تبادلۂ خیال:الیاس (اسلام)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سورہ الصافات کی آیت ۱۳۰ میں ال یاسین قر آن ِ کریم میں تحریف کر کے لکھا گیا ہے۔ یہ لفظ اصل میں الیاسین یعنی الیاس کی جمع جس کا مطلب بہت سے الیاس ہیں۔ شیعہ حضرات اس سے اپنے آپ کو مراد لیتے ہیں اور سنی علمااس کا تر جمہ اور تفسیر وا حد الیاس کر تے ہیں۔گو یا دونوں د ھڑوں کو معلوم نہیں کہ یہاں کیا کہا جا رہا ہے۔ اگر غور کیا جا ئے تو عہد نامہ قدیم اور جدید دو نوں میں ہی حضرت یحییی علیہ السلام کی دو با رہ پیدائش بطو ر حضرت الیاس علیہ السلام اور پھر حضرت الیاس علیہ السلام کے کیئ بار پیدا ہو نے کے حوالے ملتے ہیں۔ انجیل میں ایسے حوالے بھی ملتے ہیں جن سے یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ لوگ حضرت عیسیی علیہ السلام کو بھی حضرت الیاس علیۃ السلام کی دو بارہ پیدائش ہی سمجھتے تھے۔قر آن الیاس کی جمع الیاسین کہ کر حضرت الیاس علیہ السلام کی پیدائش جتنی بار بھی ہو ئی ہے اس کو تسلیمکر تے ہوئے ان کی عزت افزائی کر تا ہے۔قر آن تو بار بار موت کے بعد دو بارہ پیدائش کا ذکر کر تاہے مگر چونکہ ہما را نظریہ آخرت قر آنی نظر یہ آخرت سے مطابقت رکھنے کی بجائے یہو دیوں اور عیسائیوں کی تقلید کر تے ہو ئے ایک ہی پیدائش کو ما نتا ہے اس لئے ہم الیاسین کا لفظ سمجھنے سے قا صر ہیں۔ ڈاکٹر کاشف خان مزید معلومات کے لیے ۰۰۴۴۷۹۳۰۲۳۵۳۰۳ پر فون لر سکتے ہیں یا اپنے ای میل کے ساتھ پیغام چھوڑ سکتے ہیں تا کہ آپ کو مکمل مضمون ارسال کیا جا سکے۔ (2.26.233.101 22:56, 2 اپریل 2014 (م ع و)) kashif-khan@hotmail.co.uk (2.26.233.101 23:01, 2 اپریل 2014 (م ع و))

جوابات[ترمیم]

1[ترمیم]

ہمیں معلوم نہیں کہ آپکا قرآن کونسا ہے۔ ہمارے قرآن میں کوئی تحریف نہیں ہے۔

سورة الصافات آیت ۱۳۰ : سَلَامٌ عَلَىٰ إِلْ يَاسِينَ

--طاہر محمود (تبادلۂ خیال) 11:13, 3 اپریل 2014 (م ع و)

2[ترمیم]

کوئی مسلمان یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ قرآن کریم میں تحریف کی کئی ہے، اگر قرآن کریم میں تحریف کر کے الیاسین کا ال یاسین کیا گیا ہے تو پھر اس کی حفاظت کے دعوے والی آیت کا کیا مطلب؟ ہاں اس بات سے اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ فلاں لفظ کا اصل مطلب یہ ہے، وہ نہیں، مگر یہ دعویٰ کوئی مسلمان نہیں کرتا کہ قرآن میں ہی تحریف ہو گئی ہے۔ ال یاسین حضرت الیاس کا ہی دوسرا نام ہے، یا یوں کہہ لیں کہ دوسرا تلفظ ہے، اہل عرب میں عبرانی ناموں کے لیے مختلف تلفظ رائج تھے، ابراہیم، ابراہام ایک ہی شخصیت ہے، میکال، میکائل اور میکائین ایک ہی فرشتے کا نام ہے، قرآن کریم میں ہی ایک ہی پہاڑ طور سینا کو طور سینین کے طور پر بھی لکھا گیا ہے۔اسرائیل اور یعقوب ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں۔ ذوالقرنین کو کئی لوگ مختلف اشخاص سے جوڑتے ہیں،مودودی کے مطابق وہ سائرس اعظم تھا ، اور محمد اکبر کے مطابق حضرتسلیمان علیہ السلام۔ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں کہ قرآن کو ہی تحریف شدہ قرار دے دیا جائے۔اگر ایسا ہے تو آپ اصل قرآن دیکھائیں، اپنی عقل کے گھوڑے نہ دوڑآئیں کہ ایسا ہے اور ویسا ہے، (ameen.akbar@gmail.com)امین اکبر (تبادلۂ خیال) 10:51, 4 اپریل 2014 (م ع و)

3[ترمیم]

بے شک قرآن میں کوئی تحریف و شک نہیں۔ اور یہ بات بھی غلط ہے کہ الیاسین ،الیاس کا جمع ہے۔ یہ اصل میں الیاس علیہ السلام کا دوسرا نام ہے جو آپ کے لئے خدائے عالم نے استعمال فرمایا ہے۔ اور اسی طرح پہلے زبانوں میں کہیں نام ایسے تھے جو کہ عربی زبان میں بیان نہ کی جاسکے مثلاً ترگم عبرانی کا لفظ ہے لیکن عربی میں اسے ترجم لکھا اور پڑھا جاتا ہے کیونکہ عربی میں ’’گ‘‘ نہیں ہے۔ اسی طرح چترنگ ایک ہندوستانی کھیل کا نام ہے جس کو عربی میں ’’شطرنج‘‘ کہا جانے لگا اور بعد میں یہی اس کا نام بن گیا۔تو الیاسؑ کے بھی اپنے دور کے مطابق کہیں نام ہوسکتے ہیں لیکن الیاس اور الیاسین عربی زبان کا متوازن لغوی لفظ ہے۔

Animalibrí.gif

خیرخواہ عثمان 19:40, 5 اپریل 2014 (م ع و)

جاوید احمد غامدی-- سلامتی ہو عظمتوں والے الیاس پر۔اصل میں لفظ ’اِلْ یَاسِیْنَ‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ ’اِلْیَاس‘ کی جمع ہے، جیسے ’طُوْرِ سِیْنِیْنَ‘ طور سینا کی جمع ہے۔ عربی زبان میں جمع تعداد کے لیے بھی آتی ہے، وسعت اطراف کے لیے بھی اور کسی شخص یا چیز کی عظمت بیان کرنے کے لیے بھی۔ ہمارے نزدیک یہاں یہ بیان عظمت کے لیے آئی ہے۔[ترمیم]

101.53.240.81 11:52، 17 اکتوبر 2018ء (م ع و)aaa