تبادلۂ خیال:انجیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

Untitled[ترمیم]

آپ 79.210.113.14 نے تخریب کاری کرتے ہوئے، مضمون کو مٹا دیا ہے۔ اگر آپ کے خیال میں مسیحی موقف صحیح بیان نہیں ہؤا تھا، تو آپ معروف مسیحی موقف کے بیان کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ یہ نہیں کرتے تو مضمون کا واپس پلٹا دیا جائے گا۔--Urdutext 23:26, 7 مئی 2008 (UTC)

مضمون کو واپس پلٹایا جا رہا ہے۔ 79.210.113.14 کی تحریر نیچے دی ہے۔ اس میں سے کوئ کارآمد بات مضمون میں شامل کی جا سکتی ہے۔

انجیل یونانی لفظ بمعنی خوشی ۔ پاک انجیل ( کلامء مسیحا )، چار کتب یعنی متی، مرقس، لوقا و یوحنا اور انکے علاوہ، رسولوں کے اعمال، رسولوں کی معرفت خطوط اور آخری کتاب مکاشفہ پر مشتمل ہے۔ انجیل متی ، انجیل مرقس ، انجیل لوقا کو اناجیل خلاصہ کہتے ہیں۔ کیونکہ ان میں واقعات کے ایک ہی سلسلے کے خلاصہ جات دیے گئے ہیں۔ برخلاف یوحنا کی انجیل کے، کہ اس میں دوسری قسم کے واقعات کا بیان ہے۔ یہ اناجیل مصدقہ کہلاتی ہیں۔ جیسے خدا، لاتبدیل ہے، اسی طرح اسکا پاک کلام یعنی توریت، زبور و انجیل، ابدی و اٹل ہے۔ خدا کی مانند پاک مسیحا نے، اپنی زمینی حیات میں، متعدد گناہگار لوگوں کے گناہ معاف کیے اور خدا کی مانند یہی پاک یسوع المسیح، آج بھی، آپکے تمام گناہ، معاف کرنے پر قادر ہے۔ محمدی حضرات، اگر یہاں، پاک انجیل کی بابت کچھ لکھنا چاہیں تو انکو صرف انگلش میں یہاں موجودہ ویب سائیٹ کے مواد کا درست و مکمل ترجمہ کرنا ضرور ہے۔ محمد، محمدن اللہ و محمدن قرآن، ان تینوں میں سے کوئی بھی، کلامء خدا یعنی پاک انجیل کے خلاف، تحریف و منسوخی کا، کوئی دعوی، ہرگز پیش نہیں کر سکا۔

--Urdutext 10:27, 8 مئی 2008 (UTC)


مضمون کے مختصر بیان کو میں نے تفصیل دی ہے اور تین چار سرخیوں میں بانٹ دیا ہےـ نامناسب ہو تو ترمیم کر لیجیے، پچھلی تحریر یہا درج ہےـ

انجیل یونانی لفظ بمعنی خوشی ۔ کتب سماوی (توریت، زبور ، انجیل ، قرآن) میں سے ایک صحیفہ ، جو حضرت عیسٰی علیہ سلام پر نازل ہوا۔ اس کتاب مقدسہ کے اصلی اورابتدائی نسخے ناپید ہیں۔ اگر ہوتے بھی تب بھی بعد نزول قرآن پاک اس کو منسوخ تصور کیاجاتا۔ اہلاسلام اسے بھی الہامی کتاب مانتے ہیں اور اس کا ذکر قران شریف میں جگہ جگہ آیا ہے۔ سب سے پہلے 631ھ اور 640ھ کے درمیان عمر بن سعد کے حکم سے انجیل کا عربی ترجمہ کیا گیا اور اس کے بعد خود مسلمانوں نے عربی دان عیسائیوں سے اس کا ترجمہ کرایا۔

انجیلیں موجودہ صورت میں چار ہیں۔ انجیل متی ، انجیل مرقس ، انجیل لوقا ، انجیل یوحنا۔ ان میں سے پہلی تین کو اناجیل خلاصہ کہتے ہیں۔ کیونکہ ان میں واقعات کے ایک ہی سلسلے کے خلاصہ جات دیے گئے ہیں۔ برخلاف یوحنا کی انجیل کے کہ اس میں دوسری قسم کے واقعات کا بیان ہے۔ یہ اناجیل مصدقہ کہلاتی ہیں۔ عیسائیوں کی چرچ ہسٹری کی رو سے اور کئی انجیلیں بھی ہیں لیکن کلیسا ان کو مقدس نہیں مانتا۔ ان میں سے ایک انجیل پر بناس کی کہی جاتی ہے جس میں نبی آخرالزمان کا نام فارقلیط دیاگیا تھا۔ اور جس کا ترجمہ محمد ہے۔ ان انجیلوں میں بھی وقتاً فوقتاً تحریف ہوتی رہی ہے۔ کیونکہ کئی جگہ سے آیتیں اڑا دی گئی ہیں اور کئی فقرات کو بدل کر ان کے معنی بدل دیے گئے ہیں۔ اس قسم کی تحریفات کی وجوہ جواز یہ بیان کی جاتی ہیں کہ نئے اور زیادہ مصدقہ نسخے دستیاب ہونے کے باعث موجودہ نسخوں کی تطبیق اور تصحیح لازمی تھی۔

جہاں جہاں حوالوں میں "حوالہ درکار" درج ہیں ، وہاں میں عنقریب حوالہ ڈال دوں گی ـ -- قائلہ 05:56, 12 مئی 2009 (UTC)