تبادلۂ خیال:انجمن اصلاح قوم ڈھونڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اٹھارویں عیسوی کے دوران خونخوار سکھا شاہی کے دوران جوں جوں کوہسار کے قبائل پر مظالم میں اضافہ ہو رہا تھا توں توں وہ بھی ایسی ہر ہر جدوجہد اور کوشش کا ہراول دستہ بن کر آگے بڑھے جو اس طوفان بد تمیزی کیخلاف کوہسار میں کہیں بھی شروع ہوتی ۔ اہلیان کوہسار نے خانوادہ ٰٰٰٰحضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے دو مجاہدین سید شاہ اسماعیل شہید اور سید احمد شہید کی قیادت میں آخری معرکہ سر کیا اور سرکل بکوٹ سے مری اور لورہ تک جگہ جگہ شہر خموشاں آباد کئے ۔ اس کے بعد آخری کوشش معرکہ مری کی صورت میں 1857میں سردار شیر باز خان شہید کی قیادت میں کی گئی اور ایک نسوانی ٹیکنیکل غلطی کے سبب اہلیان کوہسار کے آج کیلئے ہمارے بزرگوں اور مجاہدین نے نہ صرف اپنا کل قربان کیا بلکہ کوہسار کا ہر ہر گائوں، گراں، ہل اور ڈھوک کے ہر ہر گھر سے آگ کے بھانبھڑ بھڑکنے لگے ۔ آج کے برمی مظلوم و محکوم، بے کس و بے بس مسلمانوں کی طرح اس عہد کے قبائل کوہسار کو بھی اپنی جان، مال، عزت و آبرو بچانے کیلئے کوہسار بھر کی نکروں اور ناقابل رسائی پہاڑی چوٹیوں اور مقامات کی جانب مستقل بہکیں لے جانی پڑیں اور وہ واپس اس وقت آئے جب امن ہو گیا تھا۔

انجمن اصلاح قوم ڈھونڈ سے قبل[ترمیم]

میرا رب کبھی بھی اپنے محکوم اور مظلوم بندوں کو بے آسرا نہیں چھوڑتا ، کوئی نہ کوئی سر سید ان کی رہبری، رہنمائی، حوصلہ افزائی اور مدد کیلئے پیدا کر دیتا ہے، سرکل بکوٹ میں موجودہ یونین کونسل بکوٹ ہمیشہ سے زرخیز دماغوں کی سر زمین رہی ہے ،کوہسار بالخصوص یونین کونسل بیروٹ کے صحافی، مورخ، ماہر علم البشریات اور بلاگر محمد عبیداللہ علوی کے مطابق یہاں پر ایک فیوڈل لارڈ ، سردار حسن علی خان ، رہتے تھے۔ ان کے ہاں 1812 میں ایک بچہ پیدا ہوا ، نام دوست محمد رکھا گیا، اس نے معرکہ بالا کوٹ اور اس کے بعد ہری سنگھ نلوہ کے کوہسار میں مظالم کے خلاف قبائل کوہسار کی پروانہ وار جنگ آزادی میں نہ صرف خود حصہ لیا بلکہ جب مری میں ، سردار شیرباز خان اور ان کے ساتھوں کو توپ زد کیا گیا تو وہ اس سانحہ فاجعہ کا چشم دید گواہ بھی تھا ۔،ان واقعات نے اسے دوست محمد کے بجائے سردار دوست محمد خان بنا دیا، اس نے اپنی ڈھونڈ عباسی برادری سمیت تمام چھوٹے بڑے قبائل کو مشورہ دیا کہ اگر تم نے اپنی زندگی، اپنی املاک اور اپنی عزت و آبرو بچانی ہے تو یہ بات اب تسلیم کرنا پڑے گی کہ ۔

  • سکھا شاہی کا کوہسار سے خاتمہ ہو چکا ہے اور اب ہمارے نئے حاکم دیار فرنگ کے انگریز ہیں ۔
  • انگریز اب کوئی واہمہ نہیں اور وہ زندہ حقیقت ہیں ۔
  • آگے بڑھنے کیلئے ان سے تعاون ضروری ہے ۔
  • ہم تب ہی کامیاب ہوں گے جب مالی اور تعلیمی اعتبار سے مستحکم ہوں گے ۔

سردار دوست محمد خان اور ان کا عہد[ترمیم]

وہ اپنی اس علاقائی حکمت عملی کی بدولت ایبٹ آباد انتظامیہ کے برابر کرسی نشین قرار دئیے گئے سرکل بکوٹ میں ہونے والے ہر معاملہ میں ان سے مشاورت کی جانے لگی ۔ 1865 میں جب ہزارہ میں پولیس ڈیپارٹمنٹ کی تشکیل ہوئی تو سردار دوست محمد خان کے کہنے پر ہی سرکل بکوٹ کے بیچ پولیس سٹیشن اپنے گھر کے قریب مرکزی مقام پر بنوایا، اپنی اراضی بھی پیش کی اور اس کا مقصد یہ تھا کہ برٹش پولیس سرکل بکوٹ میں نہ دندنائے اور نہ ہی ان کی اپنی ڈھونڈ عباسی برادری کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی یا ظلم ہو ۔ انہوں نے سرکل بکوٹ بھر میں سب سے پہلے یو سی بکوٹ میں ورنیکلر پرائمری سکول بنوایا تا کہ ان کی برادری سمیت تمام قبائل جدید تعلیم سے استفادہ کر سکیں۔انہوں نے اپنے دو بیٹوں سردار آزاد خان اور سردار عبدالرحمان خان کو بھی جدید تعلیم دلوائی، یہ سلسلہ آگے بڑھا اور ان کے ایک پوتے سردان عثمان نے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے سیاست میں بھی نام کمایا، دیگر پوتوں میں سردار خلیل عباسی ہزارہ ہل ٹرسٹ کے سیکرٹری اور سردار سعید عباسی آڈیٹر جنرل آف آزاد کشمیر اس لئے بنے کہ اپنے دادا کی وصیت پر اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔۔۔۔ ایک ان کے بیٹے آزاد خان نے بھی اعلٰی تعلیم حاصل کی اور وہ کمیشن آفیسر اور بعد میں برٹش انڈیا کے ڈپلومیٹ بھی بنے۔ سردار دوست محمد خان نے سفر کے ذرائع میں بھی آسانیاں پیدا کرنے کیلئے نتھیاگلی اور کوہالہ براستہ بکوٹ تک گھوڑوں کی پگڈنڈی بھی بنوائی۔ ان کے چمبیاٹی کے ڈوگرہ کشمیر میں پہلے ڈی ایس پی سردار محمد اکرم خان کے ساتھ رشتہ داریاں بھی تھیں اور اس طرح دونوں خاندانوں کے افراد کا دونوں طرف آنا جانا بھی تھا ۔ 1870 کے لگ بھگ ایک شادی کی تقریب میں سردار دوست محمد خان نے سردار اکرم خان کے ساتھ اپنی برادری ڈھونڈ عباسیوں کے اندر فضول رسومات اور اس کے نتیجے میں ان کی اقتصادی بد حالی پر تبادلہ خیال کیا۔ بکوٹ سمیت بیروٹ اور دیگر علاقوں میں بھی ہندو ساہوکار تھے جو غمی خوشی کے موقع پر غریب مسلمانوں کو قرض دیتے اور جب یہ قرض سود سمیت قرض دار کے بس میں نہ رہتا تو ساہو کار اس کے خلاف ڈگری حاصل کر کے اسے جائیداد، گہنے اور دیگر املاک سے محروم کر دیتا۔ یہ صورتحال کوہسار کے مسلمانوں کیلئے سخت تکلیف دہ تھی اور اس کیخلاف سرکل بکوٹ میں موضع سنگل کے ایک عالم دین مولانا فقیراللہ سنگلوی برسوں سے ایک خاموش تحریک بھی چلا رہے تھے مگر کوئی سنتا نہیں تھا۔ 1888 میں سرکل بکوٹ کا سر سید اپنے رفیق اعلیٰ کے پاس پہنچ گیا۔ 1889 میں دھیرکوٹ کے دو ڈھونڈ عباسی خاندان ہندو ساہو کاروں کے ہاتھوں اپنی املاک اور اراضی سے محروم ہو گئے۔ ان مسلمان خاندانوں کی ساہوکاروں کے ہاتھوں ضبط املاک اور اراضی بازیاب کرانے کے ساتھ 1890 میں چمبیاٹی میں انجمن اصلاح قوم ڈھونڈ کی بنیاد رکھی گئی، سردار آزاد خان اس انجمن کے مشیر مقرر کئے گئے ۔۔۔۔ اس لئے دیکھا جاوے تو اس انجمن کا اصل بانی اور صلاح کار یو سی بکوٹ کےسر سید سردار دوست محمد خان ہی تھے۔ایک طرف شمالی سرکل بکوٹ میں سردارحسن علی خان کے آباو اجداد بھی ایبٹ آباد انتظامیہ کے کرسی نشین بنے ، انہوں نے گڑھی حبیب اللہ کو اپنی جاگیردارانہ اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنایا وہاں ہی تھانہ بھی اپنی انگریز کی عطا کردہ حاکمیت کو مزید مستحکم کرنے کیلئیے بنوایا ۔۔۔۔ مگر گڑھی حبیب اللہ میں پرائمری سکول 1925 تک نہیں بن سکا اور نواب ابن نواب سردار حسن علی خان بکوٹ ورنیکلر سکول کے طالب علم رہے ( یہ بات بکوٹ کے صحافی نوید اکرم عباسی نے راقم الحروف کو بتائی تھی) ۔۔۔۔ بوئی کے ان نوابوں کو تمام تفویض کردہ انگریزی اختیارات کے باوجود اتنی توفیق بھی نہیں ہوئی کہ وہ ککمنگ سے گڑھی حبیب اللہ تک اپنی جاگیر میں کوئی پختہ راستہ ہی بنوا دیتے۔ وزیر اعلیٰ اقبال خان جدون نے بوئی کو گڑھی حبیب اللہ سے سڑک کے ذریعے 1975 میں جوڑا جبکہ 1998 وزیر اعلیٰ سردار مہتاب احمد خان نے کوہالہ سے براستہ ککمنگ بوئی تک روڈ سے لنک کیا اور ۔۔۔۔۔ بمبہ سردار اور امیدوار قومی اسمبلی جاوید اقبال کی رہی سہی جاگیرداریت اور نوابی پر اسی کے کھیت میں ہل چلا کر اس کا غرور خاک میں ملا دیا ۔۔۔۔ اسی سردار حسن علی خان کا ایک پوتا رستم خان آج کل ۔۔۔۔ مسلم لیگ نون(مہتاب) کا بوئی میں عہدایدار بھی ہے ۔