UTC)

Removal is not a solution. Others have to come forward to make it better without any bias. You have extensively referred to different terminologies and customs of en.wikipedia. I happen to do the same thing. This article is almost exact translation of article at en.wikipedia. Mostly I don't have enough time for wide research on any article. Therefore, I translate almost randomly selected articles from English to Urdu Wikipedia. I had banned the editing of this page because personalities like Azam Tariq attract a host of extreme emotions, both positive and negative. I wanted to prevent any further vandalization. I decided to keep the references to Sajid Naqvi to remove any hint of anti-Azam Tariq bias.

I have already stated that this, by no means, is any comprehensive or standardised article and it needs a lot of modifications.

Any constructive modifications are always welcome.

حیدر 11:07, 28 جون 2006 (UTC)

حیدر بھائی، آپ اس طرح سے کسی بھی مضمون کو پروٹیکٹ نہیں کرسکتے۔ آپ کو پروٹیکٹ کرنے یا محضوظ کرنے کا حق صرف تب ہے جب کوئی شخص بلا دلیل کے ترمیم کرتا جاۓ یا کوئی صفحہ وینڈلزم کا شکار ہو۔

باقی وکیپیڈیا کے لیے آپ کی راۓ اور ایک عام شخض کی راۓ ایک برابر ہے۔ اگر کسی شخص کو اختلاف ہو تو وہ حوالہ دے کے ثابت کرے۔

آپ ایسا مضمون کبھی بھی نہیں لکھ سکتے جس سے ہر فریق راضی ہو، مگر کم از کم یہ کرسکتے ہیں کا دونوں فریقوں کی راۓ لکھ دیں۔


فی الحال آپ کو چاہے کو اس مضمون کو غیر محفوظ کریں، اگر مستقبل میں کوئی اختلاف ہوتا ہے نبٹ لیں گۓ۔(ویسے انگریزی وکی پیڈیا پر مضمون ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ غیر جانبدار مضمون ہو)۔

مجھے امید ہے کہ آپ کو میری باتیں بری محسوس نہیں ہونگی۔ سیف اللہ 16:03, 28 جون 2006 (UTC)

سیف اللہ بھائی، میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں۔ میں ذرا ضرورت سے زیادہ محتاط ہو رہا تھا جو شاید بے جا تھا۔

انگریزی وکیپیڈیا کا حوالہ دینے کا مقصد یہ واضح کر دینا تھا کہ اگر یہ مضمون متنازعہ یا جانبدار ہے تو اس میں میرا کوئی ارادہ شامل نہیں۔

صرف ‍قتل کے پہلے پیرے میں قتل کی تفصیلات میں نے خود شامل کی ہیں۔ مکمل تفصیل بیرونی روابط میں "آنکھ کے بدلے انکھ" پر کلک کر کے دیکھی جا سکتی ہے۔

Note to contributors[ترمیم]

The article mainly presents one point of view on the subject. You are welcome to contribute other viewpoints in accordance with the wikipedia policy of en:Wikipedia:Neutral_point_of_view. This does not mean that you can delete opposing viewpoints. You can however restructure the article in order to make the discussion with different viewpoints more coherent. --Urdutext 23:56, 28 جون 2006 (UTC)

I would, however, like to make some modifications in the template that you have added to the article. حیدر 01:09, 29 جون 2006 (UTC)

مشکوک اور غیر جانبدار[ترمیم]

اوپر مشکوک کا سانچہ پڑا ہے اور نیچے زمرہ جات میں غیر جانبدار مضامیں لکھا ہے۔۔۔۔؟؟؟!!!


غیر جانبدار[ترمیم]

میں نے کوشش کی ہے کہ مضمون کے متنازعہ ہونے کا حوالہ ہی ختم کر دیا جائے۔ اور یوں اس مضمون کو سیاسی سے زیادہ سوانحی کر دیا ہے۔ ہاں جہاں پر حقائق کو سامنے لانا ضروری تھا وہاں اس پر بھی بات کی ہے لیکن ایک غیر جانبدار قاری کی حیثیت سے۔

بہت خوب۔ اب مضمون علمی لگ رہا ہے۔

--Urdutext 20:48, 19 اگست 2006 (UTC)

Dear Urdutext[ترمیم]

Thank you for the messsage. I dont know this man Azam Tariq in detail. I was writing that day and by chance an article about him came before me and I read that and mentioned.

Pakistan has taken enough dose of religious extremism and we should not tolerate such persons. My stand about him is the unfair attitude about him in the article. The article is about him and we are not informed about his main ideas.

According to the article he is educated accepts democratic norms has won prvincial and national elections. He is not proved guilty in any court. Than why such an insulting tone and whole paragraphs about him? His only crime that is mentioned in the article is his speech against a sect and he was killed due to this.

It is simply rude and bad manners to talk against any sect in public but he should be brought in the court. It is a bigger crime to kill him violently. Urdu wikipedia instead of accusing his killers celebrated his death. and in other words praised such killings. It really chilled my body. Any body can kill me if I give my opinions that are not liked by some people.

I think it is against the fundamental right of free speech.

Sincerely, Khalid Mahmood

تنقید[ترمیم]

تنقید ضرور کی جا سکتی ہے۔ لیکن گالی گلوچ اور ناشائستہ زبان استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔

ادارہ ویکیپیڈیا

اصولی نقطہ نظر[ترمیم]

مجھے ان الفاظ سے بہت دکھ ہوا کہ “ضروری ہے کہ متنازعہ شخصیت پر ہی لکھا جائے“
جناب من اگر یہی بات ہے تو اعظم طارق کے رفقاء کے نزدیک بھی یہ مضمون شدید تنقیدی الفاظ پر مشتمل ہے تو اس مضمون کو پڑھ کر مدمقابل کی سوچ نظر آتی ہے جبکہ انکے رفقاء کی نہیں تو اس مضمون کو متنازعہ نہ بنانے کیلئے یا تو ترمیم کی اجازت دی جائے یا مضمون کو خذف ہی کر دیا جائے۔؟؟؟؟؟؟؟؟

درخواست[ترمیم]

اس مضمون کو پڑھ کر غیر جانبداری کی کوئی شق نظر ہی نہیں آتی جبکہ میری رائے کے مطابق مولانا اعظم طارق کی جائے پیدائش،وفات،کہاں سے علم حاصل کیا،کس تنظیم کے سربراہ رہے،مڈہب،مسلک،اور دیگر غیر منازعہ قسم کی معلومات چھاپ دی جائیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ یہ درخواست ویکیپیڈیا ٹیم سے ہے جو بعد میں کسی کو بھی ترمیم کی اجازت نہ دے۔۔۔۔۔

ابتدائیہ[ترمیم]

ابتدائیہ لکھنے کی ضرورت ہے۔--محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 13:39, 5 اکتوبر 2015 (م ع و)

توجہ طلب[ترمیم]

یہ مضمون توجہ طلب ہے۔--علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 14:21, 7 اکتوبر 2015 (م ع و)

میں کیا کروں، جس کو جس کام سے روکو وہ اسی کو کرنے لگ جاتا ہے، مضمون کو بدلتے بدلتے اتنا بدل دیا گيا کہ اب پتا ہی چل رہا تھا کہ یہ کون سے اعطم طارق پر مضمون ہے، جب کہ ایک شخص جانا ہی فرقہ واریت اور شیعہ مخالف کے طور پر ہے تو اس کا تو ذکر کرو۔ آخر کس بنا پر اسے ساری زندگی مصائب کا سامنا رہا، اس کا ذکر کیسے کیا جائے، میں نے مضمون کو پرانے مواد سے بدل دیا اے۔ اسے دیکھ کر مزید درست کر دیا جائے، ایسی شخصیات کے مضامین میں جہاں کہیں اس کی شخصیت کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہو۔ فوری عمل کیا جانا چاہیے، تبادلۂ خیال میں وضاحت ضرور کیا کریں کہ، کیا مسئلہ ہے۔--Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 16:04, 7 اکتوبر 2015 (م ع و)

مضمون اعظم طارق کے بابت آپ نے استرجع کر کے اس کے تبادلہ خیال میں وجہ بیان کی کہ مصائب و آلام اور جسکی شخصیت پہچانی ہی شیعہ مخالف جاتی ہو۔ اسے مبہم نہ رکھا جائے۔
بات تو ٹھیک ہے۔۔۔ جس مضمون میں کو آپ دوبارہ واپس لے کے آئے ہیں اس میں فرقہ واریت تو کجا تخریب کاری صاف طور پر ظاہر ہے۔ جو عام سے بندے کو بھی پتا چلتی ہے۔

  1. اگر یہ شضصیت شیعہ مخالف ہے تو مضمون روح اللہ خمینی کی شخصیت تو صحابہ مخالف ٹھہری، مکہ مدینہ پر انکی طرف سے قبضے کی صاف گوئی کو جب اس مضمون میں درج کیا تو آپ کہنے لگے یہ فرقہ واریت ہے جسے ہم قابو نہ کرپائیں گے۔ خمینی کی شخصیت پر انہیں کے چند اقوال پیش کیے گئے اس کے علاوہ بہت نہیں بے شمار ایسے حوالے جو کسی مولوی، مفکر یا دانا نہیں بلکہ انہی کی زبانی ہیں پیش کردیئے جائیں تو آپکے پیمانے پر وہ اسلام مخالف ٹھہرتے ہیں تو آپ اسے فرقہ واریت کہ کر حذف کر دیتے ہیں۔
  2. احمد نثار سے گفت و شنید کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ


اس میں بے شک با حوالہ گالیاں شامل کریں، مگر یون لکھا جائے کہ ےلاں نے یہ کہا، یہ الزام لگایا۔ 


تو خمینی صاحب کو کسی نے گالیا نہیں دی تھیں نلکہ انہیں کے اقوال پیش کیئے تھے جن میں حضرت عمر پر کفر کا فتویٰ انہوں نے اپنی زبانی لگایا جسے آپ بھی تسلیم کرتے ہیں۔
محترم آپ کو خمینی صاحب کا تحفظ تو نظر آتا ہے مگر کسی سنی عالم پر مجال ہے اعظم طارق کے لیے اپنے اصولوں کے مطابق ہی نرم گوشہ رکھتے ہوں
آپ کو اعتراض ہے تھا تو صارف منتظم “نقی علی“ کے تبادلہ خیال پر میری وضاحت بھی تو دیکھ لیتے۔ کس طرح استرجع کیا آپ نے۔
ٹھنڈے دماغ سے میرے نکات ذہن میں رکھ کر جواب مرحمت فرمائیں:
اسکے علاوہ آپ اپنے دوسرے خودکار نام Obaid bot سے آکر اسی مضمون اعظم طارق میں “پاکستان میں دہشت گردی“ کے زمرے شامل کرتے ہیں۔
--ترویج اردو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 17:07, 7 اکتوبر 2015 (م ع و)

اعظم طارق آئی ایس آئی کی مدد و حمایت سے دہشت گردی کرتا رہا اور سر انجام اسے بھی ٹھکانے لگادیا گيا، وہ جنیوٹ میں رکشہ ڈرائیور ہوا کرتا تھا اور اسے کے بعد روزی روٹی کی تلاش اسے کراچی لے آئی جہاں سے وہ تخت اقتدار سے تختہ دار پر پہنچا، یعنی سرکاری ایجنسیوں نے ماورائے عدالتی حق کا استعمال کرتے ہوئے ایک مناسب وقت پر اسے ٹھکانے لگادیا۔۔۔سو بات کی ایک بات چنیوٹی رکشہ ڈرائیور " اعظم طارق" ضیاالحق کے حکم پر آئی ایس آئی کی ہدایت اور نگرانی میں سپاہ صحابہ کا جرنیل بنا اور فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کی خصوصی عنایت سے پارلمنٹ تک پہنچا اور پھر جب کام نکل گیا تو اس کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو اس کے پیشرو جرنیلوں کا ہوچکا تھا۔ حق نواز جھنگوی، ایثار القاسمی، ضیاالرحمن فاروقی، اعظم طارق مرتے دم تک یہی سمجھتے رہے کہ وہ شیعہ کشی اپنے عقیدے اور مذھب کی بنیاد پر از خود کر رہے ہيں، حالانکہ اس کے پیچھے یہود و ہنود کا دماغ کام کر رہا تھا، امریکہ کے تربیت یافتہ اور سی آئي اے کی نگرانی میں کام کرنے والے آئی ایس آئی کے شراب خور اور بے دین افسران اپنے اوپر ملاّئیت کا لبادہ اوڑھے سپاہ صحابہ کو چلاتے رہے، رکشہ ڈرائیوروں کو پجیرو اور درجنوں محافظوں کا جھانسہ دے کر سی آئی اے کے مفادات کو پورا کرواتے رہے اور اب بھی یہ کام کیا جا رہا ہے۔ کام لے ٹھکانے لگانے کی پالیسی آئی ایس آئی کا ایک ایسا حربہ ہے کہ جو اسے سی آئی اے نے سکھایا ہے، اس حربے کی وجہ سے کبھی بھی آئی ایس آئي یا سی آئي اے پر دہشت گردی کو پروان چڑھانے کا الزام عاید نہیں کیا جاسکتا، کیوں کہ کام لو اور ٹھکانے لگادو کی پالیسی پر عمل درامد کے ذریعے "اعظم طارق" جیسے احمق افراد سارے راز اپنے سینے میں لے کر واصل جہنم ہوجاتے ہيں اور آئی ايس آئی کے افسران کی ڈيوٹیاں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ اس وقت اورنگزیب لغاری پر ایک ایک دن بھاری گزر رہا ہے، نہ جانے کب، کہاں اور کس سڑک پر اس کا نجس خون بہادیا جائے اور پھر مرگئے مردود جن کی فاتحہ نہ درود۔۔۔ اب بھی وقت ہے کہ اورنگزيب لغاری اپنی اور اپنے پیشرو سپاہ صحابہ کے جرنیلوں کی زندگی کا تہنائي میں مطالعہ کرے اور یاد کرے کہ کتنے بچوں کو یتیم کیا کتنی خواتین کے سہاگ اجاڑے اور کتنی ماؤں کو جوان بیٹوں کی خون آلود لاشوں کا تحفہ دیا۔ سوچے کہ نتیجہ کیا نکلا، نہ شیعہ کم ہوئے نہ عزادری رکی، بلکہ نواسہ رسول کاغم منانے والے ساری دنیا میں پھیلتے جار رہے ہيں، شام اور عراق ميں تمھاری سرپرستی کرنے والوں کو منہ کی کھانا پڑی، تمھارے سرپرست ٹرمپ کے بقول اگر امریکہ حمایت نہ کرے تو دو ہفتے بھی اقتدار کے ایوانوں میں نہيں ٹہر سکتے۔ پس اپنے رب سے سیکڑوں بے گناہ انسانوں کے قتل پر توبہ کرو، شاید تمھاری آخرت سنور جائے۔